سوتیلے بھائی

 

 



سوتیلے بھائی

میرا نام رضیہ ہےمیری آنکھ ایک یتیم خانے میں کھلی تھی اور بچوں کی طرح مجھے نہیں پتا میرے ماں باپ کون تھے۔بعقول ہمارے یتیم خانے کے منیجر کے مجھے کوئی دروازے پر چھوڑ گیا تھا ۔تب سے لے کر آج تک میں کبھی اپنے ماں باپ کا پتا نہیں چلا سکی۔میری عمر 14 سال ہو چکی تھی۔جوانی میں قدم رکھ دیا تھا۔ایک دن مجھے منیجر نے اپنے آفس میں بلایا،بلانے کا مقصد مجھے جانے کے بعد پتا لگا کہ مجھے کوئی فیملی اڈاپٹ کرنا چاہ رہی تھی جو ان کے آفس میں بیٹھی ہوئی تھی وہ دو میاں بیوی مجھ سے بہت پیار سے پیش آئے اور مجھ سے کافی باتیں کی مجھے بھی ان سے باتیں کر کے اچھا لگا ،میں نے ان کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی ۔یتیم خانے کو چھوڑنے کا دکھ بھی ہو رہا تھا یہاں میں نے زندگی کے 14 سال گزارے تھے،کافی دوست بنائے تھے پر جانے کی خوشی بھی تھی۔میں نے اپنا سامان پیک کیا اور ان کی کار میں بیٹھ کر ان کے ساتھ گھر کی طرف چل دی۔رستے میں انہوں نے اپنا تعارف کروایا میاں کا نام الطاف تھا اور ان کی بیوی کا نام آسیہ تھا ان کے 2 بیٹے تھے ان کو بیٹی کی خواہش تھی اس لیئے انہوں نے مجھے گود لیا تھا۔ گھر پہنچے کر انہوں نے اپنے بیٹوں سے میرا تعارف کروایا بڑا بیٹا 18 کی عمر کا تھا اس کا نام سلیم تھا اور چھوٹا بیٹا 16 سال کا تھا اس کا نام نعیم تھا۔انہوں نے روکھے منھ سے مجھ سے ہاتھ ملایا ان کی ناراضگی کا پتا بعد میں چلا کہ مجھے نعیم کا کمرا دیا گیا تھا رہنے کے لیئے اور نعیم کو سلیم کے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ان دونوں نے مجھے کبھی بہن تسلیم نہیں کیا تھا ہمیشہ میں کوشش کرتی تھی ان کے ساتھ گھل ملنے کی پر ان کی سرد مہری دیکھ کر میں پیچھے ہٹھ جاتی تھی۔میرے سوتیلے ماں باپ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے میرا خیال رکھتے تھے انہوں نے مجھے اپنی بیٹی ہی سمجھا تھا ہمیشہ ، ایک دن میرے امی ابو گھر سے باہر دوسرے شہر گئے تھے اور میں گھر اکیلی تھی ۔میں نے دوپہر کا کھانا بنایا اور اپنے بھائیوں کو بلانے ان کے کمرے میں گئی میں نے دیکھا دروازہ بند تھا میں نے دھکا لگایا تو دروازہ کھل گیا اندر کا منظر دیکھ کر میرے پیروں سے زمین کھسک گئی۔ سلیم اور نعیم دونوں ایک بلیو فلم دیکھ رہے تھے اور ان کے ہاتھ اپنے ٹراؤزر میں ڈالے ہوئے تھےکمرے میں سگریٹ کی سمیل پھیلی ہوئی تھی۔مجھ کو دیکھ کر دونوں گھبرا گئے نعیم نے مجھے غصے سے ڈانٹا اور کہا دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے۔ میں ڈر کر سہم گئی اورجلدی سے ان کے کمرے سے نکل آئی اور اپنے کمرے میں آ گئ تھوڑی دیر بعد کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو سامنے سلیم کھڑا تھا۔میں نے پوچھا جی بھائی سلیم :سوری نعیم نے تم سے بد تمیزی کی تم میرے کمرے کی صفائی کر دو گی میں:جی بھائی میں ابھی کر دیتی ہوں میں سلیم کے ساتھ چل دی کمرے میں داخل ہوئی تو مجھے نعیم نے دبوچ لیا اور مجھے بیڈ پر گرا دیا میں گھبرا گئی میں نے غصے سے کہا مجھے چھوڑو نعیم :بہن چود تم ہماری شکایت ابو کو لگا دو گی آج کل تم ان کی بہت چہیتی ہو میں:نہیں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی مجھے جانے دو میں بیڈ پر اس طرح لیٹی تھی میرے پاؤں زمین پر تھے مجھے بازؤں سے نعیم نے پکڑا ہو ا تھا پاؤں کی سائیڈ پر سلیم آ گیا تھا میرا سر بیڈ سے پیچھے کی جانب تھا میں نعیم کو تو دیکھ سکتی تھی سلیم کو نہیں مجھے نہیں پتا وہ کیا کر رہا تھا۔اچانک اس نے میری شلوار کو نیچے اتار دیا میں سمجھ گئی سلیم کیا کرنا چاہ رہا ہے میں نے اس کو واسطے دینا شروع کر دئےاس نے اب میری شلوار کو پورا اتار دیا میں نے ٹانگیں چلانا چاہی پر اس نے میری ٹانگوں کو دبوچ لیا اور میں دیکھ نہیں پا رہی تھی وہ کیا کر رہا ہے اچانک اس نے اپنا منھ میری چوت پر رکھ دیا اور اس کو چاٹنے لگ پڑا کچھ دیر چاٹنے کے بعد اس نے منھ ہٹایا اور نعیم سے کہا بھائی اسکی چوت تو بہت مزے کی ہے سالی سیل پیک ہے آج تو لا ٹری نکل آئی نعیم:میں بھی چکھنا چاہوں گا زرا تم اس کے ہاتھ پکڑو انہوں نے اتنی پھرتی سے اپنی جگہ بدلی میں اٹھ ہی نہیں پائی اب نعیم میری چوت کو مزے سے چاٹ رہا تھا اور سلیم میرے ہونٹوں پر زبردستی کس کر رہا تھا سلیم :بہن چود اب بس بھی کر میرا لنڈ پھٹنے پر آیا ہوا ہے پیچھے ہٹ جا نعیم :بھائی مجھے اسکی اوپننگ کرنے دو سلیم:میں تم سے بڑا ہوں میں ہی اوپننگ بیٹنگ کروں گا میں پچ کو تمھارے کھیلنے کے لائق تو بنا دوں دونوں ہنس پڑے۔انہوں نے دوبارا اپنی جگہ بدلی میں نے آخری کوشش کے طور پر اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی پر کچھ فائدہ نہیں ہوا اس نے اپنے لنڈ کو میری چوت پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے سے پورا لنڈ اندر ڈال دیا مجھے درد تو ہوئی پر اتنی نہیں جتنی پہلی بار ہوئی تھی اب چیخوں کی جگہ سسکاریوں نے لے لی تھی،اب وہ مجھے چود رہا تھا جم کر جھٹکے مار رہا تھا ۔میرے جسم نے اچانک اکڑنا شروع ہو گیا مجھے لگا میرے جسم کا سارا خون میری چوت کی جانب منتقل ہو گیا ہو میری آنکھیں جیسے اوپر چڑھ گئی تھیں۔نعیم :سالی چوت تیری ویسی ہی اتنی تنگ ہے اس کو اور کیوں بھینچ لیا ہے میں اس طرح جلدی چھوٹ جاؤں گا سلیم:ارے پگلے وہ فارغ ہونے والی ہے جم کر چدائی کر ایک دو جھٹکوں کے بعد ہی میجھے ایسے لگا میری چوت نے پانی چھوڑ دیا ہو اور اس کے بعد نعیم نے اپنا لنڈباہر نکالا اور میرے منھ کی جانب آ کر ساری منی میرے منھ پر گرا دی اسکی منی میرے منھ اور بالوں پر گری جسکو اس نے اپنی انگلی سے میرے منھ میں ڈالنے کی کوشش کی میں نے سر کو پیچھے ہٹانا چاہا پر اس نے مجھے بالوں سے پکڑا اور زبردستی اپنی انگلی کو میرے منھ میں ڈال دیا عجیب نمکین سا زائقہ تھا اس نے مجھے نگلنے کو کہا میں نے ناچار نگل لی اس کے بعد اس نے جتنی منی میرے منھ پر لگی تھی اسکو انگلی سے اکھٹی کر کر کے مجھے کھلایا۔میں نے روتے ہوئے اپنے کپڑے اٹھانے چاہےپر انہوں نے کہا سالی ابھی ایک ایک راؤنڈ اور باقی ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا اور بلیو فلم چلا دی میں نے زندگی میں کبھی سیکسی فلم نہیں دیکھی تھی اس میں ایک لڑکی 5 بندوں سے سیکس کر رہی تھی اور انجوائے کر رہی تھی۔میں نے نطریں جھکائی ہوئی تھیں پر اس لڑکی کی آوازیں میرے کانوں میں گونج رہی تھیں،وہ دونوں فریج سے کوک کے کین اٹھا لائے تھے ایک مجھے بھی دیا میرا گلا خشک ہو چکا تھا میں نے خاموشی سے کین پینا شروع کر دیا۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ مووی دیکھ رہے تھے ساتھ ساتھ میرے جسم سے کھیل رہے تھے۔تھوڑی دیر میں ان کے لنڈ دوبارا تیا ر ہوچکے تھے انہوں نے کہا چلو ساتھ میں شاور لیتے ہیں آخری راونڈ وہاں پر ہی ہوگا میں خاموشی سے ان کے ساتھ چل دی، چلنے میں تھوڑی تکلیف ہو رہی تھی واش روم میں جا کر انہوں نے مجھے بیٹھنے کو کہا اور مجھے اپنا لںڈ چوسنے کو کہا۔ میں چپ چاپ ان کی باتیں مان رہی تھی میرے سامنے 2 موٹے تازے لنڈ میرے منھ میں جانے کے لئے بے تاب تھے۔میں نے نعیم کا لنڈ منھ میں لیا اور بلیو فلم میں جس طرح لڑکی چوس رہی تھی اس طرح اس کے لنڈ کو چوسنا شروع کر دیا۔ نعیم نے کہا اپنے دانتوں کو نہیں اپنے ہونٹوں کو استعمال کرو اس نے میری انگلی کو اپنے منھ میں لے کر مجھے چوس کر دکھائی اور اپنے منھ کو میری اانگلی پر اوپر نیچے کیا کبھی زبان نکال کر میری انگلی کو چاٹ کر مجھے سمجھایا کہ کیسے لنڈ کو چوستے ہیں۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا تو وہ بہت خوش ہو گیا۔کوئی 5 منٹ چوسنے کے بعد وہ سامنے کموڈ پر بیٹھ گیا اور مجھے اپنے لنڈ پر بیٹھنے کا کہا میں اسکے لنڈ کو اپنی چوت پر سیٹ کیا اور اس کے لنڈ کو آہستہ اہستہ اندر لے لیا اب میں اس کے لنڈ پر اوپر نیچے ہو رہی تھی کچھ دیر کے بعد میری ٹانگیں تھک گئی تو اس نے مجھے زمین پر گھوڑی بننے کو کہا اور خود میری چوت کو جم کر چودنے لگا سلیم اب میرے منھ کی جانب آیا اور مجھے اپنا لنڈ چوسنے کو کہا ایک بھائی میری چوت کو چود رہا تھا اور ایک بھائی میرے منھ کو۔ اس بار کوئی 20 منٹ کے بعد نعیم نے اپنے لنڈ کو باہر نکالا اور اپنی گرم گرم منی میری پیٹھ پر گرا دی اب سلیم نے میرے منھ کو چھوڑا اور میری چوت کی طرف آیا،اس نے تیل کی شیشی اٹھائی اور اس نے کچھ تیل میری گانڈ پر گرایا کچھ اپنے لنڈ پرمیں سمجھی نہیں تھی وہ کیا کرنا چاہا رہا ہے اس نے میرے چوتڑ کھولے اور اپنے لنڈ کی ٹوپی کو میری گانڈ پر رکھ کر جھٹکا مارا مجھے ایسا لگا میری آنکھوں کے سامنے تارے ناچ رہے ہوں درد کی شدید لہر میری گانڈ میں دوڑ گئی۔میں نے اتنی زور سے چیخ ماری میرا گلا بیٹھ گیا میں نے اس کو رو رو کر واسطے دینا شروع کر دیے




