شغل شغل میں

شغل شغل میں

یہ تب کی بات ہے جب میں نیا نیا جوان ہوا تھا اور میٹرک کا امتحان دے کر فارغ  ہوا  تھا  میں فریش  تو
تھا پر تب تک بہت ساری چوتوں کا مزہ لے
   چکا تھا اور مُٹھ تو روزانہ کا کام تھا ھی- امتحان کے فوراً بعد میرے کزن کی شادی آ گئی تھی اور ہم  مہ فیملی گاؤں چلے گئے – اور وہاں شادی پر خوب ھلہ گلا کیا – گاؤں میں  میرے انکل زمان بھی اپنی فیملی کے ساتھ  لا ہور سے  گاؤں  آ
ۓ ھوۓ  تھے – اور  اُن کا  لڑکا  آصف میرا  ہم عمر تھا  اور وہ بھی میری طرح    فری تھا-چنانچہ شادی کے ھلے گلے میں اُ س نے پوری طرح میرا ساتھ  دیا – جس کا رزلٹ یہ نکلا کہ  شادی کے  اختتام  تک  ہم بڑے اچھے  دوست بن چکے تھے چنانچہ شادی کے بعد اس نے اور اُس کے ساتھ  ساتھ  زمان   انکل   اور اُن کی بیگم ندا آنٹی نے بھی  مجھے اپنے ساتھ  لاہور چلنے کی آفر کی اور  بولے تم آج کل فری ہو چلو تم کو لاہور  کی سیر کرواتے ھیں کچھ  ہچکچاہٹ کے
بعد میں اس شرط پر راضی ہوا کہ گھر والوں سے اجازت  آپ لیں گے اور  یہ  کام     اُنہوں نے بڑی  آسانی  کر لیا

اور اس طرع میں شادی کے فوراً بعد ان کے
ساتھ  لاہور چلا   گیا
اسی دن صبع کو ہم گاوں سے چلے تو رات  کو ہم لاہور پہنچ گئے ان کا گھر   کافی  اچھا  خوب صورت  اور دو منزلہ تھا جہاں  انکل اور آنٹی گھر کے    گراءونڈ   فلور پر رہتے تھے جبکہ آصف اوراس کی  بڑی بہن آسیہ گھر کے فرسٹ   فلور پر رہتے تھے – میں نے وھاں خوب انجوا
ۓ کیا  اور انہوں نے تھوڑے ھی
دنوں میں  مجھے لاہور کی کافی سیر بھی  کروا دی۔
       ایک  دن با توں باتوں میں آصف بولا یار پتہ نہیں کیوں آج صبع سے     ہی  مجھے   دادا   دادی  بڑے یاد  آ ر رہے ھیں اس پر آسیہ بولی  یار آصف تم       نے تو  میرے منہ کی بات چھین لی  ہے   قسم سے میرا بھی بڑا جی کر رہا تھا   ان سے
ملنے کو اور پھر بیٹھے بیٹھے  ان دونوں کا وہاں  جانے کا پروگرام  بن      گیا- اسی دوران ان کو میرا بھی خیال آ گیا اور  انہوں نے مجھے بھی ساتھ
چلنے کو کہا  لیکن پتہ نہیں کیوں  میرا  وھاں جانے کا مُوڈ نہ  بنا سو میں  نے  ان کے ساتھ   وہاں  جانے سے صاف انکار  کر دیا – تب آصف نے مجھ سے پوچھا کے ہمارے
جانے کے بحد  تم اُوپر   اکیلے سو جاوء گے ؟ تو میں نے جواب دیا کہ میں
اکیلا نہیں سو سکتا کہ اکیلے میں مجھے ڈر لگتا ھے اس پر ںدا  آنٹی
بولی کوئ بات نہیں اگر تم کو ڈر لگتا ھے تو تم ہمارے ساتھ والے رُوم میں
سو جانا
سو اس طرح اُس رات میں آنٹی کے ساتھ والے روم میں سویا ۔
 اس کمرے  کی خاص    بات یہ تھی کہ اس کمرے اور آنٹی کے کمرے کا  باتھ  روم  مشترکہ تھا- اب میں آپ کو ندا آنٹی کا تھوڑا سا تعارف کروا تا ہوں ۔ ندا آنٹی گورے رنگ کی ایک بھرے بھرے جسم کی مالک خاتون تھئ قد اچھا تھا اور گانڈ  اور ممے بہت بڑے تھے- غرض   یہ کہ آنٹی ایک چلتی پھرتی قیامت تھی  لیکن اس سے قبل نا انہوں نے نا میں نے کھبی ایک دوسرے کو ایسی نطروں سے دیکھا تھا پر وہ دیکھنے میں مجھے ہمیشہ  ہی بڑی اچھی لگتی تھی خاص کر ان کی موٹی گانڈ پر میں دل و جان سے فدا تھا ۔۔وہ بھی دل ہی دل میں ورنہ ان کے   سامنے ایسی کوئ بات نہ تھی – ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ  آدھی رات کا وقت تھا کہ مجھے بڑے  زور سے پیشاب کی حاجت محسوس  ہوئ  اور میری آنکھ کھل گئ اور
میں اس پریشر کو ریلز کرنے کے لی
ۓ فوری طور پر  واش روم چلا گیا
اور
   جیسے ھی میں واش روم میں داخل ھوا مجھے آنٹی کے روم سے   پلنگ  کی
چرچراہٹ  اور سسکیوں  کی  مخصوص  آوازیں سنائ دیں ان آوازوں  سے   میری
بڑی  اچھی شناسائ تھی اور میں سمجھ گیا کہ اندر آنٹی انکل کا چودائ سین چل رہا ہے  چنانچہ  جیسے ہی میرے کانوں نے  یہ  آوازیں  سنی
میں پیشاب کرنا  بھول گیا اور اگلے ہی لمحے میں ان کی  چودائ کا منظر دیکھنے کے
لی
ۓ  ان کے   روم کی طرف بڑھا اور  جیسے ھی میں نے   آنٹی کے روم کے
دروازہ پر ھاتھ رکھا تو    خوش قسمتی سے وہ تھوڑا سا  کھلا ھوا تھا ۔
اندر کا منظر دیکھ کر میرا جی خوش ھو گیا کہ منطر ھی  بڑا دلکش تھا   ندا
آنٹی فل  ننگی پلنگ پر لیٹی  تھی اور اس کےاوپر انکل زمان چڑھے ھو
ۓ تھے اور وہ  آنٹی
کے موٹے  موٹے  ممے چوس رہے تھے اور ساتھ ساتھ  ان کی ایک انگلی آنٹی کی چوت میں  بھی
 گھوم رہی  تھی کچھ   دیر بعد انہوں نے   آنٹی کا نپل اپنے منہ سے باہر
نکلا اور  انھوں نے   آنٹی کے موٹے ممے اپنے  دونوں ھاتھوں  میں
پکڑ  لی
ۓ  اور انکو زور زور سے  پریس کرنے لگے - اس  کے ساتھ ھی آنٹی نے اور اونچی  آوازوں
میں      کراہنا شروع کر دیا آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ  ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔زور سے
دباؤ نا میری جان ۔۔۔۔۔۔۔۔مزہ آ۔۔۔رہا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورآنٹی کی یہ مست آوازہں  سن کر انکل مزید
 زور سے آنٹی کے ممے دبانے لگے ۔۔۔
 کچھ دیر تک انکل ایسے ھی کرتے رہے پھر وہ اٹھے اور پلنگ پر لیٹ کر بولے

" "ندا  اب تم  میرا   لن چوسو"  جون ہی انکل پلنگ پر لیٹے تو میری نطر ان کے لن پر پڑی ۔۔۔سوری اسے لن  کہنا   لن سے مزاق  تھا  انکل کی  تو  چھوٹی سی للی تھی ۔۔پتلی اور باریک سی    جسے وہ آنٹی کو  منہ میں لینے کو کہ رہے تھے  " پر انٹی نے ان کا لن چوسنے سے انکار کر
دیا اور بولی " نہیں جانو اس  طرح   آپ جلدی چھوٹ جاؤ گے" اس  پر انکل  بڑی لجا جت   سے  بولے پلیز
ڈارلینگ  میرا بڑا دل کر رھا ھے کہ تم  میرا  لن اپنے  منہ میں ڈالو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخر کار
انکل کے بے حد  اصرار پر آنٹئ ان کے پاس جا کر بیٹھ گئ اور انہوں نے انکل کا لن اپنے ھاتھ میں پکڑا اور برا سا منہ بنا کر  مُٹھ مارنے لگی یہ دیکھ کر
انکل بولے ۔۔۔۔ندا۔۔۔۔۔۔مُٹھ نہیں  پلیز ۔۔۔۔ منہ میں ڈالو  نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب چار  و  ناچار  ندا آنٹی   اپنا  منہ  انکل  کے  لن پر لے گئی اور زبان نکال کر ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔۔جب آنٹی نیچے جھکی تو میری نطر ان کی گانڈ پر پڑی۔۔۔۔واہ۔۔۔کیا مست گانڈ تھی اسے دیکھتے ھی میرا لن بری طرح سے  کھڑا ہو گیا-پھر انٹی نے انکل کا پورا لن منہ میں ڈال لیا اور اسے اچھی طرح چوسنے لگی جیسے ھی آنٹی نے انکل کا  ننھا  سا  لن پورا منہ میں لیا  میرے بڑے سے لن  نے مجھ سے  فریاد کی اور بولا ۔۔ میرا بھی کچھ کر سا لے  ۔۔۔۔پر میں اس  کا کیا  کر سکتا   تھا۔۔؟؟؟

سواۓ   ھاتھ  میں پکڑ کر مسلنے کے۔۔۔۔سو وہ میں نے کیا  اور لن  کو ھاتھ  میں  پکڑ کر دبانے لگا ۔ اُدھر انکل اپنے لن پر آنٹی کے نرم ہونٹ  محسوس کر کے     مستی  سے  کراہ  رہے تھے  ۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ ندا تم  بہت اچھا   لن چوستی   ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔اُف ف ف۔ف۔ف۔ف۔ف۔۔۔۔۔میری جان مزہ آ گیا-  بلا شبہ  آنٹی کا لن چوسنے کا انداز بڑا ھی زبردست تھا  جسے دیکھ کر میں اور بھی گرم ہو گیا ۔۔۔اور۔۔۔لن۔۔۔مت پوچھو دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لن تو اتنا ۔۔بس ۔۔اتنا مست ہو گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اور اتنا اکڑ گیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنے  لن میں درد ہوتا  محسوس ہو رہا تھا۔۔۔او ر میں سوچ رہا تھا کہ آنٹی کتنا  زبردست لن چوستی  ھے  اُ  ن کو لن چوستے دیکھ  کر میرا   یہ    حال  ہو رہا ھے  تو  انکل کی حالت کیا  ہو  گی؟؟؟