 سلیم:سالی تیری گانڈ بہیت ٹائیٹ ہے مجھے لگ رہا ہے میرے لنڈ کی کھال اتر رہی ہو ابھی صرف ٹوپی اند گئی ہے پورا لنڈ باقی ہے یہ سن کر ہی میرے اوسان خطا ہو گئے اس نے کہا میں پورا نہیں ڈالوں گا پر تیرے اس سوراخ کو تو رواں کرنا ہے نا آگے چل کر تو بہت کام آئے گی ہم دو بھائیوں کے،ابھی تو صرف آدھا بھی نہیں گیا تیرے اندر اس نے ایک دو جھٹکے مارے تو میں جیسے درد کے مارے بیہوش ہونے کے قریب ہو گئی تھی میں مسلسل رو رہی تھی ان دو جانوروں نے میری حالت خراب کر دی تھی شائید میری گانڈ کی سختی کی وجہ سے وہ جلدی فارغ ہو گیا مجھے لگا میری گانڈ میں کوئی گرم پگھلا ہوا لوہا گرا دیا ہو۔اس نے کچھ جھٹکے کھانے کے بعد اپنا لنڈ باہے نکال لیا۔مجھے ایسا لگ رہا تھا میری گانڈ میں کسی نے مرچیں بھر دی ہوں جلن اور درد بہت ہو رہا تھا ۔اس کے بعد ہم نے شاور لیا میں نے اپنے کپڑے پہنے ۔انہوں نے مجھے بیڈ کی چادر تبدیل کرنے کو کہا میں نے چادر تبدیل کی اور پرانی چادر کو جا کر دھویا بھی تاکہ اس پر لگے ہوئے میرے کنوارپن کے خون کے داغ دھل جائیں۔چادر بدلنے کے بعدمیں اپنے کمرے میں آگئی پورے جسم میں درد تھا میں بیڈ پر لیٹ کر اپنی قسمت پر رو رہی تھی۔ روتے روتے شام ہو گئی شام کو اٹھی تو فون کی گھنٹی بجی میں نے فون اٹھانا چاہا تو سلیم جلدی سے آیا اور مجھے دھمکاتے ہوئے کہا یہ یقینا ابو کا فون ہوگا تم نے ان کو کچھ بھی بتایا تو ہم تو ان کی اپنی اولاد ہیں ہم کو وہ کچھ نہیں کہیں گے تم کو گھر سے نکال دیں گے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ فون اٹھانے کے بعد ابو نے مجھ سے حال احوال پوچھا میرا دل کیا میں زور زور سے چیخ کر ان کو انکے بیٹوں کے کرتوت بتا دوں پر مجھے سلیم کی دھمکی یاد آگئی تھی۔ میں نے ان کو کہا سب ٹھیک ہے آپ کب واپس آ رہے ہو انہوں نے دل دہلا دینے والی خبر سنا ئی کہ ہم آج نہیں آ سکتے کل دوپہر تک ہم پہنچ جائیں گے میں نے فون رکھ دیا سلیم نے دوسرے کمرے میں رکھے ہوئے ایکسٹینشن سے ساری باتیں سن لی تھیں اور وہ خوش ہو کر اپنے بھائی کو بتا رہا تھا دونوں بھائیوں کی خوشی کی وجہ میں سمجھ رہی تھی وہ آج کی رات مجھ سے اپنی گندی خواہشوں کواوراچھے طریقے سے سر انجام دینے والے تھے۔ شام کو سلیم باہر نکل گیا میں خاموشی سے گھر کے کام کرتی رہی کوئی گھنٹے کے بعد واپس آیا تو ساتھ میں کھانا لے آیا جو ہم نے مل کر کھایا میں خاموش رہی۔کھانے کے بعد میں نے برتن اٹھائے اور دھونے لگ پڑی کچھ دیر بعد سلیم نے مجھے آواز دی اور دو گلاس دودھ لانے کو کہا میں نے دودھ کو گرم کیا اور گلاسوں میں ڈال کر ان کے کمرے کے باہر آ کر دستک دی مجھے اندر جاتے ڈر لگ رہا تھا۔سلیم نے کہا اندر آ جاؤ میں:بھائی آپ دودھ پکڑ لیں مجھے گھر کا کام ہے سلیم:کام کی بچی میں نے کہا نا اندر آؤ ورنہ تجھے تیرے کمرے میں بھی آ کر چود سکتے ہیں۔ میں ججھک کر دروازہ کھول کر اندر چلی گئی ۔کمرے میں دونوں بھائی بیڈ پر بیٹھے تھے،میں نے ان کو دودھ پکڑایا سلیم نے جیب سے دو ٹیبلیٹ نکالی اور ایک خود کھائی اور دوسری نعیم کو دی جو اس نے بھی کھا کر خالی گلاس میرے حوالے کر دیا۔میں خالی گلاس لے کر واپس مڑنے لگی تو سلیم نے میری گانڈ پر زوردار تھپڑ مارا اور کہا ۔ جان تیار رہنا یہ گولی تیرے لئیے کھائی ہے آج تجھے مزے کی بلندیوں پر پہنچائیں گے۔ میں کچھ سمجھ نہیں پائی اور سر جھکا کر ان کے کمرے سے نکل آئی۔ میں کچن میں گلاس رکھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی ابھی کمرے تک نہیں پہنچی تھی تو مجھے سلیم نے آواز دی اور کہا آ جاؤ میرے کمرے میں ۔ میں نے سر ہلا کر انکار کیا اور کہا نہیں میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے مجھے سونے دو۔ سلیم:بہن چود سالی رانڈ ہم نے گولی کھائی ہے ٹائمنگ والی کچھ دیر میں اس کا اثر شروع ہو جائے گا ۔ میں:نہیں مجھ کو دوپہر والا درد ابھی تک ہو رہا ہے سلیم نے غصے سے آ کر میرے بال پکڑ لئیے اورکہا تم کو پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی شائید میں:اچھا بال چھوڑو میں آتی ہوں اس نے جیسے بال چھوڑے میں نے بھاگ کر اپنے کمرے میں جانا چاہا پر اس نے مجھے پکڑ لیا اور اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آیا۔ کمرے میں ٹی وی پر بلیو فلم چل رہی تھی ۔دونوں مل کرفلم دیکھنے لگ پڑ ے اور مجھ کو بیچ میں بٹھا لیا دونوں نے اپنے لنڈ ٹراؤزر سے باہر نکال لیئے اور مجھ کو پکڑنے کو کہا میں نے دونوں مل کرفلم دیکھنے لگ پڑ ے اور مجھ کو بیچ میں بٹھا لیا دونوں نے اپنے لنڈ ٹراؤزر سے باہر نکال لیئے اور مجھ کو پکڑنے کو کہا میں نے دونوں ہاتھوں سے ان کے لنڈ کو پکڑ لیا۔میں دونوں کے لنڈ کو پکڑ کر بیٹھی بلیو فلم دیکھ رہی تھی۔اب نعیم نے اپنا ہاتھ میری شلوار میں ڈال دیا اور سلیم میرے مموں کو پکڑ کر دبانے لگ پڑا ۔نعیم نے اپنی انگلی میری چوت میں ڈال دی اور سلیم سے کہا سالی کی چوت گیلی ہو رہی ہے یہ بھی انجوائے کر رہی ہے اب دونوں مجھ پر ٹوٹ پڑے ایک میری چوت کو مسل رہا تھا اوردوسرا میرے بوبس کونوچ رہا تھا ۔کبھی نعیم مجھے کس کرنے لگ پڑتاتو کبھی سلیم، اب دونوں فل تیا ر ہو چکے تھے ہم بیڈ پر آ گئےان دونوں نے اپنے کپڑے اتار دیئے تھےمجھے بھی کپڑے اتارنے کو کہا مجھے پتا تھا اب کوئی اور چارہ نہیں ہے اس لئے ان کی بات مان کر میں نے اپنے کپڑے اتار دئے اور بیڈ پر لیٹ گئی نعیم میری چوت کی طرف آ گیا اور اپنے منھ کو میری چوت پر رکھ کر اپنی زبان سے چاٹنے لگ پڑا اس کی زبان کبھی میری چوت کے اندر جاتی کبھی میری چوت کے اوپر بنے ہوئے دانے کو چاٹتتی ۔مجھے اب مزہ آ رہا تھا میرے منھ سے مزے سے سسکاریا ں نکل رہی تھیں۔سلیم نے اپنے لنڈ کو میرے منھ کے پاس لا کر مجھے اس کو چوسنے کا کہا