۔۔۔۔۔ آنٹی ایسے ھی  2،3 منٹ تک انکل کا  لن چوستی ر ہی ۔"۔۔۔۔اور پھر اچانک   انہوں نے اپنا منہ  لن سے ھٹایا  اور بولی"  بس" اس سے زیادہ  میں   نہیں   چوسوں  گی  تو انکل بولے  تھوڑا سا اور چوسو  کہ بڑا مزہ  آ رہا تھا ۔۔۔۔لیکن      آنٹی   نہ   مانی۔۔۔ اور پلنگ پر  لیٹ گئ اور  بولی بڑی ادا سے بولی  ۔۔۔۔۔۔  . مجھے ۔چودو  نا۔۔۔  جان۔۔۔۔۔۔۔

یہ سُن کر انکل بیڈ   سے  اٹھے  اور  آنٹی کی  ٹانگوں  کے  درمیان  آ گے اور آنٹی سے بولے  ایک  دفح  اور چوس  لیتی  تو  کیا  بات  تھی ۔۔پر  آنٹی نے ان کی  یس   بات  کا   کوئ جواب  نہ  دیا  بس ٹانگوں  کو  تھوڑا  اٹھا   دیا یہ یو با ت  کا سگنل تھا کہ اندر ڈال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انکل نے اپنے  لن پر تھوڑا سا  تُھوک  لگایا  اور آنٹی  کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر ھلکا    سا  دھکا  لگایا  اور آئ  تھنک لن  انٹی کی چوت  میں اتر گیا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ  میں نے آنٹی کی ہلکی  سی کراہ  سنی   تھی  وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔آہ  میری جان زور سے دھکا مار  نا۔۔۔۔۔۔  یہ سن کر انکل نے اپنے دھکوں کی رفتار  تیز  کر دی   اور زور زور سے لن کو آنٹی کی چوت میں اندر باہر  کرنے لگے۔۔۔۔ اور  پھر 7،8 دھکوں کے بحد   ہی  انکل ایک دم چیخے۔۔۔۔۔۔۔۔آو۔۔آو۔۔و۔۔و۔و۔وو۔و۔و۔۔و۔۔۔  ان کی یہ اواز سنتے ھی  آنٹی  ان کے نیچے سے چلائ ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔پلیز۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔ ابھی  نھیں ۔۔۔۔۔ زمان  مجھے   اور  لن  چایۓ ۔۔۔۔ میں نے ابھی  اور چدوانا ھے   ابھی تو میری پھدی گرم ہوئ ھے      ۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔  جان۔۔۔۔     پر انکل  نے آنٹی کی بات سنی ان سنی کر دی  اور تیز تیز  دھکے مارتے رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر  اگلے ھی لمحے  ان کی کافی اونچی اواز سنائ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندا۔۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔ا۔اا۔۔ا۔۔ا۔۔ا۔ا۔۔ا۔۔۔۔ میں جا۔۔۔رہا ہوں اور یہ کہتے ہوۓ وہ  آنٹی کے اوپر  ہی  لیٹ گئے اور جھٹکے لینے لگے اور انہوں نے اپنی ساری منی      آنٹی کی چوت میں ھی چھوڑ دی۔۔۔۔۔
   اُس   ٹائم   میں نے آنٹی کو دیکھا  تو وہ بڑی اپ سیٹ نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر میں نے ان کی غصوے سے بھری آواز سنی ۔۔۔ وہ کہ رہی تھی یہ تم نے کیا  کیا زمان ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ مجھے تمھارا  لن   مزید  لینا   تھا  ۔  دیکھ لو  تم نے پھر وہی    حرکت  کی ہے نا۔۔۔۔۔ منح بھی کیا تھا کہ لن نا    چوسواؤ۔۔۔۔ پر تم کسی کی سنتے کب ہو۔۔۔۔ آنٹی کی ڈانٹ سن کر انکل نے ایک کھسیانی سی ھنسی  ھنس کر بولے ۔۔ کوئ با ت نہیں ڈارلنگ  میں کل زیادہ  ٹائم  لگا دوں گا۔۔۔۔ یہ سن کر آنٹی آگ بگولہ  ھو گئ اور بولی ٹائم  کے بچے مجھے ابھی لن چاہ
ۓ اور تم کل کی بات کر رہے ہو۔۔۔ آنٹی کی بات سن کر انکل دوبارہ کھسیانی ھنسی ھنس کر بولے " انگلی  مار دوں"   
   یہ سن کر آنٹی کو مزید غصہ آ گیا اور  تقریباً چلا کر بولی ۔۔۔۔بہن چود ۔۔۔ حرامی ۔۔۔۔۔ سالے۔۔۔۔ تم ہمیشہ ایسے  ہی  بہانے بناتے  ہو۔۔۔۔ اور پلنگ سے اُٹھ کر کپڑے   پہننے  لگی
 یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا  اور جا  کر بیڈ  پر لیٹ  گیا  لیکن  نیند  میری آنکھوں سے کوسوں  دور تھی  میں بہت  زیادہ  گرم ہو چکا  تھا  اور میرا  لن میرے پاجامے  میں کھڑا تھا اور  بیٹھنے کا نام ھی نہیں لے رہا تھا  گرمی سے میرے ہونٹ خشک ہو رہے تھے اور میں ھلکا  ہلکا  کانپ  بھی  رھا   تھا میرا حلق بھی  خشک ہو  رہا تھا اور میں لن کو ہاتھ    میں  پکڑے اسے   مسلسل  دبا  رھا  تھا  میں نے سوچا  چلو  مُٹھ   مارتا شاید کھچھ سکُون    مل جا
ۓ  ۔۔ پر  مُٹھ سے پہلے مجھے سخت  پیاس  لگ  رہی   تھی  چنانچہ   میں  ٹھنڈا  پانی  پینے کے لیۓ  کچن کی طرف  چلا گیا اور پھر ٹھنڈے پانی کی بوتل کے لیۓ  جیسے ھی میں نے   فرج   کا  دروازہ    کھولا  مجھے ندا آنٹی  بھی  کچن کی طرف  آتی     دکھائ  دی     اُنہوں نے  بھی مجھے    دیکھ  لیا  تھا  سو جیسے ھی وہ میرے پاس  آئ اور بڑے خوشگوار لہجے میں  بولی ھیلو شاہ    جی  کیا ہو رہا ھے ؟  میں  نے ندا آنٹی کے سوال کا کوئ  جواب نا  دیا اور چپ  رہا کہ اس وقت  میری حالت  کافی  خراب تھی میری  آنکھیں اور چہرہ بہت  سُرخ  ہو رہے تھے اور میں  جزبات  کی وجہ سے ہولے ہولے کانپ بھی   رہا تھا میری ساری باڈی    ہیٹ کی وجہ سے  بہت  تپ رہی تھی ۔۔ آنٹی نے جو میری حالت دیکھی  تو وہ یہ  سمجھی  کہ میں بخار کی وجہ سے  تپ رہا ہوں – وہ آکے  بڑھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے ماتھے پر رکھ کر بولی۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔ شاہ جی تم کو تو بڑا سخت  بخار  ھے


 اور تمہارا  جسم بخار کی وجہ سے تپ رھا ھے اور یہ کہ کر انہوں نے میرا ھاتھ  پکڑا  اور مجھے بیڈ روم میں لے گئ  اور مجھے بستر پر لٹا کر بولی  تم لیٹو  میں تمھارے لی
ۓ دوائ وغیرہ   لے کر آتی ہوں یہ کہا اور  دوائ لینے کے لیۓ چلی  گئ    کچھ   دیر بعد جب وہ واپس آی تو  ان کے ہاتھ  میں کچھ  گولیاں اور پانی کا گلاس تھا وہ میرے پاس آی اور بولی     اُٹھو  بیٹا  یہ  دوائ کھا لو  اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر  اٹھا لیا  ۔  اور میرے ساتھ پلنگ پر ہی  بیٹھ  گئ میں نے ان کے ہاتھ سے گولیاں لیں اور وہ تھوڑا میری طرف جھک گئ اور پانی کا   گلاس  میرے منہ سے لگا  دیا-
  گرمیوں کے  دن  تھے  اور آنٹی  نے  باریک سا لباس  پہنا ہوا تھا اُس پر قیامت  یہ کی ان کی  قمیص  کا گلا  کچھ  زیادہ  ھی کھلا  تھا  میں جو  پہلے ھی سیکس    کی آگ میں جل رہا تھا  اور اب اُن کے یوں نزدیک بلکل میرے پاس  بیٹھنے سے میرا حال مزید  بے حال ہوتا جا رہا تھا   چنانہ جب انہوں نے   جھک کر پانی کا گلاس میرے منہ   سے  لگایا  تو  میری نطر  ان کے شفاف بدن پر تھی ان کے اس طرح جھکنے سے مجھے  ان  کے موٹے ممے  اس قدر صاف اور واضح نظر  آ
ۓ کہ مجھے خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا چنانچہ  میں نے اپنا  لن اُن کی کمر کے ساتھ   ٹچ  کر دیا لکین  وہ میری صحت کے بارے  میں اتنی فکر مند تھیں کہ ان کو محسوس ہی نہ ہوا کہ  میرا لن ان کی کمر کو ٹچ کر رہا ہے  چنانہ انہوں نے   اس ٹچ  کا  کوئ نوٹس نہ لیا  لیکن جب میں نے اپنا لن    اُن کے ساتھ  دوسری ۔۔۔۔۔ پھر  تیسری دفحہ ٹچ کیا تو وہ تھوڑا  سا  چونکی  اور پھر جوں ہی اُنہوں نے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا  تو ۔۔۔۔۔۔ وہاں ایک  موٹا  اور  بڑا  سا  لن  مست ہاتھی کی طرح  پاجامے میں  لہرا رہا تھا   میرے لن کا سائز ۔۔  لمبائ ۔۔  موٹائ یہ  سب دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے اختیار ہو کر  بولی ۔۔۔۔   اوہ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ۔۔  میں نے دیکھا کہ حیرت کی وجہ سے  ان کی آنکھیں  ڈھیلو ں سے باہر نکلی ہویئں  تھیں اور وہ متاثر کُن نطروں سے لہراتے ہوۓ لن کو  مسلسل دیکھے جا رہی تھیں ( بحد میں انہوں نے مجھ  سے  اس بات کا  اعتراف بھی  کیا تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے لڑکے سے اتنے بڑے لن کی توقع نہیں کر رہی تھی) وہ کبھی مجھے اور کبھی میرے لن کو دیکھتی اور اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ  ان  پر زبان پھیرتی جا رہی تھی ۔۔۔ اُ ن کا چہرہ جزبات کی وجہ سے سُرخ ھو رہا تھا اور اُن کو کچھ سمجھ نھیں آ رہا تھا کہ وہ میری اس حرکت پر کیا ری ایکٹ کرے۔۔۔۔۔ کیونکہ  تھوڑی دیر قبل  وہ خود بھی اس آگ میں جل چکی تھی ۔۔۔۔ اور میرا لن دیکھ کر اُن کے جزبات میں اُتھل پتھل ہو چکی تھی جس کا ثبوت اُن کا سُرخ چہرہ اور خشک ہونٹ تھے۔ جب وہ لن کی طرف دیکھتی تو ان کا دل کرتا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کر لیں پر جب میری طرف دیکھتی   تو وہ سوچ میں پڑ جاتی کہیں ایسا نا ہو جاۓ کہیں ویسا نہ  ہو جاۓ
غرص کی وہ ایک دوراہے کر کھڑی نظر آ رہی  تھی ۔۔۔۔

اُن کے یہ  تائثرات  دیکھ  کر میں نے ہی کچھ کرنے کی ٹھانی  ویسے بھی عورت ہونے کی وجہ سے وہ پہل نہ کر سکتی تھی اور میرا یہ حال تھا کی منی میرے سر پر چٹرھی ہوئ تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے فوراً  ہی  پاجامے  کا  نالا  کھولا  اور  لن کو پاجامے سے باہر کر دیا میرے موٹے ٹوپے کو دیکھ کر وہ اور متاثر ہوئ کہ نھیں یہ  میں  نہیں  جانتا پر میں نے یہ ضرور جج کر لیا کہ اُن کی نظریں اب بھی میرے لن پر ھی تھیں میں نے دوسری حرکت یہ کی کہ میں نے اُن کا گورا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ جو ہو سو ہو ۔۔۔
جیسے ھی میں نے اُن کا ہاتھ اپنے لن پر رکھا اُنہوں نے فوراً ہی  اپنا  ہاتھ  وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔پر میں نے  زبردستی ان کا ہاتھ اپنے لن پر ٹکا دیا-
انُہوں نے لن پر ہاتھ   رکھے رکھے میری طرف دیکھا اور سرگوشی میں  بولی ۔۔۔۔۔۔ ایسا نہ کرو شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر میں نے زبردستی ان کا ہاتھ  اپنے لن پر رکھے رکھا ۔۔۔۔۔۔ ۔  اور بولا آنٹی پلیز  بس تھوڑی دیر میرا لن پکڑے رکھیں اور ان کا ہاتھ لن پر دبا دیا ۔۔۔۔    اس پر وہ بولیں ۔۔۔۔۔ دیکھو تم میرے آصف کے دوست ھو اور مجھے آصف ہی کی طرح لگتے ہو ۔۔۔۔ اور میں تمہاری آنٹی ہوں  ۔۔۔۔۔۔ یہ کہا اور ایک گہری سانس لی  اور سر جھکا لیا ۔۔۔۔ تب میں نے ان سے کہا   آنٹی جی  !!۔۔۔۔ بےشک آپ میری انٹی ہو   اور بے شک آپ میرے دوست کی ماں ہو پر آپ  ایک  عورت بھی ہو  ۔۔۔ اور    مجھے پتہ ھے کہ اس وقت   اس عورت کو اس کی  شدید  ضرورت ھے   اس لی
ۓ کہ میں نے  تھوڑی دیر پہلے آپ کا انکل کے ساتھ  سارا سیکس سین دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔
میری بات سن کر وہ ایک دم اپنی جگہ سے اُچھلی ۔۔ ایسا لگا کہ کسی نے ان کے پاؤں میں بم  پھوڑ دیا  ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے  بڑی بے یقینی سے میری طرف  دیکھا اور بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تت۔۔۔ تت ۔۔۔ تم نے کب دیکھا۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟   ان کی انکھوں میں ہزاروں سوال تھے۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اب سے کھچھ دیر پہلے ۔۔۔۔۔۔اور میں نے جلدی جلدی ساری سٹوری سنا دی۔۔۔۔ اس دوران وہ پھٹی پھٹی نطروں سے میری طرف دیکھے جا ری تھی ۔۔۔۔  جب میں نے بات ختم کی وہ کافی حد تک نارمل  ہو چکی تھی کہنے لگی ۔۔۔۔۔ اچھا  تو تم یہ سب کھچہ دیکھتے رہے ۔۔۔ بڑے بے شرم ہو تم ۔۔۔  ان کا موڈ دیکھ کر مجھے کچھ اور حوصلہ ہوا اور میں نے کچھ اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔  اور بولا ۔۔ یس س۔س۔س آنٹی جی اس کے ساتھ ساتھ  میں نا اپ کے جسم کا ایک ایک انچ بھی دیکھا ہے  اور آنٹی بڑا زبردست جسم ھے آپ کا ۔۔۔۔۔  اور آنٹی جی مجھے بخار نہیں آپ کے جسم کی گرمی ھے جو میرے   پورے بدن میں پھیلی ہوئ ھے
میں نے یہ کہا اور ساتھ ھی اپنا منہ ان کے پاس لے گیا اور آنٹی کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دی
ۓ ۔۔۔ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ ادھر اُدھر کرنے کی کوشش کی  پھر میری مسلسل کوشش کو دیکھ کر اپنا منہ ایک جگہ کھڑا کر دیا اُن کی مزاحمت  دم توڑ چکی تھی  اب میں نے اپنی زبان نکا ل کر ان کے ہونٹ چاٹنا شروع کر دیۓ پہلے تو انہوں نے اپنا منہ سختی سے بند رکھا پھر دھیرے دھیرے ان کے ہونٹوں کی سختی نرمی میں بدلتی گئ اور پھر انھوں نے اپنا منہ میری زبان کے لیۓ پوری طرح کھول دیا اوراب  میں نے  اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کر دی  اُف ف ف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان  کا منہ بڑا ہی گرم اور اس میں سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی میں نے بڑی بے صبری سے ان کی زبان کو اپنے منہ میں لیا اور اس کو چوسنے لگا  ۔۔۔۔۔ اور کافی دیر تک ان کی ٹیسٹی زبان کا رس اپنے منہ میں منتقل کرتا رہا اس دوران پہلی  دفہ مجھے ان کا ھاتھ اپنے لن پر سخت ہوتا ہوا محسوس ہوا- وہ با ر بار میرے لن کو اپنی مُٹھی میں پکڑ کر دباۓ جا ری تھیں-
کچھ دیر تک ہم کسنکگ کرتے رہے پھر جب ان کا ہاتھ کی گرفت میرے لن پر کافی ٹائٹ محسوس تو میں نے کسنگ چھوڑ دی اور اپنا منہ ان کے منہ سا الگ کر لیا ۔ جیسے ھی ان کا منہ میرے منہ سے الگ ہوا ان کی ساری توجو میرے لن کی طرف منتقل ہو گئ  اور انہوں نے میرا لن ہاتھ میں پکڑا تو پہلے سے ہوا تھا اب انہوں نے میری مُٹھ مارنی شروع کر دی اور بولی ۔۔ شاہ تمھارا لن بڑا ہی  کمال کا ہے اس نے تو مجھے پاگل کر دیا ھے   ۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آنٹی میرا لن اچھا ھے نا۔۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا  نہیں بہت اچھا  ہے ۔۔۔۔۔ یہ سن کر میں نے ان کا سر پکڑ کر لن کی طرف دبا دیا اور بولا آنٹی جی میرا بھی لن چوسو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔اور کہا جیسے آپ انکل کا چوس رہی تھی ویسے ھی میرا بھی چوسیں

انہوں نے لن پکڑے پکڑے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ فکر نہیں کرو میں  انکل کی طرح  نہیں بلکہ اس سے بھی  اچھا  تمہارا لن  چوسوں گی  یہ کہا اور اپنا سر میرے لن پر جھکا دیا-
اب انہوں نے اپنی زبان منہ سے باہر  نکالی اور میرے ٹوپے کو چاٹنا شروع کر دیا  پھر  اس کے بعد انہوں نے میرا لن اپنے منہ میں لینا شروع کر دیا انہوں نے میرے سخت لن کو   اپنے نرم ہونٹوں میں بڑی سختی سے  دبا لیا اور  آہستہ آہستہ اپنا منہ لن کے نیچے کی طرف لے جانا شروع کر دیا   اور اس کے ساتھ ساتھ   وہ   لن کو اپنی زبان کا ٹچ بھی دیتی جاتی  تھی  اس طرح  انہوں نے  اپنا منہ جہاں تک ہو سکا میرے لن کے اینڈ تک  لے گیئں جب لن کا منہ آگے جانا ممکن نہ رہا تو انہوں نے اندر ہی اندر لن پر زبان پھیری اور لن کہ اپنے منہ سے   باہر نکال  لیا  اور  پھر ۔۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان سے سارا لن چاٹنا  شروع کر دیا اور  نیچے سے لے کراوپر تک  میرے لن کو خوب  چاٹا پھر جب لن کو چاٹتے چاٹتے اوپر تک آئ تو پھر سے لن کو اپنے منہ میں لے کر  پھر سے چوسنا   شروع کر دیا
     اُف ۔ف۔ف۔فف۔ف۔فف۔  ایک تو آنٹی کے لن چوسنے   کا دلکش  انداز دوسرا  ان کے  منہ کی گرمی  ۔۔۔۔ ان سب چیزوں نے مل کر مجھے پا گل سا کر دیا اور   میرے سارے بدن میں ایک آگ سی بھر گئ چنانچہ   اگلی دفعہ جیسے ہی آنٹی نے میرا سارا لن اپنے منہ میں ڈالا ۔۔۔  تو ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے سارے جسم کا  خون میرے لن کی طرف دوڑ رھا ھے  اور میں نے آنٹی کا  سر بڑی  مضبو طی   سے پکڑ لیا  اور اس کو اپنے لن کی طرف دبانے لگا میرا خیال ہے وہ  سمجھ  گئ   تھی  کہ میں چھٹنے والا ہوں  سو انہوں نے بڑی ٹرائ کی کہ وہ اپنے منہ سے میرا لن باہر نکال سکیں لیکن میں نے ان کا سر اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر سکیں – اس کھیچھا تانی میں وہ بس اتنا ہی کر سکیں کہ میرا ٹوپا  ہی ان کے منہ میں  رہ گیا اور۔۔۔۔۔
پھر اچانک ہی میرے لن نے ایک پچکاری ماری اور ساری   منی ان کے منہ میں گرنا شروع ہو گئ ۔۔۔۔