میں نے خاموشی سے اس کے لنڈ کو منھ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا میرے چوسنے کی وجہ سے اس کا لنڈ اکڑنا شروع ہو گیا کافی دیر تک چوسنے کے بعد سلیم نے مجھے اپنے اوپر آنے کو کہا اور خود لیٹ گیا میں نے اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے اوپرسیٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر لینا شروع کر دیا آدھے سے زیادہ اندر جانے کے بعد مجھے ہلکی ہلکی درد شروع ہوگئی میں نے اس کو رکنے کا کہا پر اس نے نیچے سے زوردار جھٹکا مارا اور پورا لنڈ میری چوت کی گہرائیوں میں اتار دیا۔میرے منھ سے ہلکی چیخ نکلی اب اس نے مجھے اوپر نیچے ہونے کا کہا نعیم اٹھ کر واش روم چلا گیا اور میں سلیم کے لنڈ پر اوپر نیچے ہونا شروع ہو گئ کچھ دیر بعد نعیم واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں تیل کی شیشی دیکھ کر میں سمجھ گئی وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے ۔میں نے سلیم کے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کی پر اس نے مجھ دبوچ لیا اور پیچھ سے نعیم نے تیل میری گانڈ کے اوپر انڈیل دیا اور کچھ تیل انگلی کی مدد سے میری گانڈ کے سوراخ کے اندر تک ڈال دیاباقی تیل اس نے اپنے لنڈ پر مل لیا اور بیڈ پر چڑ ھ کر اپنے لنڈ کو میری گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کر نے لگا میں نے کہا پلیز مجھے پیچھے سے نا کرو مجھے بہت درد ہوتا ہے اس نے کہا میں صرف ٹوپی ڈالوں گا تم کو زیادہ درد نہیں ہوگا۔ میں چپ ہو گئی اس نے تھوڑا زور لگاکر اپنی ٹوپی کو میری گانڈ میں گھسا دیا میں نے درد کے مارے تکیے پر دانت گاڑ دئیے درد تو تھا پر برداشت ہو رہا تھا اب نیچے سے سلیم نے دوبا رہ دھکے مارنے شروع کر دئیے ایک دم نعیم نے پورا زور لگایا اوراپنا لنڈ پورا میری گانڈ میں گھسا دیاتیل کی وجہ سے اسکا لنڈ میری گانڈ کو چیرتا ہوا اندر چلا گیا۔میں نے چیخ ماری اور زبح کی ہوئی مرغی کی طرح تڑپنے لگ پڑ ی میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے خود کو کوس رہی تھی کہ میں کن جانوروں میں پھنس گئی ہوں۔کچھ درد تھما تو ان دونوں نے دھکے مارنے شروع کر دئیے دونوں کسی مشین کی طرح مجھے چود رہے تھے آج تو فارغ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے میں دعا مانگ رہی تھی کہ جلدی فارغ ہوں پر شائید یہ اس گولی کا کمال تھا جو انہوں نے کھائی تھی۔30 منٹ کی دھواں دار چدائی کے بعد اب انہوں نے پوزیشن چینج کر لی تھی اب چوت کا محا ز نعیم نے سنبھالا تھا اور گانڈ کا سلیم نے ہم تینوں پسینے سےشرابور ہو چکے تھے میں 2 بار فارغ ہو چکی تھی 30 منٹ کی اور چدائی کے بعد سلیم نے میری گانڈ کے اندر ہی اپنی گرم منی کوانڈیل دیا تھا۔نعیم نے کچھ دیر اور چودنے کے بعد اپنے لنڈ کو میری چوت سے نکالا اور میرے منھ میں دے دیا میں نے اس کو چوسنے لگ پڑ ی اس کے لنڈ پر میری چوت کا رس لگا ہواتھا اب ایک دو بار ہی اپنے منھ کو اسکے لنڈ پر اوپر نیچے کیا تھا کہ اس نے گرم گرم منی ایک زوردار جھٹکے سے میرے منھ میں انڈیل دی میں نے اس کے لنڈ کو باہر نکالنا چاہا پر اس نے میرے منھ کو اوپر دبا دیا کچھ منی میرے حلق سے اتر گئی اور کچھ میرے منھ سے باہر نکل گئی مجھے ابکائی آنے لگی تو مجھے چھوڑا اس کا لنڈ میرے منھ سے نکل گیا اسکا لنڈ ابھی بھی جھٹکے کھا رہا تھا اور ہر جھٹکے سے اس کے لنڈ سے منی نکل کر میرے گریبان پر گر رہی تھی میں بڑی مشکل سے ابکا ئی کو روکا ۔دونوں بے حال ہو کر گر گئے تھے نعیم نے سلیم سے کہا آج تو مزہ آ گیا پہلے لگ رہا تھا ڈیڈی نے اس کو گھر لا کر غلطی کر دی ہے پر یہ تو ہم دونوں کے کھیلنے کے لئیے مست چیز ہے دونوں ہنس دئیے اس رات دونوں نے 3 ،3 بار مجھ کو چودا ان کا ارادہ تو اور بھی تھا میں نے بھاگ کر اپنی جان بچائی اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ صبح اٹھی تو جسم میں درد تھا اور رات کی تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے بخار ہو گیا تھا۔ دوپہر کو شکر ہے امی ابو واپس آ گئے مجھے بخار میں دیکھ کر امی گھبرا گئیں اور مجھے دوائی کھلائی ان کا ایثار دیکھ کر مجھے رونا آ گیا ان کے بیٹے میری عزت کو تار تار کر چکے تھے ۔شام تک میرا بخا ر بھی اتر گیا زندگی معمول پر آ گئی اب وہ دونوں اپنی امی ابو کو دکھا نے کے لئیے ان کے سامنے مجھے اپنی بہن تسلیم کر چکے تھے پر ان کو جب بھی موقع ملتا وہ دونوں میرے جسم سے کھیلتے اور میں نے بھی اب ان کے کھیل کو تسلیم کر لیا تھا اور ان کا ساتھ دیتی تھی ۔اور اب تو میں نے خود اس کھیل میں مزہ لینا شروع کر دیا تھا ۔ہم جب بھی اکیلے ہوتے بلیو فلمز دیکھتے ایک دوسرے کی جسم کی آ گ بجھاتے ۔ابو کے جانے کے بعد ایک بھائی کمرے سے باہر پہرا دیتا کہ امی نا آ جائے دوسرا بھائی مجھے چودتا ۔اگر امی ان کے کمرے کی طرف آنے لگتی تو پہرے پر کھڑ ا بھائی ہم کو اشارہ کر دیتا ہم جلدی سے ویڈیو گیم کھیلنا شروع کر دیتے اس طرح کسی کو شک بھی نہیں ہوتا۔ بس یہی کچھ ہی زندگی کا حصہ تھا۔گھر والوں اور دنیا کی نظر میں ہم بہن بھائی تھے پر اصل میں ہم ایک دوسرے کے سیکس پارٹنر۔

 



بوڑھی عورت سے دوستی ھوگئی

 