جیسے ہی میری منی ان کے منہ میں گرنا شروع  ہوئ وہ  بھی  جوش میں آ گٰئ اور انہوں نے باہر بچے ہوۓ لن کی مُٹھ مارنا شروع کر دی اور جب انہوں نے محسوس کر لیا کہ منی کا آخری قطرہ بھی ان کے منہ میں گر      چکا ہے تو انہوں نے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور ساری منی  قالین پر تھوک  کر بڑی ہی مست آواز میں بولی "   گندا بچہ " پھر مسکرائ اور پاس پڑے دوپٹے سے اپنا منہ   صاف  کیا   اور   بولی  " مسٹر شاہ تم تھوڑے سے فریش ہو جاؤ"  میں تمھارے انکل کو دیکھ کر ابھی آتی ہوں یہ کہ کر وہ چلی گئ

تقریباً  10،15 منٹ کے بعد وہ واپس آئ تو میں نے ان سا پوچھا کہ آنٹی انکل کی کیا پوزیشن ھے ؟ تو وہ برا سا منہ بنا کر بولی بے خبر سو رہا ھے سالا اور  پھر میرے لیۓ  اپنی  باہیں   پھیلا  دیں میں بھاگ کر گیا اور ان کے گلے سے لگ گیا  انُہوں نے  بڑی گرم جوشی کے ساتھ اپنا سینہ میرے سینے کے ساتھ دبایا  اور میری گردن پر بوسہ دیا پھر اُنہوں نے میرے دائیں کان کی لو کو اپنے منہ میں لیا اور  اسے چوسنے لگی  جس سے میرے سارے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئ اور میں نے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹوں پر رکھ دیۓ اور ان کا نیچے والا ہونٹ چوسنا شروع کر دیا ۔۔پھر آنٹئ  نے اپنی زبان میرے  منہ میں ڈالی اور ان کی زبان میری زبان کو تلاش کرنے لگی یہ دیکھ کر  میں نے فوراً  ہی اپنی زبان کو ان کی زبان کے حوالے کر دیا اور اب ہماری زبانوں نے آپس میں ٹکرانا  شروع کر دیا تو مجھے ان کی زبان تھوڑی سی نمکین محسوس ہوئ ۔۔۔ اور میں تھوڑا  ہچکچایا  تو وہ سمجھ   گئ  اور اپنا  منہ ہٹا کر بولی ڈرو نہیں یہ تمہاری ہی منی کا ٹیسٹ ھے تو میں نے کہا کہ وہ تو آپ نے تھوک دی تھی  تو وہ کہنے لگی نہیں تھوڑی سی رکھ بھی لی تھی تو میں نے کہا وہ کیوں تو وہ کہنے لگی " بس ویسے ہی " اور کہنے لگی اپنی زبان دو میں چوسوں گی اور  دوبارہ زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میری زبان کو چوسنے لگی – زبان چوسا ئ کے ساتھ ساتھ ان کا تھُوک بھی میرے منہ میں آ گیا   تھا میں نے ان کا تھُوک اپنے منہ میں جمع کیے اور پھر اس میں کچھ اپنی طرف سے اضافہ کیا اور ان کے منہ میں واپس ڈال دیا اور اس طرح ہم کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے اس دوران میرا لن پھر سے کھڑا ہو چکا تھا سو انہوں نے اپنے ایک ہاتھ سے میرے لن کو پکڑا اور اسے دبانے لگی


پھر انہوں نے اپنا منہ میرے منہ سے ہٹایا اور مست اؒواز مین بولی  بولی " دودھ پیو گے بےبی " یہ کہا اور اپنی قمیض اتار دی اور پھر جلدی سے برا کا ہُک بھی کھول دیا اور مما ننگا کر کے اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور نپل میرے منہ کے ساتھ لگا کر بولی دودھ پی لے منا اور میں نے ان کا نپل اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگا  جبکہ دوسرے ھاتھ سے ان کا دوسرے ممے کا نپل مسلنے لگا ۔۔۔۔ اور آنٹی نے مستی میں کراہنا شروع کر دیا ۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔۔  چوستے رہو میرا مما ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ھی پیتے رہو میرا دودھ ۔۔۔۔آہ ۔ہ۔ہ۔۔۔ہمم مم۔ اور میں اگلے 10 منٹ تک ایسے  ہی  آنٹی کے  باری باری    نپلز  چوستا اور مسلتا رہا-
پھر انٹی نے میرے منہ سے اپنے نپلز چھڑا
ۓ اور  بولی  آؤ اب کچھ اور کرے ھیں اور جلدی سے مجھے کپڑے اتارنے کو کہا اور خود وہ اوپری ننگی تھی ہی سو  اب اُنہوں نے  فٹوفٹ  اپنی شلوار بھی اتار دی اور فل ننگی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئ پھر جیسے ھی میں ننگا ھو کر ان کے پاس بیڈ پر پہنچا  تو وہ چھلانگ لگا کر بیڈ سے اٹھی اور میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی  اُف۔۔۔۔۔کیا لن ھے اور پھر اپنا منہ لن کے قریب لے گئ اور ایک چوما دے کر بولی  تمہیں پتہ ھے جب فرسٹ ٹائم میں نے اسے دیکھا تھا تو میں اسی وقت لیک ہو گئ تھی یہ کہا اور لن کہ منہ میں لے کر پُر جوش طریقے سے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔


آنٹی کافی دیر تک مجھے اپنے  زبردست  چوپے کا مزہ دیتی رہی  پھر اُنہوں نے اپنے منہ سے  میرے  لن  نکلا  اور بیڈ  پر سیدھی   ہو  کر لیٹ  گئ   اور انہوں نے  ٹانگیں کھول دیں اور  اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے بولی شاہ میری پھدی کا مزہ نہیں  لو  گئے ؟؟   یہ سُن کر میں ان کی ٹانگوں کے بیچ جا کر بیٹھ گیا اور آنٹی کی چوت دیکھنے لگا-  آنٹی کی پھدی بالوں سے پاک تھی اور پھدی کے لپس  کافی سُرخ تھے  پھدی کے سُوراخ کے عین اوپر براؤن رنگ کا موٹا سا  دانہ  تھا  جو اُس  وقت   تک  کافی  سُوجا  ہوا   تھا میں نے یہ سب ایک نطر میں دیکھا اور اپنے ہونٹ آنٹی کی چوت پر رکھ دی
ۓ  ۔ ۔۔۔۔ ان کی چوت سے بڑی ہی مست مہک آ رہی تھی اور میں بے کود ہو کر وہ بُو سونگھنے لگا ۔۔۔۔  میں کافی دیر تک آنٹی کی پھدی سے آنے والی مہک سونگھتا رہا پھر میں نے میں  اپنی  زبان  منہ سے باہر نکالی اور ان کی چوت  پر رکھ دی-
آنٹی کی چوت بڑی تپی  ہوئ  اور گرم  تھی  اور پھر جیسے ہی میں نے اپنی زبان اُن کی پھدی میں ڈالی تو ۔۔۔۔ وہ بہت زیادہ گیلی تھی اور اُن کی چوت کے گرم پانی  کا زائقہ مجھے اپنی  زبان پر بڑا اچھا لگ رہا تھا اب میں نے اپنی زبان ان کی چوت کے  تھوڑا اور اندر لے گیا اور اچھی طرح سے چوت چاٹنے لگا ادھر آنٹی  مزے کے مارے شور مچا رہی تھی  آہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ ہ۔ہ ۔۔۔ شاہ ۔۔۔ تم نے اتنی اچھی طرح چوت  چاٹنا کہاں سے سیکھا؟؟؟؟ ۔۔۔۔ تمہاری زبان تو میری جان  نکا ل دے گی ۔۔۔ اور دوران آنٹی 2،3 دفعہ ڈسچارج بھی ہوئ ۔۔۔۔ پر میں ان کی چوت چاٹنے میں لگا رہا ۔۔۔آخر کر  آنٹی مجھ  سے خود ہی  بولی ۔۔۔۔ بس میری جان بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب لن میری اندر ڈالو کہ تمھارے چاٹے نے تو میری چوت  کی پیاس اور بھی بڑھا دی ہے۔۔


یہ سن نے اپنا منہ ان کی چوت سے ہٹا دیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لن کو ان کی چوت پر سیٹ کیا اور ہلکا  سا  دھکا  لگا  کر اندر ڈالنے لگا  تو اس  دوران آنٹی بولی ۔۔۔ لن اندر ڈال کر تھوڑی دیر ہلنا نہیں    تو میں نے کہا ہلنا کیوں نہیں آنٹی جی   ؟؟؟؟؟؟؟؟  تو وہ کہنے لگی  میں کھچہ دیر تمہارا لن اپنی چوت میں محسوس کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ تو میں نے کہا کہ ٹھیک ھے آنٹی جیسا کہا ھے ویسا ہی ہو گا اور ٹوپا ان کی چوت کے اینڈ پر رکھا اور ہلکا سا دبا دیا اور لن پھسلتا ہوا   آنٹی کی چوت میں داخل ہو گیا – جیسے ہی لن آنٹی کی چوت میں گھسا آنٹی نے مستی میں ایک چیخ ماری آُف۔۔ ۔۔۔ ف ۔۔۔ ف  آہ۔۔۔۔ ہ ۔۔ شاہ تیرا لن بہت بڑا اور ۔۔۔ آہ  ہ ہ۔۔ پورا ڈال۔۔۔۔۔ لن پورا    ڈالنا ۔۔۔۔ پھر بولی سُنا تم نے لن پورا ڈالنا۔۔۔۔۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ ۔۔۔۔ آنٹی میں لن پورا ہی ڈالوں گا ۔۔۔میں نے یہ کہا اور ایک زور دار گھسا مارا ۔۔۔۔۔ وہ پھر مستی میں چلائ ۔۔ مار دیا شاہ تیرے لن نے مار دیا  میں تمھارے لن کی نشے میں  ڈوب رہی ہوں اور بولی ۔۔۔۔ اب ہلنا نہیں بس ایسے ہی لن پڑا رہنے دو اور خود آنکھیں  بند کر لی اور بولی  شاہ ہ ہ ۔۔۔۔  میں تمہارے لن کا مزہ لے رہی ہوں میری چوت تمہارے لن سے بھر گئ ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر تک لن اُن کی چوت میں پڑا رہا