 
بوڑھی عورت سے دوستی ھوگئی

ھیلو دوستو میرا نام صفدر ھے۔ میں بہت چکنا ھوں میری باڈی شیروں جیسی ھے اور میرا لن نو انچ لمبا اور چار انچ موٹا ھے اور لن کا ٹوپہ لن سے موٹا اور پینک ھے اور لن کی ٹائمنگ بہت لمبی ھے۔ ھم گھر کے افراد چار ہیں مماپاپا بہن اور میں۔ تو دوستو میری ایک آنٹی سے دوستی ہوگئی جس کے منہ میں ایک دانت بھی نہیں تھا آنٹی سے میری دوستی کیسے ھوئی آپ دوستوں سے شیر کرتا ھوں۔ پاپا کراچی میں جوب کرتا تھا پھر پاپا نے ھم گھر والوں کو بلا لیا پھر ھم پاپا کے ساتھ رہنے لگے اس وقت میں سترا سال کا تھا یہاں میرے کچھ دوست بنے میرے دوست اکثر نگی فلمیں دیکھتے دوستوں کی وجہ سے مجھے بھی نگی فلمیں دیکھنے کی لت لگ گئی فلمیں دیکھ کر میں مٹھیں بھی بہت مارنے لگا ایک بار ایسا ھوا کے دوپہر کو مما نے مجھے اٹھایا اور کہا صفدر شگفتہ آنٹی بہت بیمار ھے اس کا کوئی نہیں ھے اسے ڈوکٹر کے پاس لے جانا ھے تم میرے ساتھ چلو میں نے کہا کون سی شگفتہ آنٹی کہا وہ جو تیسرے گھر میں رہتی ھے۔ شگفتہ آنٹی کو میں نے نہیں دیکھا تھا جب میں مما کے ساتھ شگفتہ آنٹی کے گھر گیا تو شگفتہ آنٹی کو دیکھا تو شگفتہ آنٹی بہت کمال کی عورت تھی خوبصورت سا چہرہ بڑے ممے موٹی گانڈ فگر تو ایک دم سیکسی تھا شگفتہ آنٹی ابھی بھی جوان تھی شگفتہ آنٹی کو کوئی دیکھ کر اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کے شگفتہ آنٹی بوڑھی ھے

 

شگفتہ آنٹی کے صرف منہ میں دانت نہیں تھے شگفتہ آنٹی واقعی بہت بیمار تھی بہت تیز کا بخار تھا شگفتہ آنٹی کو ھم ڈوکٹر کے پاس لے گئے پھر واپس آئے تو مما نے شگفتہ آنٹی کی دیکھ بھال کیلئے میری ڈیوٹی لگا دی اور میں شگفتہ آنٹی کی دیکھ بھال دن رات کرنے لگا اور دن رات شگفتہ آنٹی کے ساتھ رہتا شگفتہ آنٹی کا بیڈ بڑا تھا اس لئے میں شگفتہ آنٹی کے ساتھ سائڈ میں سوتا میرا بہت من کرتا کے شگفتہ آنٹی کو چود دوں کیونکہ شگفتہ آنٹی بہت خوبصورت تھی شگفتہ آنٹی کو دیکھ دیکھ کے میرا لن کھڑا رہتا۔ لیکن جب شگفتہ آنٹی کو بیماری میں دیکھتا تو بہت ترس آتا اور پیار تو بے پناہ آتا پھر آنٹی بماری سے دھیرے دھیرے ٹھیک ھونے لگی اب شگفتہ آنٹی باتیں بھی کرنے لگی اور ہماری خوب گپشپ ھوتی اور ھم دوست بننے لگے پھر شگفتہ آنٹی بلکل ٹھیک ٹھاک ھوگئی۔ ایک بار شگفتہ آنٹی نے مجھ سے کہا کوئی گلفرینڈ ھے میں نے کہا نہیں ھے۔ پھر میں نے شگفتہ آنٹی سے کہا۔ کیا آپ کو کسی سے پیار ھوا تھا تو شگفتہ آنٹی نے ٹھنڈی آہ لےکر کہا۔ کیا یاد دیلا دیا ھے میں نے کہا بتاؤ کہا میری جوانی میں مجھ پر بہت سے لڑکے عاشق تھے میں نے ان کا کبھی دل نہیں توڑا ان لڑکوں میں سے ایک لڑکا مجھے بہت پسند تھا بس اس سے بہت پیار کیا تھا وہ تھا میرا پیار پھر اس کی شادی ہوگئی بس اس سے پیار کیا تھا بس کہے کر چپ ھوگئی میں نے کہا اور کہا سناتو دیا میں نے کہا نہیں آنٹی ساری بات بتاؤ منع کرنے لگی میں بھی ضد کرتے کہا مجھے تفصیل سے بتاؤ رات کو آپ کے پاس ھوں پھر بتایا کے جس لڑکے سے مجھے پیار ھوا اسی نے میرے کنوارے پن کو ختم کیا میں نے پھر کہا صاف صاف بتاؤ آنٹی ایسے مزہ نہیں آرھا آنٹی نے مسکرا کر کہا مجھے شرم آتی ھے میں نے کہا آنٹی مجھ سے شرم نہ کرو پلز۔ پھر آنٹی نے کہا اس لڑکے نے میری دونوں سیلیں کھولیں میں نے کہا کون سی سیلیں۔ شگفتہ آنٹی نے مسکرا کر کہا میری چوت اور گانڈ کی پھر ھم بہت چدائی کرتے تھے پھر جب وہ چلا گیا مجھے چدائی کے بنا مزہ نہیں آتا تھا پھر میرے جتنے عاشق تھے ایک ایک کرکے میں سب سے مزے کرتی آنٹی کی باتیں سن کر میرا لن کھڑا ھو گیا آنٹی کے سامنے اپنے کھڑے لن کو سہلاتا اور آنٹی بھی دیکھتی میں بہت ھوٹ ھوگیا میں نے کہا آنٹی کیا اب بھی آپ کا من کرتا ھے تو آنٹی نے کہا من تو بہت کرتا ھے لیکن اب اس عمر میں مجھ سے کون کرے گا میں نے کہا آنٹی اگر برا نہ مانیں تو میں ایک بات کہوں کہا ہاں بولو میں نے کہا آپ میرے ساتھ کر سکتی ھو کہا نہیں میں نے کہا کیوں کہا ابھی تم بچے ھو اور کسی کو پتا چلا تو۔ میں نے کہا میں کسی کو نہیں بتاؤ گا پلز آنٹی۔ تو آنٹی خاموش ھوئی۔ میں پلز پلز کرتے آنٹی کو چومنے لگا اور آنٹی کے اوپر چڑھ گیا اور چومنے لگا کچھ دیر آنٹی مست رھی پھر چھڑاکر کہا میں تیری مما کی عمر کی ھوں اور اتنی دیر میں گیٹ بجنے کی آواز آئی میں نے گیٹ کھولا تو مما کھانا لائی تھی کچھ دیر باتیں کی میں نے مما سے آنٹی کے ساتھ رات رہنے کو کہا پھر مما چلی گئی میں گیٹ بند کرکے آنٹی پر چڑھ گیا آنٹی منع کرتی رہی میں لگا رھا پھر آنٹی نے کہا کھانا کھاکر مجھے دوائی کھانی ھے میں اور آنٹی نے کھانا کھایا آنٹی کی بہت تعریف کی آنٹی نے کہا مجھے دانتوں کی بیماری ھوئی اور میرے سارے دانت جھڑنے لگے اسی طرح میری ساری بتیسی ختم ھوگئی۔ پھر میں نے آنٹی کو دوائی دی میں نگا ھوکر ساری رات آنٹی کو چومتے ھوئے چدائی کا کہتا رہا لیکن آنٹی نے چدائی نہیں کرنے دی اور میں نگا ھی سو گیا صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں آنٹی کی باھوں میں تھا میں چومنے لگا آنٹی نے منع کیا اور دوسری طرف منہ کر کے لیٹی میں پیچھے سے آنٹی کو باھوں میں بھر کر مموں کو دباتے ھوئے آنٹی کی گانڈ کے ہیپ میں لن رگڑنے لگا اور آنٹی چپ کرکے پڑی رھی میں آنٹی کی گانڈ سے شلوار اتارنے لگا آنٹی نے میرا ہاتھ ہٹا دیا بہت دیر بعد میں فاریغ ھوا اور سیدھا لیٹ گیا پھر آنٹی میری طرف ھوکر مجھے دیکھ کر مسکرا کے کہا کپڑے پہن لو تیری مما آنے والی ھوگی میں بھی کپڑے بدل لیتی ھو تم نے میری شلوار خراب کر دی ھے۔ اور اتنی دیر میں گیٹ بجا مما تھی میں نے کپڑے پہنے اور آنٹی نے اپنی گانڈ کی شلوار سے میری منی کو کپڑے سے صاف کیا میں نے گیٹ کھولا مما آئی اور آنٹی سے کہا صفدر نے تنگ تو نہیں کیا آنٹی نے میری تعریف کی میرا لن کھڑا تھا آنٹی نے مجھے پاگل کیا ھوا تھا پھر مما نے گھر کا سامان لانے کو کہا میں سامان لینے چلا گیا۔ سامان لےکر مما کو دےکر شگفتہ آنٹی کے پاس آیا اور نگا ھوکر آنٹی پر چڑھ کیا پھر رات کو مما آئی مجھے آنٹی کی داوائیاں لینے کو کہا میں دوائیاں لایا اور مما ابھی آنٹی کے پاس تھی مما نے مجھ سے کہا گھنٹے ڈیڈھ گھنٹے تک آنا اور کھانا لے جانا مما چلی گئی پھر میں نگا ھوکر آنٹی پر چڑھ گیا ڈیڈھ گھنٹے تک لگا رھا فاریغ ھوا تو آنٹی نے کھانے کا کہا میں کھانا لینے گیا۔ جب میں نگا ھوتا تو آنٹی کے چہرے پر بہت خوشی دیکھتا اور آنٹی مما سے شکایت بھی نہیں کرتی تھی بلکہ میری تعریف کرتی میں آنٹی کی قمیض اور شلوار اتارنے کی کوشش کرتا مگر اتارنے نہیں دیتی تھی میں آنٹی کو خوب چومتا اب آنٹی بھی مجھے باھوں میں بھر کر خوب چومتی کبھی آنٹی کو اپنے اوپر کرتا کبھی نیچے کرتا اور لن کو خوب رگڑتا مموں کو خوب دباتا اب آنٹی بھی مجھے اپنی باھوں میں بھر کر خوب دباتی کبھی منہ کا پیار کرتی ھونٹ زبان چوستی اب آنٹی خود میرے اوپر آتی لن پر چوت رگڑتی کبھی آنٹی اپنی ٹانگیں اٹھاکر مجھے اپنے اوپر کرتی میں چوت پر لن رگڑتا آنٹی میری گانڈ پر اپنی ٹانگیں رکھ کر مجھے باھوں میں بھر کر چومتی میں لن کی رگڑائی کرتا جب میں آنٹی کی چوت کو سہلاتا تو میرا ہاتھ ہٹا دیتی کبھی میں آنٹی کی ٹانگیں اٹھا کر شلوار پر آنٹی کی چوت پر لن رگڑتا کبھی آنٹی کو الٹا ھونے کو کہتا تو آنٹی الٹی لیٹ جاتی اور میں آنٹی کی گانڈ کے ہیپ میں لن رگڑتا ایک رات کو شگفتہ آنٹی کی شلوار پر چوت کو پیار کرنے لگا آنٹی نے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن میں لگا رھا اور شلوار کو تھوک سے گیلا کر دیا جب میں تھک کر لیٹتا تو شگفتہ آنٹی مجھے اپنی باھوں میں بھر لیتی اور لن پر اپنی ٹانگ رکھ دیتی میں پھر مستی میں آجاتا کالج کے آنے کے بعد میں آنٹی کے ساتھ مست ھوتا دن رات آنٹی کے ساتھ اسی طرح کشتی ھوتی ایک دن دوستو نے مجھے گھیر لیا اور رات کے نو بجے چھوڑا میں آیا اور آنٹی کے ساتھ لیٹ گیا آنٹی نے کہا آج کپڑے پہن کر سو رھے ھو میں نگا ھوکر آنٹی کے ساتھ کشتی کرنے لگا ایک دن مما نے گھر سونے کو کہا مما کے جانے کے بعد آنٹی نے کہا مما کو منع کرو نہیں تو مجھے نیند نہیں آئے گی میں نے کہا آنٹی کرنے تو دیتی نہیں ھو اس سے اچھا ھے گھر سویا کروں کہا اگر کرنے دوں تو مجھے چھوڑو گے تو نہیں میں نے کہا کبھی نہیں چھوڑوں گا کہا ساری زندگی ساتھ دوگے میں نے کہا میں وعدہ کرتا ھوں آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا اور آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا کہا ٹھیک ھے تم مما کو منع کرو میرے لن کو پکڑ کر کہا ساری راتیں میں بھی تیرے ساتھ نگی رھوں گی پہلے مما کو منع کرو پھر مجھے پیسے دیئے کہا پہلے مجھے ایک ریزر لادو میں نے کہا کیوں میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی چوت پر رکھ کر کہا اس کی شیب کروں گی پھر لن کو پکڑ کر کہا تم بھی اس کی شیب کر کے آنا اب جاؤ میں نے ریزر لاکر دیا چومنے لگا کہا تم تیار ھوکر آؤ میں گیا مما کو منع کرکے لن کی شیب کر کے آیا میں بہت خوش تھا کے آج سے آنٹی کے ساتھ چدائی ھوگی جب میں اندر آیا تو شگفتہ آنٹی نے مست میکپ کیا ھوا تھا اور سیکسی ڈریس پہنا تھا میں تو دیکھ کے پاگل ہو گیا شگفتہ آنٹی نے مجھے باھوں میں بھر کر اپنا منہ میرے منہ میں دیا ھم ھونٹ زبان چوسنے لگے شگفتہ آنٹی نے مجھے بیڈ پر لیٹا کر میرے اوپر آکر مجھے چومنے لگی پھر شگفتہ آنٹی نے میری شیٹ اتار دی پھر اپنی قمیض اتار کر اپنے بڑے ممے دیکھائے آف شگفتہ آنٹی کے کیا مست ممے تھے میں تو دبانے اور چومنے چوسنے میں مست ھوگیا پھر شگفتہ آنٹی نے اپنی شلوار اتارنے لگی میں نے جلدی سے اپنی پینٹ اتار دی اب ھم دونوں نگے تھے مجھے کہا تم لیٹو میں لیٹا میرے لن کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تیرا لن بہت پیارا ھے سچ میں آج تک میں نے اتنا لمبا اور موٹا لن زندگی میں نہیں دیکھا پھر لن کو چومنے لگی پھر لن کو جو چوپے لگائے اف میں تو مست ھوگیا آنٹی تو فل ھوٹ تھی بہت دیر تک لن کو چومتی اور چوپے لگاتی رھی پھر لیٹ کر اپنی چوت دیکھائی شگفتہ آنٹی کی چوت دیکھ کے میں تو مستی میں چومنے چاٹنے لگا میرا تو چھوڑنے کو من نہیں کر رہا تھا پھر میرے اوپر آکر اپنی چوت میں لن لےکر فل جوش سے چدائی کرنے لگی پھر گھوڑی بنی ہر طریقے سے چدائی کرتی رھی پھر شگفتہ آنٹی کی چوت نے رس چھوڑا تو کہا گانڈ میں چدائی کرو پھر گانڈ کی چدائی کی مجھے کہا جب لن کا پانی نکلنے والا ھو تو بتانا میں پیوں گی میں نے بتایا کے نکلنے والا ھے لن کو منہ میں لےکر چوپے لگائے سارا پانی شگفتہ آنٹی کے منہ میں نکلا سارا پانی پی گئی اسی طرح ساری رات چدائی کی پھر مموں کی چدائی کا کہا اف مموں کو چودنے کا الگ مزہ تھا میں اور آنٹی دن رات چدائی کرنے لگے میں جب کالج سے آتا شگفتہ آنٹی میکپ میں فل تیار ھوتی اچھے سے اچھا کھانا بناتی مجھے اپنے ہاتھوں سے کھلاتی ایک رات شگفتہ آنٹی نے کہا ھم ایک دوسرے کی مساج کرتے ہیں ھم دونوں نے ایک دوسرے کی مساج کرتے چدائی کی پھر شگفتہ آنٹی کو دانو والے ڈاکٹر کے پار لے گیا آنٹی کی بتیسی بنی جب بتیسی لگائی تو آنٹی پہلے سے بہت خوبصورت ھوگئی ھم نے چار سال تک چدائی کی شگفتہ آنٹی اور میں نگے سوتے پھر مجھے جوب ملی اور اپارٹمنٹ بھی ملا آنٹی سے کہا میرے ساتھ چلو کہا کب چلنا ھے میں نے بتایا اور مما کو اس بات کا پتا چلا کے ھم چدائی کرتے ہیں اور میں شگفتہ آنٹی کو ساتھ لے جاؤں گا مما نے منع کیا تو میں نے کیا میں شگفتہ کے بنا نہیں رھے سکتا  اس شگفتہ آنٹی سے شادی کر لوں گا پہلے تو مما بہت ناراض ھوئی پھر مان گئی پھر میں اور شگفتہ آنٹی یہاں رہنے لگے ھم خوب چدائی کرتے اور نگے رہتے آنٹی اب بھی جوان تھی بوڑھی نظر نہیں آتی تھی شگفتہ آنٹی کے دانت نہ ھونے سے لن کو چوپے لگاتی  تو مجھے بہت مزہ آتا پھر میں نے شگفتہ آنٹی سے نکاح کر لیا پھر شگفتہ پیٹ سے ھوگئی پھر میرا بیٹا ھوا شگفتہ مجھے کہتے تم نے اپنا وعدہ پورا نبھایا شگفتہ مجھے ہر طرح سے خوش رکھتی ھے اور میں بھی خوش رکھتا ھوں ھم دونو آپس میں بہت پیار کرتے ہیں اس وقت میری عمر پینتالیس ھے اور شگفتہ اب بھی  ویسی جوان لگتی ھے اور شگفتہ میں آج بھی وھی مزہ ھے