پھر اچا نک آنٹی نے اپنے چوتڑ نیچے سے اُٹھا کر گھسا مارا اور  بولی  مار میری پھدی کو مار ۔۔۔۔۔ بہن چود مار نا۔۔۔۔  اور میں سمجھ گیا کہ آنٹی  اب چھوٹنے والی ہیں ۔۔  چناچہ  میں نے زور زور گھسے مارنا شروع کر دیۓ میرے ہر گھسے کا وہ مزہ لیتی اور پھر سے کہتی ۔۔۔۔۔۔ میری چوت پھاڑ دے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر   ان کا سانس  دھوکنی کی طرح  چلنا  شروع  ہو گیا اور اب ان کے منہ سے بس آ آ آ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ  ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ کی آوازیں نکلتی رہیں اور پھر مجھے بھی ایسا لگا کہ میری ٹانگوں کا سارا خون میرے لن کی طرف بھاگ رہا ھے ۔۔۔۔ تب میں نے اپنے گھسوں کی رفتار مزید بڑھا دی ۔۔۔  یہ دیکھ کر آنٹی چونک گئ اور بولی شاہ ہ ہ تم ۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اُکھڑے اُکھڑے سانسوں میں جواب دیا ۔۔۔۔۔ ہاں میں بھی چھوٹنے والا ہوں یہ سن کر انہوں نے میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شوروع کر دیا اور بولیں ۔۔۔۔  چھوٹ میری ۔۔۔۔ جان میری میں اپنا سارا پانی  چھوڑنا ایک قطرہ بھی پھدی سے باہر نہیں جانا چاہیۓ ۔۔۔ شاباش چھوٹ۔۔۔۔ چھوٹ نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر میں 2،3 اچھے خاصے گھسوں کے بعد ان کی پانی سے بھری چوت میں چُھوٹتا گیا
ختم شد

 romantic urdu bold novels

new urdu bold novels

urdu bold novels list

urdu bold novels pdf

most romantic and bold urdu novels list

husband wife bold urdu novels

hot and bold urdu novels pdf

urdu bold novels and stories

urdu bold novels and short stories

most romantic and bold urdu novels

یادوں کی برات


یادوں کی برات

دوستو  کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ  کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب………….  آج تم  یاد  بے حساب آئے۔۔۔کچھ اسی  طرح   آج  مجھے تھوڑے  فرصت کے لمحات  میسر ہوئے  تو میں غمِ جہاں میں تو نہیں البتہ غمِ دوستاں  میں ضرور گمُ ہو گیا ۔۔۔۔ اور  یادِ ماضی  میں جاتے ہی  مجھے وہ رنگین آنچل یاد آگئے کہ جن کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا    اسی طرح سوچتے سوچتے میں   اپنی ۔۔۔یاریوں ۔۔ دوستیوں کے  بارے میں حساب کرنے   لگا     تو   اچانک ۔۔۔ ہی  مسز ثمرہ طارق خان کی یاد  نے میرا  دامن پکڑ لیا۔۔۔۔۔ اور۔۔ایسا پکڑا  کہ  میں  سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے انہی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔ کہ  کیسے  ہنستی تھی وہ  کیسے  چلتی تھی۔۔۔ ۔چاند کہ جیسے چھپتی اور نکلتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور ان  کی یاد اتنی بھر پور تھی کہ میں ان کی یاد کے آگے  وقتی طور پر  ۔۔۔۔۔ باقی سب  دوستیوں کے چراغوں میں روشنی  نہ رہی ۔۔اور مسز ثمرہ کو یاد کرتے ہوئے  یکا یک   مجھے ایسے لگا  کہ  جیسے ۔۔۔ میرے چاروں طرف پھول ہی پھول  کھل گئے ہوں ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایک   انجانی سی خوشبو  نے چاروں طرف سے   مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔یہ خوشبو مسز ثمرہ طارق خان کی تھی ۔۔ جو کہ میری طرح سے ایک سیکسی  لیکن  خوبصورت اور پُر وقار  عورت تھی۔۔اور جن کے بدن سے  اُٹھنے والی ۔۔۔   شہوت سے گندھی ہوئی خوشبو ۔آج بھی جب میں  یاد کرتا ہوں تو ۔۔ میرے  نیچے  کچھ کچھ  ہوتا  ہے۔۔۔۔دوستو آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ   مسز ثمرہ  طارق   خان کون ہے؟ اور  میرا اس سے کیا تعلق  ہے؟ تو   دوستو۔۔۔اس کے لیئے آپ کو  میرے  ساتھ     یادِ  ماضی میں  سفر کرنا  پڑے گا۔۔۔ہاں  مجھے یاد آیا کہ میں نے اس شاندار عورت پر ایک  کہانی بھی لکھی تھی۔۔۔پھر یاد آیا کہ  وہ  کہانی  تو   رومن  اردو  میں  لکھی گئی تھی  یہ سوچ آتے  ہی میں  نے  اپنی  پرانی  سٹوریوں کو نکال کر دیکھا  ۔۔۔۔تو ۔اس میں سے ۔۔مجھے  اپنی  وہ  کہانی   مل گئی۔۔اسے  پڑھ کر دیکھا   تو مجھے  اس میں تھوڑی بہت  درستگی کی ضرورت محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ سو  دوستو  میں اپنی  اس کہانی کو کہ جو اس سے قبل  رومن  اردو  میں  شائع   ہو  چکی ہے کواردو  فانٹ میں تھوڑی سی   ترمیم  و اضافہ کے ساتھ    دوبارہ    میں  شائع   کروا   رہا  ہوں ۔۔۔ پڑھ کر  اس  پر اپنی  رائے  کا  ضرور اظہار  کیجئے  گا۔شکریہ۔

 

یہ بات  قابلِ ذکر  ہے کہ مسز   ثمرہ  طارق خان کے ساتھ  میری سیکس سٹوری  تو  کافی عرصہ  پہلے  ہی   بن گئی تھی ۔۔۔ لیکن   بوجہ انہوں   نے  مجھے   اس  کو   پبلش کرنے کی اجازت    نہ  دی --  اس   لیئے  میں نے اسے لکھ  تو  لیا ۔۔۔ لیکن ان کی طرف سے  اجازت   نہ ملنے کی  وجہ   سے ۔۔۔ میں  اس کہانی  کو نیٹ پر  شا ئع     نہ کروا   سکا ۔۔۔ لیکن اب جبکہ وہ  یہاں  سے  انگلینڈ  شفٹ ہو گئیں  ہیں اور  جاتے جاتے  مجھے اس کو شائع کرنے کی اجازت بھی دے گئیں ہیں  اس لیئے   اب میں  اس سٹوری کو   ان کی  اجازت  سے  اپ لوڈ کر   رہا   ہوں۔ ویسے  تو  سب    ہی سٹوریز  کا  ردِعمل اچھا  آتا  تھا  لیکن    جب   میری  سٹوری  " چھوٹی  باجی "  نیٹ پر چھپی ۔۔  تو   میری   اس کہانی کو   باقی کہانیوں  کی نسبت کچھ  زیادہ   ہی       پسند کیا گیا  تھا ۔۔۔۔۔۔۔خاص کر خواتین  میں   یہ کہانی   بہت   پاپولر  ہوئی  تھی ان  دنوں    سٹوری  کے آخر  میں  ہم  لوگ  اس  پر  اپنی رائے  دینے کے لیئے    اپنا  ای میل ایڈریس  بھی  دیا  کرتے تھے ۔چنانچہ سٹوری  شائع  ہونے کے کچھ دنوں  بعد  ہی  مجھے  سٹوری کے بارے میں  اپنی پسندیدگی کی  بہت سی ستائیشی قسم کی ای   میلذ   ملیں ۔۔۔۔ ان ہی  میلز میں اسلام آباد سے ایک خاتون  کی شارٹ سی میل بھی آئی تھی  اس نے بس اتنا  ہی لکھا  تھا ۔۔۔
ہائے۔۔۔مجھے تمہاری  سٹوری  بہت پسند آئی  ہے ۔۔۔ کیا  یہ رئیل   ہے؟؟؟؟؟؟؟
 اس  پر میں نے اس کو جواب میں لکھا کہ نہ صرف یہ۔۔۔سٹوری  بلکہ  میری  شائع  ہونے والی دوسری سٹوریز میں بھی  کافی  حد تک حقیقت کا عنصر  موجود ہوتا ہے ۔ باقی زیبِ داستاں کے  لیئے تھوڑا   بہت  نمک مرچ   تو  لگانی ہی  پڑتی  ہے اوراس کے ساتھ ہی میں نے ۔۔سٹوری پسند کرنے پر اس کا شکریہ  بھی  ادا کیا  تھا۔۔۔۔  اگلے دن اس نے جواب میں لکھا کہ    شکریہ تو آپ  کا  بنتا  ہے کہ جو   اپنی  سٹوریوں سے  ہمیں اتنا  زیادہ  مزہ  دیتے  ہو۔۔۔ اس میل  کے جواب میں ۔۔۔ میں نے اس خاتون کو لکھا کہ ۔۔۔۔۔ محترمہ آپ صرف  سٹوری  پڑھ   کے  ہی مزہ لیتی  ہو۔۔یا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔وہ خاتون کہ جن  کا   نام    مسز ثمرہ طارق خان تھا۔۔۔۔۔ میری  میل میں   چُھپی اس ۔۔یا۔۔۔۔ کا  مطلب سمجھ گئیں ۔۔۔اور ۔۔پھر  اس کے  بعد  بڑی   ہی  پابندی  سے  ہم  لوگ     ہی   ایک دوسرے کو  ای میل کرنا  شروع  ہو گئے ( افسوس  کہ  میرا  وہ میل اڈریس کسی نے  ہیک کرلیا  تھا  ورنہ  میں ان کی  میل سے  چیدہ  چیدہ  اقتباسات کو   یہاں ضرور درج کرتا )۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ان کی میل سے   مجھے  پتہ  چلا کہ  وہ  ایک شادی شدہ  خاتون  ہے اور اس کا خاوند  انگلینڈ میں ہوتا ہے  اور اس نے بھی  وہاں  جانے کے لیئے  اپلائی  کیا  ہوا  ہے۔۔۔۔اور انگلینڈ کی قومیت  ملنے پر وہ  بھی  وہاں پر   شفٹ  ہو  جائیں گی   مزید یہ  کہ انہوں  نے ایم  بی اے کیا  ہوا  تھا  اور ان  دنوں وہ  اسلام آباد  میں  اپنے سسر کی  فیکڑی   کی  دیکھ  بھال کر رہی  ہے  ای میل سے چلنے والا یہ سلسلہ جلد ہی     ایم ایس این   مسینجر ( ان دنوں  یہی Messenger   ہوا کرتا تھا )  تک  جا پہنچا ۔۔۔۔ اور جیسا کہ  عام طور پر ہوتا ہے کہ  شروع شروع  میں وہ    میرے ساتھ  بڑی  ہی   محتاط   اور مہذ ب قسم کی باتیں  کیا کرتی تھی ۔۔۔۔ اور پڑھی لکھی  ہونے کی  وجہ  سے  اپنی  چیٹ میں  وہ   بڑے ہی  نپے تلے۔۔ اور محتاط  قسم کے  الفاظ  استعمال کیا  کرتی تھی ۔۔۔۔۔اور  مجھے ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتی تھی ۔۔۔۔۔۔ ادھر میری کوشش یہی تھی کہ وہ  میرے ساتھ کھل کر بات کرے  تا کہ معاملہ کچھ آگے بڑھے ۔۔۔۔۔۔  لیکن  اس کے ساتھ ساتھ میں  ان سے ایسی کوئی بات  بھی  نہ  کرنا  چاہتا  تھا ۔۔ کہ جس سے وہ   بِدک کر بھاگ جائے ۔۔۔۔۔ یا  ناراض ہو جائے۔۔۔۔ اس  لیئے  میں ان کے ساتھ چیٹ میں بڑا  ہی محتاط  رہا  کرتا تھا ۔۔لیکن ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ اپنے پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیئے ۔۔۔  میں اپنی اس گفتگو   میں    بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے  گاہے   بگاہے سیکس  کا   تڑکا  بھی   لگا  دیا کرتا  تھا ۔۔۔۔جسے  کبھی تو وہ نظر انداز کر دیتی تھی اور کبھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا  جواب  دے دیتی تھی۔۔۔

پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ میں نے  ان  سے چیٹ کرتے ہوئے اس میں سیکس کا عنصر بڑھا  دیا۔۔۔  پہلے تو   وہ  تھوڑا   ہچکچائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر تھوڑے نخرے ٹخرے  اور  میرے منت ترلوں کے بعد وہ تھوڑی سی لائین پر آ گئی۔۔۔ (اور ۔۔۔۔۔۔ مجھے معلوم تھا کہ   جلد یا  بدیر ۔اس نے ادھر آنا  ہی  تھا )۔۔۔۔۔۔۔۔۔  بس۔۔۔۔!!!! ۔۔۔ جیسا کہ  خاص کر  پاکستانی عورتوں کی عادت  ہوتی  ہے کہ بے شک اندر سے لن  لینے کے لیئے ان کا  من  شدید تڑپ  رہا  ہو ۔۔لیکن وہ کبھی بھی اس  بات کو  اپنے پارٹنر پر ظاہر نہیں کریں گی  ۔۔۔ہاں  اس کے برعکس   ۔۔۔ پہلے  پہلے تو  وہ  بہت لیئے  دیئے  رکھتی  ہیں  اور ۔۔آپ  پوچھیں  نہ  پوچھیں   وہ  اپنے آپ کو پارسا  ثابت کرنے کی بھر پُور  کوشش کرتی رہتی  ہیں ۔۔ اور اگر کوئی  ان کے ساتھ  کوئی  ایسی  ویسی  بات کر بھی دے تو    اپنے فرینڈ کے سامنے  وہ  ایسے پوز کرتیں ہیں کہ جیسے ان  کو ایسے  کاموں  سے گھن آتی  ہے۔۔۔۔  لیکن پھر آہستہ آہستہ   جب انہیں ۔۔۔ اس  بات  کا  یقین  ہو جائے کہ اگلا  بندہ  ان کے راز کو  راز  رکھے گا ۔۔۔ اور ۔۔ان کو کبھی بھی بلیک میل نہیں کرے گا   ۔۔۔تو  پھر وہ  بندے کے ساتھ  فری ہو جاتیں  ہیں ۔۔۔  اور آپ کے من کی مراد پوری کر دیتی ہیں ۔۔ لیکن اس  کام کے لیئے ان کو  اعتماد  دلانا  بہت ضروری   ہوتا  ہے اور جب ایک دفعہ ان کو اعتماد آ جائے تو۔۔۔پھر کیا کہنے جناب ۔۔۔۔  معشوقہ دے اور  معشوق لے  والا  معاملہ ایک دم فِٹ  ہو  جاتا  ہے۔۔ ۔۔۔ اسی لیئے  میں بھی ان کو ۔۔ اعتماد دلانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا  تھا  ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔کافی  عرصے کے بعد۔۔۔۔ دھیرے دھیرے ہی سہی ۔۔۔۔  آخرِ کار مسز ثمرہ  طارق خان کو بھی مجھ پر اعتماد  آ ہی گیا  اور   ۔۔۔دورانِ چیٹ  سب سے پہلے میں نے ان سے ان کے  بدن  کا  ناپ پوچھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔ جو تھوڑے جھجکتے  ہوئے ۔۔۔ تھوڑی  ہچکچاہٹ  کے بعدانہوں  نے  بتا  دیا ۔۔۔   جس کی میں   نے  جی بھر کے تعریف کی ۔۔اور میری تعریف سے وہ اتنی  خوش ہوئی کہ ۔۔۔ اب  وہ میرے ساتھ سیکسی  باتیں بھی کرنا شروع ہو گئی۔۔۔۔ میرا مطلب سائیبر سیکس سے ہے۔۔جن خواتین نے میرے ساتھ سائیبر سیکس کیا  ہوا  ہے  وہ  اچھی  طرح سے جانتی   ہیں کہ  رائیٹر ہونے  کے  ناطے   سے میرا سائیبر   سیکس   بڑا   ہاٹ  ہوتا ہے اور  میرے الفاظ کے چناؤ کی وجہ سے اکثر  لیڈیز  پانی  چھوڑ دیتیں  تھیں  ۔۔۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ  مجھے معلوم ہوتا تھا کہ  کس  مرحلے میں کون سا لفظ   استعمال کرنا ہے ۔ اور کس لفظ  کے پڑھتے  ہی     سامنے  والی  خاتون کے تن  بدن میں آگ لگے گی ۔۔اور وہ  نیچے سےگیلی  ہو جائے گی ۔  اس قسم کے الفاط کے استعمال سے میں خود بھی بہت گرم ہوجایا  کرتا تھا   ۔۔۔اور مجھ  پر    جب   یہ زیادہ گرمی  حد سے زیادہ  چڑھ جاتی تھی تو   میں کمپیوٹر کے سامنے  ہی  مُٹھ بھی  لگا  لیا کرتا  تھا  اسی  طرح میرے ساتھ  چیٹ کرنے  والی خاتون بھی ہاٹ ہو کر  فنگرنگ  کیا کرتی تھیں ۔۔۔۔ایسی  ہی  ایک  شام  کی بات ہے کہ   گپ شپ کے  دوران  جب میں اور مسز ثمرہ طارق  خان  بہت  زیادہ  ہاٹ ہو  گئے  اور ہماری  بات چیت اپنے عروج پر پہنچی تو  لوہا گرم دیکھ کر میں نے  ایک  سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اچانک ہی ۔۔ میں نے ۔ مسز  ثمرہ     طارق   کو    مسینجر  پر  یہ الفاظ  ٹائپ کیئے۔۔۔
۔۔۔۔ لفظوں سے نہیں  ۔۔۔۔۔میری جان میں آپ کو حقیقت میں چودنا  چاہتا  ہوں ۔۔۔!!!!
 اور پھر دھڑکتے دل کے ساتھ   ان کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔ چونکہ اس وقت    وہ  اپنے سیکس کے عروج  پر تھیں  ۔۔۔اس لیئے    فوراً   ہی  ان کا   گرمی سے بھرا    جواب موصول ہوا  ۔۔۔۔۔۔
میں بھی………….. تم سے چُدنا  چاہتی  ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  تیر نشانے پر لگتے دیکھ کر میں  دل  ہی  دل میں بڑا  خوش  ہوا ۔۔۔۔اور فوراً  ہی  اس کو  جواب  ٹائپ کرتے ہوئے لکھا ۔۔۔ ۔۔۔
 ۔۔۔۔۔۔پھر دیر کس بات کی ہے ؟
میرے سوال کے جواب میں  ۔۔۔کافی دیر تک اس طرف سے خاموشی رہی ۔۔۔ پھر ۔۔۔  انہوں  نے جواب میں لکھا ۔۔۔
۔۔۔دیر تو کوئی خاص  نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔ ان کا مختصر سا جواب پڑھ کے میں نے بڑی بے تابی سے جواب ٹائپ کیا اور لکھا ۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔
پر۔۔۔۔ پر۔۔۔ کیا؟
تو کچھ دیر خاموشی کے بعد انہوں نے   لکھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
 ان کا ٹائپ کیا  ہوا میسج پڑھ کر میں سمجھ  گیا کہ ۔۔۔وہ ملنے کو تو تیار ہے لیکن مجھ سے ملنے پر ان کو کچھ تحفظات  ہیں ۔۔۔۔( جو کہ جائز تھے)    لیکن اس کے برعکس میں  نے  جواب میں لکھا
۔۔۔ ڈر ۔۔۔ کیسا ڈر۔۔۔  ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اور ساتھ ہی ان کو یاد دلایا کہ میں ان کا  بہت اچھا  دوست  ہوں  ۔۔ اور۔۔ ہماری  دوستی کو  کافی عرصہ  ہو گیا ہے ۔۔۔  ۔۔اور میں ان سے  بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔اور اس کے ساتھ  ہی  میں نے اس کا ڈھیرساری کِسس ۔۔۔۔۔ بھیجنے کے ساتھ ساتھ اس کو کافی تسلیاں بھی دیں  ۔۔۔۔۔اور پھر ایک دفعہ پھر اس کو ملنے کی درخواست کی۔ میری درخواست پڑھ کو وہ کسی گہری  سوچ  میں  پڑ گئی  اور  کافی دیر تک سوچنے کے بعد اس نے مجھے  لکھا کہ  وہ  کل مجھے اس بارے  میں سوچ کر  بتائے گی۔۔۔


مسز ثمرہ طارق خان کو   نیم رضا مند دیکھ میرے ۔۔۔من اور لن ۔۔۔دونوں   میں  لڈو پھوٹنے   لگے اور میں بڑی  بے صبری سے اگلے دن کا انتظار کرنے لگا ۔۔ اگلے  دن  وہ مقررہ  وقت سے تھوڑا  لیٹ  نیٹ پر آئی اور  ۔۔ آتے ساتھ  ہی   میرے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنا  شروع  ہو گئی ۔۔۔ ادھر  میں ان  سے ملنےوالی  بات کو   جاننےلیئے   بہت بے تاب  ہو رہا  تھا ۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں وہ اس طرف نہیں آ رہی تھی ۔۔۔  میرے بار بار  پوچھنے پر آخر وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ ٹھیک  ہے  دوست  ۔۔ تمہاری  فرمائیش  پر  میں تم سے  ملوں گی ۔۔۔ مگر میری  ایک شرط ہو گی  تو  میں نے بلا تامل کہہ دیا کہ مجھے آپ کی  ہر شرط منظور  ہے تو وہ کہنے لگی  بنا   جانے تم یہ کیسے کہہ سکتے  ہو ؟؟۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا  میری  جان میں آپ سے ملنے کے لیئے ہر قیمت  دینے کو تیار  ہوں ۔۔۔ اسی لیئے مجھے آپ  کی ہر شرط منظور ہے اور اب آپ  بتاؤ کہ آپ کی کیا شرط ہے ؟؟؟؟؟ تو  وہ کہنے لگی ۔۔۔ میری شرط یہ ہے کہ مجھ سے ملنے کے لیئے تم کو میرے گھر آنا پڑے گا ۔۔۔ پھر آگے لکھا کہ ۔۔۔۔۔ بس یہی میری شرط تھی ۔۔۔ تو میں نے جواب میں لکھا کہ  جب آپ کہو گی  جہاں آپ  کہو گی میں وہیں پر آپ سے ملنے آؤں گا ۔۔۔


 میرا جواب پڑھ کر اس نے جواب میں  ایک مسکراہٹ بھیجی اور  لکھا کہ اگلے اتوار  کو میری ساس اور دیگر  گھر والے ایک شادی پر ایبٹ آباد  جا رہے ہیں  میں کوئی  بہانہ  بنا کر   رہ  جاؤں گی  چنانچہ تم   اس  دن  آ جانا ۔۔۔ تو میں نے اس  کو جواب میں لکھا کہ جو  حکم میری جان ۔۔ لیکن یہ تو بتاؤ کہ میں نے آنا  کہاں  ہے ؟ تو  وہ  کہنے لگی یہ   بات بھی  میں تم کو ہفتے کو  بتاؤں گی –( اُف  بڑی  ہی محتاط خاتون تھی)

یہ ہفتہ کیسے گزرا   یہ میں ہی جانتا ہوں۔۔۔ خیر جیسے تیسے گزر ہی گیا پھر حسبِ وعدہ  ہفتے کی شام  جب  وہ  مسنجر  پر آئی تو میرے استفسار  پر اس نے لکھا کہ    اتوار کی  صبع 11 بجے میں اسلام آباد کی سپر مارکیٹ   میں مسڑ بکس   کے سامنے  پارکنگ میں آ کر کھڑا  ہو جاؤں ۔۔ میں خود تم سے ملوں گی  ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی  اس نے مجھ سے میری بائیک  کا نمبر بھی  مانگا   جو میں نے اسے   دے دیا ۔  پھر انہوں نے مجھے خاص کر  تاکید کی  کہ ان  کے آنے  تک میں   اپنی   بائیک  کے پاس  ہی کھڑا   رہوں

پتہ نہیں   اتوار کی  وہ صبع سہانی تھی  یا کہ  ویسی  ہی  روٹین کے مطابق تھی کہ جیسے  ہر اتوار  کو  ہوا  کرتی  ہے لیکن میرے لیئے  وہ اتوار بڑی ہی خاص تھی ۔۔۔اور    مجھے ہر طرف ہرا  ہرا   ہی  دکھائی   دے  رہا  تھا ۔۔۔ اس دن صبع  صبع   میں نے اپنی انڈر شیو  کی  اور اپنے   لنڈ کو  اچھی طرح سے نہلا   دھلا اور  کھلا پلا کر ایک وی  آئی  پی چوت   سے لڑائی کے لیئے تیار کرلیا۔۔۔۔ ساری تیاریاں کرنے کے بعد میں  نے  وقت سے ایک گھنٹہ   پہلے ہی   اپنے کھٹارا    بائیک کو  سٹارٹ کیا اور اسلام آباد کی  سُپر  مارکیٹ کی طرف چل دیا ایک گھنٹہ پہلے اس لیئے کہ اگر بائیک صاحب حسبِ معمول راستے میں خراب ہو گئے تو ۔۔۔  باقی آپ سمجھ ہی گئے  ہوں  گئے۔۔ لیکن لگتا ہے کہ اس دن میری طرح میری  بائیک بھی  بڑے موڈ میں تھی۔۔۔۔ اور اس کو حالت کی  نزاکت  کا  پوری  طرح  ادراک  تھا  اس لیئے اس نے میرے ساتھ تعاون کیا  اور   میں  بڑے آرام سکون سے سُپر مارکیٹ پہنچ گیا۔۔۔ چونکہ ان  کے آنے میں  ابھی کافی ٹائم تھا  اس لیئے  میں  نے بائیک کو  اپنی مقررہ جگہ پر کھڑا  کیا اور خود بھونڈی کرنے مارکیٹ کی طرف چلا گیا  ۔۔۔ لیکن  صبع صبع  کا وقت تھا  اور اسلام آباد کے واسی  ابھی  سو رہے تھے۔۔۔ اس لیئے کوئی  خاص بھونڈی  نہ ہو سکی ۔۔۔  چنانچہ  مارکیٹ کا ایک چکر لگانے کے بعد میں  اپنی  جگہ پر کھڑا ہو گیا اور دھڑکتے دل کے ساتھ    مسز ثمرہ طارق خان کا  انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔
 قریباً   ساڑھے گیارہ   بجے  کا وقت   تھا  اور میں ہونقوں کی طرح  ہر آنے والی گاڑی کو بڑی امید بھری  نظروں سے دیکھے جا   رہا  تھا  کہ اچانک  میرے  پیچھے سے ایک بڑی  ہی   سویٹ  اور سریلی سی آواز میرے کانوں میں گونجی۔۔۔۔۔ کیا تم ہی  مسڑ شاہ  ہو؟   وہ کیوٹ سی آواز سن کر میں ایک  دم  چونکا  اور   مُڑ کر دیکھا  تو ایک  بہت  ہی  خوبصورت ، گوری چٹی  ۔۔گریس فُل اور  بھرے بھرے  جسم  والی  ماڈرن سی     خاتون   کو  اپنے  سامنے کھڑےہوئے  پایا ۔۔جن کی عمر قریباً ۔30-32  سال کی ہو گی ۔۔  انہوں  نے     سرخ  رنگ کی  باریک سی  کڑھائی  والی   پشواز   پہنی  ہوئی تھی  جو کہ بغیر بازوؤں  کے تھی ۔اور چوڑے شانے ہونے کی وجہ سے یہ سلیو لیس ان پر بہت جچ رہا تھا۔۔۔۔۔ قمیض کے نیچے انہوں نے  سفید رنگ کا   تنگ  سا چوڑی  دار  پاجامہ   پہنا ہوا   تھا  پشواز لمبی  ہونے کی بنا  پر  مجھے  ان کی سڈول   پنڈلیوں ۔کی تھوڑی سی ہی جھلک دکھائی دے  رہی تھی  کہ جن  کے ساتھ ان کا  تنگ پاجامہ چپکا  ہوا تھا ۔ جبکہ  پشواز کے اوپر ۔۔۔۔دوپٹے کے نام پر انہوں  نے  ایک چھوٹا  سا کپڑا  اپنے گلے میں  لٹکایا   ہو ا تھا۔۔  قمیض  کے نیچے    ان  کا  بھاری  بھر کم  سینہ  بڑے ہی  غرور سے سر اُٹھائے مجھے  چیلنج دے  رہا تھا کہ ہمت ہے تو آؤ ۔۔۔اور مجھے سر نگوں کر لو۔۔۔۔۔جبکہ  ۔۔ کھلے  گلے والی  پشواز  سےان  کی گوری   گوری اور رس  سے بھری   بڑی بڑی آدھ کھلی چھاتیوں  باہر کو جھانک رہیں   تھیں ۔ ۔۔۔  ۔۔۔ اس نے اپنے گورے  چہرے پر ایک  سیاہ   رنگ  کا  چشمہ بھی  لگا رکھا تھا جو کہ ان  کے چہرے پر بہت  ہی بھلا  لگ  رہا  تھا ۔۔۔اور اپنے اس حلیئے سے  وہ  کوئی  ماڈل لگ  رہی  تھی۔۔فرق صرف اتنا تھا کہ ماڈلز عام طور پر دبلی پتلی ہوتی ہیں جبکہ مسز ثمرہ طارق خان ایک بھرے بھرے جسم کی مالک  خاتون تھی دوسری طرف ۔سرخ   رنگ کی پشواز میں ان  کا گورا  رنگ بہت کِھل رہا  تھا اور ان کا یہ روپ دیکھ کر  مجھے ماضی کے ایک مشہور گانے  کا شعر یاد آ گیااور میں اسے کہتے کہتے رہ گیا کہ

یہ سرخ  جوڑا  یہ  بدن اور یہ تمھارا  بانکپن
تم آسمانی  حور  ہو یا  ہو فرشتے  کی  دلہن

میں  کافی دیر تک ہونقوں کی طرح اس شاندار  خاتون کو  ایسے ہی دیکھتا  رہا ۔۔ چنانچہ میری یہ حالت دیکھ کر  پہلے تو  وہ    خاصی محفوظ ہوئیں پھر   ہنس کر بولی۔۔۔یہیں کھڑے کھڑے    دیکھتے   رہو گے یا  چلو  گے بھی؟ اس کی بات سن کر میں نے جلدی سے کہا  ۔۔۔ او ۔۔ا وکے۔۔۔ اور پھر  بائیک کو  سٹارٹ  کرنے کے لیئے کک مارنے لگا   تو یہ دیکھ کر   وہ  کہنے لگی۔۔۔۔اس کی ضرورت نہیں تم  بائیک کو   ادھر ہی لاک کر کے اپنے   پیچھے  کھڑی    وائیٹ کرولا  میں آ جاؤ۔۔میں تمہارا   انتظار کر رہی  ہوں۔۔۔  اس کی بات سن کر میں نے جلدی جلدی موٹر سائیکل کو لاک کیا اور ۔۔۔۔ پھر جا کر اس  کی  شاندار  گاڑی  میں بیٹھ  گیا۔۔۔