 

۔۔

اپنا لن چوسوانے چل پڑا

 

 
اپنا لن چوسوانے چل پڑا

ھ۔ میری جب شادی ھوئی تو میں نے بیوی سے کہا سکس کا پتا ھے تو بیوی نے کہا بہت پتہ ھے میں نے کہا کیسے تو کہا کرکے دیکھاتی ھوں پھر میرے لن کو ایسا پیار کیا کے میں مست ھوگیا پھر میرے لن کا پانی نکلا تو بیوی نے پیا پھر کہا میری چوت کو پیار کرو میں نے بیوی کی چوت کو خوب پیار کیا پھر بیوی کی چوت نے پانی چھوڑا پھر بیوی کی چوت میں لن ڈالا تو راستہ پہلے سے بنا ھوا تھا پھر خوب چودائی کی پھر کہا میری گانڈ کی چودائی کرو گانڈ کے بھی راستے کھلے تھے میں بیوی کی چوت گانڈ مموں کو خوب چودتا جب بھی میں نید میں ھوتا تو بیوی میرے لن کو چومتی چوپے مارتی ھوئی مجھے نید سے جگاتی لن کا پانی نکال کر پیتی بیوی میرے لن کو بہت پیار کرتی منی نکالتی میں مست رہتا میں بیوی کو خوب پیار کرتا اور چودائی کرتا بیوی بھی بڑے پیار سے چودواتی اور ہر اسٹائل سےچودواتی ایک بار ھم چودائی کررھے تھے تو بیوی سے کہا کس کے لن سے مزے کیئے ہیں تو بیوی مسکرانے لگی میں نے کہا میری جان بتاؤ تو بیوی نے کہا دو کے ساتھ بہت کیا ھے میں نے کہا دو کے ساتھ بہت مزہ آیا ھوگا مسکراکر کہا ہاں بہت مزہ آتا تھا میں نے کہا دو ایک ساتھ مسکرا کہا آپ کو سُناؤں میں نے ہاں سُناؤ پھر کہا اچھا میں شروع سے سُاتی ھوں بیوی میرے اوپر لیٹ کر اپنی چوت میں میرا لن لےکر سلوسلو چودائی کرتے میرے ھونٹوں کو چوم کر کہا تم کو تو پتا ھے ھم گاؤں میں رہتے ہیں جب میں جوان ھورہی تھی تو میرا چاچو مجھے بہت چومتا میری چوت کو سہلاتا اور میری گانڈ کو اور میرے چھوٹے مموں دباتا میرے ھونٹ چوستا اور میرے ہاتھوں میں لن پکڑواتا مجھے بھی اچھا لگتا میں ایک رات کو پیشاب کرنے گئی اور پیشاب کر رھی تھی چاچو کے بیٹے نے مجھے وہیں لیٹاکر میری شلوار اتار کر میری چوت کو چومنے چاٹنے لگا مجھے بہت مزہ آرہا تھا کزن نے اپنا لن نکال کر میرے منہ دیا میں نے جب لن کو چوما تو بہت مزہ آیا پھر چوپہ مارے اس کے لن کا پانی نکلا میں نے پیا پھر وہ چلا گیا پھر میں اپنے بستر پہ لیٹی تو چاچو آیا لنگی باندھے میرے ساتھ لیٹ کر لنگی اوتار کر میری شلوار اتار کر اپنا لن رگڑتے کبھی میرے ہاتھوں میں دیتے پھر میری چوت کے ھونٹوں میں لن کا ٹوپہ خوب رگڑنے لگے تو میں بہت مست ھوجاتی اسی طرح کبھی چاچو پکڑ لیتا تو کبھی چاچو کا بیٹا میرا کزن پکڑ لیتا بس اسی طرح دونوں باپ بیٹے مجھے بہت مزہ دیتے پھر جب میں جوان ھوئی تو اپنے باغ گئی کزن کے ساتھ تو کزن نے مجھے وہی ھوٹ کرکے میری چوت کی سیل توڑی تو چاچی کھیتوں گئی ھوئی تھی تو میں چاچو سے مزے لنے گئی تو چاچو نے میری گانڈ کی سیل توڑ کر گانڈ کی خوب چدائی کی چاچو تو صرف گانڈ چودتے تو چاچو کا بیٹا میری چوت گانڈ کو چودتا ایک بار میں اور کزن چود رہے تھے تو چاچو نے دیکھ لیا مجھ سے کہا تم میرے بیٹے سے بھی میں نے کہا ہاں چدائی کرتے ہیں اس نے میری چوت کو چودا اور تم نے میری گانڈ کو چودا چاچو نے کہا کوئی بات نہیں پھر چاچو مجھے چودنے لگا اور کزن نے دیکھ لیا مجھ سے کہا تم میرے باپ سے چدائی کرتی ھو میں نے کہا جسے تم مجھے پکڑتے تھے تیرا باپ بھی مجھے پکڑتا تھا تم نے میری چوت چودی چاچو نے میری گانڈ چودی ھے پھر کبھی چاچو سے تو کبھی کزن کے ساتھ چوودائی کرتی پھر ایک بار مما نے کہا تیرا رشتہ آیا ھے شادی کروگی میں نے کہا ہاں پھر میری تم سے شادی ھوئی پھر میں نے بیوی سے کہا تم بہت مست ھو بیوی نے کہا مجھے چدائی میں بہت مزہ آتا ھے اور لن کو تو میں بہت پیار کرتی ھوں مجھے لن بہت اچھے لگتے ہیں میں نے کہا اب بھی بہت تڑپ ھوتی ھوگی بیوی نے کہا بہت تڑپ ھوتی ھے اس لیئے تو میں تیرے لن کو خوب پیار کرتی ھوں پھر ھم چدائی کرکے سوگئے  ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, پھر ایک  بار بیوی بہت گرم تھی فون کیا کے جلدی آؤں میری چوت میں لن کی آگ لگی ھے میں نے بہت انگلی ماری ھے آگ نہیں بجھتی جلدی آؤ اور میں دیر سے گیا تو بیوی ناراض ھوگئ میں بھی بہت گرم تھا جب میں گھر آیا اور میں نگاھوکر بیوی کے ہونٹوں پہ اپنا لن رکھ کر کہا پیار کرو تو بیوی نے غصہ سے انکار کردیا مگر مجھ پر اپنا لن چوسوانے کا بھوت سوار تھا پھر میں گھر سے باہر آگیا سوچنے لگا کے اپنا لن کس سے چوسواؤں ,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, پھر ایک شیمیل یاد آیا جس کا پیارا سا چہرہ بڑے ممے اور کمال کا فگر ھے

 

میں وہاں گیا تو وہ اپنے دروازے کے بیچ میں کھڑاتھا میں نے اس سے کہا آپ کی یاد آرہی تھی تو اس نے کہا اندر آجاؤ میں اندر گیا اس نے دروازہ بند کیا اور پوچھا بلب بند کردوں میں نے کہا پھر مزہ کیا آئے گا پھر میں نے اسے کھڑے کھڑے اپنی باہوں میں بھرلیا میں نے شیمیل کو کَس کے جپھی ڈالی اور اس کی کمر پہ ہاتھ پھیرتا ہوا

 

اس کی نرم نرم گانڈ کے پٹھوں کو دبانے لگا پھر اس نے اپنا منہ میرے منہ میں دےدیا ہم ایک دوسرے کی زبان اور ہونٹوں کو چوس رہے تھے ۔ پھر اس نے ایک ہاتھ سے میرے لن کو  لےکر سہلانے لگا پھر اس نے  کپڑے اتار کر میرے کپڑے اوتار دیا اب ھم دونوں نگے کھڑے منہ کا پیار کرتے ھوئے میں ایک ہاتھ سے شیمیل کی گانڈ دبارہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے شیمیل کے بڑے مموں کو دبارہا تھا اور ہمارے لن آپس میں ٹکراکر پیار کر رہے تھے

 

پھر وہ میرا چہرہ چومتے ہوئے نیچے ہوتا گیا اور میرے لن کے سامنے بیٹھ گیا اور اس نے اپنے پیارے ہونٹوں کو میرے لن کے ٹوپے  پہ رکھ کر چومنے اور زبان سے چاٹنے لگا پھر اس نے اپنے پیارے ہونٹوں کو کھولا اور میرے لن کے ٹوپے کو اپنے منہ میں لیا اور چوپے مارنے لگا پھر پورے لن کو منہ میں لے کر چوپے مارتا اور کبھی ٹوپے کو کو چومتہ چاٹتہ پھر اس نے کہا بیڈ پر سیکس کرتے ہیں پھر ہم بیڈ پہ نگے تھے ہم دونوں کی گرم گرم سیسکاریا منہ سے نکل رہی تھی پھر اس نے اپنا منہ میرے منہ میں دےدیا چومتے ہوئے مجھے نیچے لیٹا دیا اور میرے اوپر آگیا میرے لن کے اوپر اپنی ٹائٹ گانڈ رکھ کر گانڈ ہلانے لگا اور اس کا منہ میرے منہ میں تھا ہم ایکدوسرے کی زبانیں چوس رھے تھے پھر وہ مجھے چومتاہوا میرے لن پہ پہنچ گیا اور میرے لن کو چومنے اور چاٹنے چوپے مارنے لگا  اس نے مجھے اتنا مست کردیا تھا کے مستی میں مجھے پتہ ہی نہ چلا کے یہ میں نے کیا کیا  پھر وہ میرے اوپر آگیا پھر اس نے مجھے کروٹ دےکر اوپر کر دیا میں اس کے اوپر تھا اور وہ میرے نیچے تھا اور ہم ایکدوسرے کو چوم چاٹ رھے تھے  اور میں اسے چومتا ہوا اس کے لن تک پہونچ گیا اور اس کے لن کو دیکھا جو میرے لن سے بڑا اور موٹا تھا  میرے زہن میں خیال آیا کے اگر میں اپنے لن کو چوپے مارتا تو کیسے مارتا تو لن میرے سامنے تھا میں نے بڑی حسرت سے اپنے ہاتھوں میں اس کے لن کو لیا اور اپنے ہونٹوں کو کھولا اور منہ سے اپنی زبان نکالی اور اس کے لن کے ٹوپہ پر اپنی زبان رکھی تو ٹوپہ اتنا نرم اور ملائم تھا کے مجھ سے رہا نہ گیا تو لن کو منہ میں لےکر چوپے مار نے لکا اس کے لن کو اپنے منہ میں پورا لےکر چوپے مارنے لگا

 

پھر جب اس کی منی نکلنے والی تھی تو اس نے میرے منہ سے اپنا لن نکال کر لن کو اپنی طرف کیا تو اس کے پیٹ پر ساری منی  نکلی اور میں دیکھ رہا تھا پھر اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو میری کمر کے پیچھے کرکے میری کمر کو جکڑ لیا  اور  اپنی گانڈ کو اور میرے لن کو اپنی منی سے تر کردیا پھر کہا اب چودو میں نے اپنا لن کو حرکت دینے لگا اور لن اپنا آپ گھستا گیا اور گھس گیا پھر میں نے اس کی گانڈ چودنا شروع کیا اور قریب تیس منٹ بعد میرے لن سے منی نکلی اور میں اس کے اوپر گر گیا میں نے جانے کو کہا تو شیمیل نے کہا ایک بار اور چودو پھر میں نے چودائی کی  پھر میں نے کپڑے پہنے اور باہر آگیا اور گھر کی طرف چل پڑا اور چلتے چلتے سوچہ کے یہ میں نے کیا کیا اس کے لن کو چوپے مارے پھر میں گھر گیا بیوی نے دروازہ کھولا اور میں کمرے میں جاکر  اپنی آنکھیں بندکرکے لیٹ گیا  بیوی آئی اور میرا ناڑہ کھولا اور میرا لن باہر نکال کر منہ میں لےکر چومنے چاٹنے لگی میں نے اپنی آنکھ کھولی تو دیکھا کے بیوی ایکدم نگی تھی بیوی نے کہا میں مستی میں ھوں پھر بیوی اور میں نے خوب جم کے چدائی ماری ۔ اب مجھے شیمیل کے لن کو چوپہ کی یاد آئی میں شیمیل کے پاس گیا تو شمیل چڈی میں تھا وہ بیٹھا تو میں نے کہا اپنا لن تو دیکاؤ پھر شیمیل نے چڈی سے لن نکال کر مجھے دیکھایا میں نے جب اس کے لن کو دیکھا

 

تو مجھے بہت پیار آیا پھر میں شیمیل کے لن کو پیار کرنے میں مست ھوا اور اس کے لن کی تعریف کرتا پھر اس کی گانڈ چود کے آتا اب تو مجھے اس کے لن کو پیار کرنے کی تڑپ ھوتی تو میں جاتا تو اس کے لن کو خوب پیار کرتا

 

اور اس کی گانڈ چود کے آتا پھر بیوی کو چودتا بیوی کو چودتے کہا یار دوستوں نے بتایا ھےکہ ایک نیا شیمیل آیا ھے کمال کا ھے بیوی نے کہا کیا وہ سیکس کرتا ھے میں نے کہا ہاں پھر بیوی نے کہا تم کرنا چاہتے ھو میں نے کہا ہاں اگر تم کہوں تو ویسے اس کا لن میرے لن سے موٹا ھے  اور لن کا ٹوپہ کیوٹ ھے تو بیوی نے کہا پھر کب بلاوگے میں نے کہا تم بتاؤ بیوی نے کہا ابھی بلالو میں بیوی کو چومتے کہا جب اس کا لن دیکھو گی تو مست ھو جاؤ گی بیوی نے کہا ایسی بات ھے تو ابھی فون کرو میں بیوی کو چومتے کہا تجھے بہت مزہ آئے گا پھر بیوی نے مجھے فون دیا میں نے فون کیا اور آنے کو کہا وہ آیا بیوی نے اس کے اسمارٹ فگر کی بہت تعریف کی پھر میں بیوی شیمیل ھم تینوں چومنے لگے بیوی نے جب شیمیل کا لن دیکھا

 

تو بہت تعریف کرتی ھوئی لن کو خوب چوما چوسا چاٹا اور چوپے مارے پھر ھم نے چودائی کی میں شیمیل کے لن کو پیار کرتا بیوی ہمارے لنوں کو پیار کرتی بیوی نے شیمیل سے خوب چودوایا میں نے شیمیل کو خوب چودا پھر وہ چلا گیا پھر ہم نے چودائی کی بیوی سے کہا مزہ آیا بیوی نے کہا بہت مزہ آیا پھر کچھ دن بعد میں گھر آیا تو شیمیل اور میری بیوی چودائی میں مست ہیں اتنی دیر میں بیوی کی چوت نے پانی چھوڑا پھر شیمیل میرے پاس آیا تو میں اس کے لن کو پیار کرنے لگا

 

بیوی نے بتایا ساری چودائی کرینگے پھر چودائی کی پھر بیوی نے بتایا کے میرا کزن مجھے چودنے کے لیۓ تڑپتا ھے اس نے کہا ھے کے میں بیوی کو لےکر آتا ھوں پھر بیوی نے مجھے سے کہا تم اس کی بیوی کو چود لینا میں نے کہا ٹھیک ھے میں نے تیرے کزن کی ماں بہت مست ھے بیوی نے کہا تم بات کرو بیوی کہا میری چاچی بہت چداکڑ ھے اس نے ایک بار کہا تھا کے تم اسے اچھے لگتے ھو کبھی چودائی کا بولے تو بتانا بیوی نے کہا چاچو بھی میرے لیئے تڑپتا ھے میں نے کہا پھر کب بلارھی ھو کہا پہلے کزن پھر وہ بیوی نے کہا شیمیل کو بھی بلالینگے میں نے کہا ہاں یہ ٹھیک ھے پھر وہ آئے چودائی کی پھر بیوی کا چاچو اپنی بیوی کے ساتھ آیا مل کے چدائی کی پھر وہ چلے گئے پھر شیمیل کو اپنے گھر میں رکھا اب تو شیمیل کے دوست آتے میں اور بیوی مزے کرتے بیوی کہتی بہت مزہ آتا ھے اور مجھے بھی بہت مزہ آتا  سوگئی

ٓ

منہ بولی بھابھی۔ ایک نئی کہانی

 

منہ بولی بھابھی

، یہ میرے ایک دوست کی کہانی ہے اُس کی زبانی سنیں

۔ میں ہاسٹل میں پڑھتا تھا ۔ ہاسٹل میں اپنے گروپ میں ہم جنسی سے متعلق بہت سی باتیں ایک دوسرے سے شیئر کرتے رہتے تھے، کافی اچھا لگتا تھا ، میرا مطلب اب بھی لگتا ہے ۔

ایک بار گرمی کی چھٹیوں میں میں اپنے گھر آیا تھا ، کافی خوش تھا ، گھر آکر جیسا تمام هسٹلر ہوتے ہیں ۔

تبھی مجھے پتہ چلا کہ میری ماں نے ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو گھر کرایہ پر دیا ہے ۔

میں اپنی چھٹیاں اپنے فرےنڈس وغیرہ کے ساتھ مزے کرنے لگا ۔ تو جب میرے کچھ فرےنڈس کو پتہ چلا کہ میرے گھر پر ایک كپل رےنٹ پر رہ رہے ہیں ۔ تو

فرےنڈس - آئے آشو سنا ہے تیرے یہاں ایک مال رہنے آیا ہے ۔۔۔ ! ؟ !

میں - جی ہاں یار ۔۔۔ آیا ہے ، پر شادی شدہ ہے ۔۔۔ ! !

فرےنڈس - تو کیا ہوا پٹا سالی کو اور مزے کر ۔۔ !

میں - پر یار ، کچھ خاص نہیں ہے ۔۔ !

فرےنڈس - ابے تجھے کون سا گرلفرےنڈ بنانی ہے ۔۔۔ کام چلا ۔۔۔ اور چھٹیوں کے مزے لے ۔۔ !

میں - یار پھر بھی اس میں وہ بات نہیں ہے ۔۔۔ ! وہ چنگاری نہیں ہے جو مجھے چاہئے ۔۔۔

فرےنڈس - جو چاہئے وہ تو ہے نہ بس ۔۔ اور تجھے کون سا سگریٹ جلاني ہے ۔۔۔ اور سن جب آپ کے دل میں کامدیو ہو تو سالی ہر عورت مال لگتی ہے ۔

میں - سوچتا ہوں ۔

فرےنڈس - سوچتا نہیں چودتا ہوں دھن ۔۔۔ اور ہو سکے تو ہمیں بھی ٹیسٹ کرا ۔۔۔ !

میں - سالوں ، اب سمجھا کیوں اتنا مچ - مچ کر رہے ہو ۔۔۔ ! !

تمام ہنسنے لگے ۔۔

فرےنڈس سے ملنے کے بعد میں اپنے گھر آیا ، گھر پر کوئی نہیں تھا ، تمام کام پر گئے تھے ، میں اپنے روم میں آکر وہی باتیں سوچنے لگا ۔

پھر اچانک میں اوپر والی منزل پر گیا جہاں بھابھی اکیلی کچھ کام کر رہی تھی ، ان کے شوہر بھی کام پر گئے تھے ، پورے گھر میں صرف ہم دو لوگ تھے ، میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔

تبھی میری نظر ان کے اوپر گئی ، میں انہیں شہوت انگیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ، وہ مجھے آج سیکسی لگ رہی تھی میرا مطلب سپاركي لگ رہی تھیں ، تھی تو وہ پہلے بھی پر شاید میں نے انہیں کبھی ان نظروں سے دیکھا نہیں تھا ۔ کیا فگر تھا یار ۔۔۔ ! !

تبھی ' کیا مال ہے یار ' میں نے کہا ۔

بھابھی - تم نے کچھ کہا ؟

میں - نني ۔۔ نہیں کچھ نہیں بھابھی !

بھابھی - کیا ہوا ؟

میں - کچھ نہیں ، بھابھی بس ایسے ہی ۔

میں وہاں سے فورا نکل آیا ۔۔۔ ہم دونوں کے درمیان ایسے ہی باتیں کافی دنوں تک چلتی رہیں ۔ میرے فرےنڈس بھی اس بارے میں ڈیلی طرف لیتے رہتے تھے ۔

میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کیا جائے ؟ کہاں سے شروع کی جائے ؟ تبھی ایک دن میرا ایک دوست نے مجھ سے بات کی -

خاندان - آئے آشو ، اور کیا چل رہا ہے آج کل ؟

میں - یار کچھ نہیں بس ایسے ہی ٹايم پاس ہو رہا ہے ۔

خاندان - اچھا تو یہ بتا اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان پٹتی کیسی ہے ؟

میں - کچھ نہیں یار لڑتے بہت ہیں ، تھوڑا کم پٹتی ہے ۔

خاندان - تو تو انتظار کس کا کر رہا ہے میدان بالکل صاف ہے ، موقع پہ چوکا مار ، وہ 100 ٪ تیرے سے قائم ہو جائے گی ۔

میں - مگر یار فٹتي بہت ہے میری ۔

خاندان - یار کس کی نہیں فٹتي ایسے ٹايم ، اچچھو - اچچھو کی فٹتي ہے ۔ تو بس اپنا کام کر ۔

فرےنڈس سے ملنے کے بعد ، میں سوچتا ہوں اب چاہے جو ہو جائے سالی کو پٹا کے ہی رہوں گا ۔ آخر دوسرے دن سب لوگوں کے جانے کے بعد میں بھابھی کے کمرے میں اوپر جاتا ہوں ۔ وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔

میں - میں اندر آ سکتا ہوں ؟

بھابھی ( هسكر ) - ارے آو نہ ! کیوں مذاق کرتے ہو !

میں - اور بھابھی کیا ہو رہا ہے ؟

بھابھی - کچھ نہیں ٹی وی دیکھ رہی ہوں ۔

میں - کیا دیکھ رہی ہو ؟

بھابھی - هوليوڈ تصویر ۔۔۔ وہ بھی خاموش کرکے ۔

میں - ریلی ! ! کون سی ؟

بھابھی - ارے میں مذاق کر رہی ہوں ۔۔۔ نیوز دیکھ رہی ہوں ۔

میں - بھابھی دوگی ۔۔۔ !

بھابھی - کیا ؟

میں - ریموٹ !

پر مانگنا تو کچھ اور چاہ رہا تھا ۔

ان سب کے درمیان میرے دماغ میں بس ایک ہی بات چل رہی تھی کہ بھابھی کو کیسے پٹايا جائے ، پر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اور فٹ کے ہاتھ میں آ رہی تھی ، وہ الگ ۔

تبھی میں نے دیکھا ان کے ہاتھ کچھ پانی سا گیا تھا ۔ میں نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پوچھا - یہ کیسے ہوا بھابھی ؟

بھابھی - کچھ نہیں کھانا بناتے وقت جل گیا ۔

میں - آپ اپنا خیال رکھا کرو ۔

میں نے دیکھا ان کے ہاتھ کتنے خوبصورت ہیں ۔۔۔ تبھی میرے ذہن میں ایک خیال آیا ، میں بولا - بھابھی ، آپ کے ہاتھوں کی ریکھا تو کمال کی ہیں ۔

بھابھی - کیوں کیا ہوا ؟

میں - ہوا تو کچھ نہیں پر شاید کچھ ہونے والا ہے ۔

بھابھی - کیا مذاق کر رہے ہو ۔۔۔ اور ویسے بھی تمہیں آتا ہے یہ سب دیکھ کر ؟

میں - جی ہاں پر زیادہ نہیں ۔ وہ ایک کتاب پڑھی تھی ، بہت پہلے ۔

بھابھی - اچھا تو بتاؤ اور کیا - کیا لکھا ہے ؟

میں - آپ کی زندگی میں بہت جلد کچھ اچھا ہونے والا ہے ۔

بھابھی هسكر - کیوں ؟ میرے شوہر مجھے طلاق دینے والے ہیں ؟

بھابھی اور ان کے شوہر کے درمیان اکثر لڑائی - جھگڑے ہوتے تھے ۔

میں - کیا بھابھی آپ بھی ۔۔ !

پھر ہم لوگ آپس میں ایسے ہی باتیں کرنے لگے ۔ اس دوران ہم لوگوں میں کافی مذاق ہوا اور ایک دوسرے کو چھو لیا بھی ۔ ایسا ہم دونوں میں کافی دنوں تک چلتا رہا ، پر وہ نہیں ہو پا رہا تھا جس کا مجھے انتظار تھا ۔

پھر ایک دن میں اپنی ماں سے کسی بات کو لے کر تھوڑا ناراض ہو گیا تو اس دن میں اپنے ہی روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ چلا رہا تھا ۔ آج میں بھابھی کے پاس بھی نہیں گیا ، اسی وقت ایک آواز آئی۔

بھابھی - کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟

میں ( مسکرا ) - بھابھی آپ ؟ آو ۔۔۔ نہ !

وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔

بھابھی - کیوں آ نہیں سکتی ؟

میں - کیوں نہیں !

بھابھی - اب تم نہیں آئے ، تو میں نے سوچا کہ میں ہی چلی جاؤں ۔ ویسے کیا کر رہے ہو ؟

میں - کچھ نہیں نیٹ چلا رہا ہوں ۔

تھوڑے ٹايم بعد میرا روم بالکل پرسکون ۔۔۔ کوئی آواز نہیں تبھی ۔۔۔

میں - بھابھی میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔

بھابھی - جی ہاں کہو ۔

میں نے بھابھی کے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھا اور کہا - بھابھی ۔۔۔ میں پسند کرتا ہوں ۔

میری سانس اور دھڑکن دونوں بہت تیز چلنے لگی ۔

بھابھی - ۔۔۔ اممم ۔۔۔ مم ۔۔۔ میں بھی ۔۔

میں نے بغیر ٹايم برباد کی انہیں کس کرنے لگا ۔۔۔ اب میرے دونوں ہاتھ ان کبوتروں پر تھے ۔ میں انہیں دبانے لگا ، وہ بھی مجھے کس کرنے لگی ۔

اس درمیان ہم دونوں ایک - دوسرے کے کپڑے اتارنے لگتے ہیں ۔ اب وہ میرے سامنے سرف برا - پیںٹی میں تھیں ۔

قسم سے مال لگ رہی تھی ۔۔۔ كرےكر جو مجھے چاہیے تھی ۔ پھر میں نے وہ بھی اتار دئے اب وو نںگی تھیں میرے سامنے ۔ میں بس ان کے اور ان کے فگر کو دیکھے جا رہا تھا ۔

میں - کیا مال ہے یار !

بھابھی ( مسکرا ) - یہ آپ کو پہلے بھی کہہ چکے ہو ۔

میں - کیسے پتہ ؟

بھابھی - میں نے سن لیا تھا ۔۔

میں مسکرایا اور انہیں کس کرنے لگا ۔ میرے ہاتھ ان کے جسم پر گھوم رہے تھے ، جس سے ان کے سارے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ بالکل ایسا لگ رہا تھا ، جیسے ان کے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا ہو ۔

وہ چیز میں خود محسوس کر رہا تھا ، وہ شادی شدہ تھیں ، تو ظاہر سی بات ہے کہ مجھ سے دو قدم آگے ہوگئیں ۔

وہ میرے نیچے آکر میرا لنڈ منہ میں لے کر چوسنے لگیں ۔ میرا پہلی بار تھا ، تو سب کچھ مجھے بڑا عجیب لگ رہا تھا ۔

پر میں نے سب کچھ اپنے دوستوں سے سن رکھا تھا ۔ خیر تھوڑی دیر بعد مجھے مزے آنے لگا ، تو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کا سر پکڑ کر ان کا ساتھ دینے لگا ۔

پھر کچھ دیر بعد میں نے نیچے آ کر بھابھی کی ٹانگوں کو فےلايا ۔ اب مجھے ان کی چوت صاف دکھ رہی تھی ۔ بالکل گلاب کی پكھڈي کی طرح ایک دم گلابی لگ رہی تھی ۔ جیسے کہ وہ اب تک كاري ہو ۔

میں نے آو دیکھا نہ تاو ، ان کی چوت پر ایک کس کیا اور ان کی چوت کے مزے لینے لگا ۔ کبھی - کبھی درمیان میں دانتوں سے کاٹ بھی لیتا تو بھابھی چیخ اٹھتي ۔

کچھ دیر میں بھابھی آواجیں نکالنے لگی ، بھابھی بولی - آشو اب تم جلدی کرو ۔

مجھے لگنے لگا کہ اب بالکل صحیح ٹايم ہے تو میں اٹھا اور اپنا لنڈ انکی چوت پر رگڑنے لگا ، پر میں نہیں ڈال رہا تھا ، صرف ان کو تڑپا رہا تھا ۔

بھابھی - اب جلدی کرو ، کیوں تڑپا رہے ہو ؟

مجھے لگا اب بھابھی بالکل لاسٹ اسٹیج پر ہیں ، تو میں نے بغیر ٹايم بیسٹ کئے اپنا لنڈ انکی چوت میں پیل دیا ۔ جس سے بھابھی کے منہ سے آواز نکل گئی ۔

میں - کیا ہوا بھابھی ؟

بھابھی - کچھ نہیں ، آپ کو صرف مزے دو اور لو ۔

اور میں ان کو چودنے لگا ۔

بھابھی - آشو اور تیز چلاو اور تیز ۔

مجھے لگنے لگا کہ اب بھابھی کا بس ہونے والا ہے ، میں انہیں اور تیز چودنے لگا ، پھر بھابھی نے مجھے کس کے پکڑ لیا ، یعنی بھابھی جھڑ چکی !

پھر کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ میں بھی جھڑنے والا ہوں ، میں اور تیز چودنے لگا ۔

۔۔۔ تھوڑے وقت کے بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر بستر پر گر گئے اور مسکرا ایک دوسرے کو چومنے لگے ۔

پھر ہم دونوں باتھ روم میں گئے ، وہاں ہم دونوں نہاتے ہوئے کافی مزے کرتے رہے ۔ پھر آکر کپڑے پہن کر ایک - دوسرے کو گلے لگا کر ، کافی ٹايم تک ایک - دوسرے کے ساتھ لیٹے رہے ۔

پھر جب گھر والوں کو گھر آنے کا وقت ہوا تو بھابھی مسکرا ایک چمبن دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی ۔

ہم دونوں نے بعد میں بھی کئی بار سیکس کیا اور بھی مزہ طریقے کے ساتھ ۔۔۔

آپ کو میری آپ - بیتی کیسی لگی ۔ ۔

ختم شدہ

 hot urdu novel ek lafz ishq

urdu book novel

urdu novels to read

hot urdu novel house

urdu novel in which heroine is teacher

hot and bold urdu novels list pdf

urdu longest novel

hot urdu novel menu