جیسے  ہی میں اس کی گاڑی میں بیٹھا اس  نے گاڑی سٹارٹ کی  اور گاڑی کو  ڈرائیو کرتےہوئے    میرا حال احوال  پوچھنے کے بعد بولی۔۔ ۔۔۔  کیا خیال ہے کہیں چل   کے جوس  نہ  پیا   جائے؟  تو  میں نے  ہنس کر کہا کہ۔۔۔ وہ تو  بعد میں نہیں پیا  جاتا ؟میری  بات سن کر  وہ  بھی    ہنس  پڑی اور  بولی  ۔۔۔ بہت ناٹی  ہو تم۔۔۔ اور پھر تھوڑی  دور آگے جا کر اس نے گاڑی کو   ایک  جوس  والی  شاپ کے سامنے  روکا  اور مجھ سے کہنے لگی  ۔۔  آجاؤ۔۔۔ اور میں  اس  کے  ساتھ  نیچے  اتر آیا۔۔۔۔ جوس   والی  شاپ کے  اندر ہم فیملی حال کے اس  حصے میں ۔۔۔کہ جہاں  پردے  کا  خاص  انتظام ہوتا  ہے جا کر  آمنے سامنے   بیٹھ گئے ۔۔۔ سامنے  بیٹھنے کی وجہ سے مجھے ان کی  کھلے گلے  والی پشواز  میں سے ان کی   خوبصورت   چھاتیوں  کو کافی اندر تک دیکھنے کا  نظارہ   ملنے لگا  اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی  بڑی بڑی اور حسین چھاتیوں کو دیکھنے لگا۔۔میری اس حرکت کو  انہوں نے  نوٹ تو کیا لیکن منہ سے کچھ نہیں بولیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیبن میں بیٹھے ہوئے    کافی  دیر تک  خاموشی چھائی  رہی  پھر   ۔۔۔انہوں نے ہی   گفتگو کا آغاز کرتے  ہوئے کہا کہ۔۔۔  تمہیں معلوم ہے کہ میں تم کو  یہاں کیوں لائی   ہوں؟ میں  کچھ کچھ سمجھ تو گیا تھا ۔۔۔ لیکن  جان  بوجھ کر انجان بنا  رہا  اور ان کی طرف دیکھ کر بولا ۔۔۔۔آپ  مجھے یہاں پرجوس پلانے  کے لیئے  لائی  ہیں۔۔۔ میری بات سن کر ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ  دوڑ  گئی اور بولی ۔۔۔  کمال  ہے کہانیاں  تو  تم  اتنی  اچھی  لکھتے  ہو ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ اتنی سی  بات بھی نہیں سمجھتے کہ میں تم کو یہاں کیوں لائی ہوں؟؟؟۔۔۔اس پر   میں نے   تھوڑا ۔۔۔ گھبرانے   کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ   میڈم  جی میں سب سمجھتا  ہوں لیکن جب سے آپ کو دیکھا ہے۔۔۔ میں ہر شے بھول کر بس آپ کے اس  خوب صورت  سراپے   میں ہی گم ہوا جا  رہا  ہوں ۔۔۔ اور پھر انہیں  مزید مکھن لگاتے  ہوئے کہا ۔۔یقین کریں ۔ مجھ  پر آپ کے  حُسن  کا    اس قدر شدید رعب پڑا ہوا ہے کہ ۔۔مجھے آپ کے اس کو خوب صورت چہرے اور تراشے  ہوئے بدن کے علاوہ اور کچھ سوجھ  ہی نہیں رہا ۔۔۔ ظاہری بات ہے کہ میری یہ  مکھن  سے بھری گفتگو   اس حسینہ کے من کو  بہت  بھائی اور   وہ مسکرا کر  کہنے لگی۔۔۔    تم  باتیں  بہت  دل لبھانے  والی کرتے ہو۔۔ اور پھر   وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مزید کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔۔  دیکھو  ۔۔۔ میں تم کو یہاں اس لیئے  لائی  ہوں کہ  ہم  ایک دوسرے کے بارے میں مزید کچھ جان سکیں ۔۔۔ تو  میں نے ان سے کہا کہ   مسنجر پر جو اتنی  باتیں کیں ہیں اس کے بعد بھی کوئی گنجائش  رہتی ہے؟ ؟ تو  وہ  بڑے  مُہذب انداز میں  بولی کہ دیکھو کمپیوٹر پہ  چیٹ کرنے اور  آمنے  سامنے  بیٹھ  کر  گفتگو کرنے  میں بڑا  فرق  ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر اس کے بعد وہ مجھ سے پوچھنے لگیں  کہ تمہارے  گھر میں کتنے لوگ  رہتے  ہیں؟  تو  میں  نے  ان کو  اس کا درست جواب  دیا پھر اس کے بعد انہوں  نے مجھ سے میری تعلیم اور اس سے جُڑی  دیگر  باتیں پوچھیں ۔  اور پھر اس طرح  کافی دیر تک وہ میرے  ساتھ ادھر ادھر کی  باتیں کرتیں رہیں ۔۔۔ خاص طور پر انہوں  نے  مجھ سے خواتین کے بارے میں پوچھا کہ میں ان کو سیکس کے لیئے کیسے  راضی کرلیتا   ہوں؟ (اس کا  اصل جواب  تو  یہ بنتا  تھا کہ ان کو میں کہاں راضی کرتا   ہوں وہ  تو  پہلے  سے ہی  راضی  ہوتی  ہیں )  لیکن  یہاں میں نے ان کے اس سوال پر کہ میں  لیڈیز کو اپنے ساتھ  کیسے سیکس کے لیئے راضی کر لیتا ہوں؟   ان کے اس سوال پر میں نے ترنت  ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ جیسے آپ کو راضی کیا  ہے میری بات سن کر وہ  کُھل  کر ہنسی۔۔۔۔ اور  کہنے لگی ۔۔۔۔تم بہت حاضر  جواب ہو۔۔۔  اس کے ساتھ ہی انہوں  نے اپنی دونوں کہیناں میز پر رکھیں اور  آگے جھک کر میرے ساتھ بات  چیت شروع کر دی  ان کےآگے جھکنے کی وجہ سے  میری نظر ان کے کھُلے گلے والی پشواز سے  ہوتی ہوئی ۔۔۔ان کی بھاری چھاتیوں کے اندر تک چلی گئی۔۔۔ جن  کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا ۔۔۔ مجھے  اپنی طرف یوں ٹکٹکی  باندھ کے دیکھتے  ہوئے ان کی   پشواز کی طرح ان  کا  چہرہ بھی  سُرخ  ہو گیا ۔۔۔اور  وہ  بار بار  اپنے  خشک ہوتے ہوئے  ہونٹوں پر  زبان پھیرنے لگیں۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے  جزبات کی شدت کی وجہ سے  وہ  بیچ  بیچ  میں اٹکنے بھی لگیں ۔۔ آخر کار  میری نگاہوں کی تاب  نہ  لاتے  ہوئے وہ  ایک دم تھوڑا  اور آگے جھکیں اور جزبات سے بھر پور   سرگوشی نما سیکسی آواز میں کہنے لگیں۔۔۔۔رائیٹر ۔۔۔  تمہیں معلوم ہے نا کہ   میں بہت گرم  لیڈی ہوں ۔۔۔۔ ۔۔۔کیا تم  مجھے ہینڈل کر لو گے؟  مسز ثمرہ  طارق خان کی بات سُن کر میں بھی جوش میں آ گیا ۔۔۔ اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر بولا۔۔۔۔۔ میڈم ۔۔۔میرا ۔۔کیلا بھی    بہت    موٹا اور سخت ہے ۔۔۔ کیا آپ  کی اس کے طاقتور  دھکے سہہ لیں  گی؟


میری جزبات سے بھر پور آواز سن کر ثمرہ طارق خان نے ایک گہری سانس لی اور بڑی  شہوت بھری  نظروں سے مجھے دیکھتی رہی پھر ۔۔۔۔۔اچانک  باہر سے کسی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سن کر  وہ ایک دم چونکیں ۔۔۔۔۔۔ اور اس  کے ساتھ  ہی  انہوں نے   اپنی  ٹانگوں کو لمبا کر کے میرے  پاؤں  سے  اپنا  پاؤں ٹچ کیا   اور  قدرے مزاحیہ  اور خوشگوار  انداز میں  مجھے  اُٹھنے کا  اشارہ  کرتے  ہوئے کہنے لگیں   ۔۔۔۔ آ   دیکھیں  زرا کس میں   کتنا ہے  دم۔۔۔۔ اور  اس کے ساتھ  ہی  وہ   بھی اپنی  سیٹ  سے اُٹھی ۔۔۔۔ اور ہم  دونوں چلتے  ہوئے کیبن سے  باہر ا ٓگئے۔۔ ۔۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ باہر نکلنے کے بعد  ۔۔۔۔اور   گاڑی میں بیٹھنے تک وہ کسی نامعلوم سوچ کے تحت چُپ  رہیں ۔۔۔۔ لیکن  جب   ہم لوگ   مارگلہ روڈ پر آئے   تو  تھوڑی  دور جا  کر انہوں نے اپنی گاڑی کو سڑک کے کنارے  ایک درختوں کے جھنڈ کے پاس روک لیا  ۔۔۔۔اور  میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔ ۔۔ مسٹر ۔۔تم لکھنے اور باتیں کرنے دونوں میں بہت  ماہر  ہو۔۔۔ میں نے ان کی  بات  کا جواب  دینے کی  بجائے ۔۔ ایک دم  سے  اپنے چہرے کو ان کے قریب لے گیا  اور اس کے ساتھ ہی ان کو گردن سے پکڑ کر اپنا منہ ان کے  منہ کے پاس لے گیا۔۔۔۔۔۔اور ان کے ہونٹوں پر اپنے  ہونٹ  رکھ دیئے۔۔۔اُف۔ف۔ف۔۔ان کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی کی طرح بہت نرم تھے ۔۔اور میں ان کے ہونٹوں کے رس کو چوسنا   شروع  ہو گیا۔۔۔۔میرے  ہونٹوں پر ہونٹ رکھنے  سے وہ کچھ دیر کسمسائیں ۔۔۔۔اور پھر اپنے  چہرے کو ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ ارے ارے۔۔۔۔۔ یہاں نہیں ۔۔۔۔۔یہ سب گھر جا کر کرنا ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ سے اپنی گاڑی سٹارٹ کر لی ۔۔۔۔۔اور  اپنے  ہونٹوں پر لگی   میرے تھوک کی ایک چھوٹی بوند   کو اپنی  زبان سے چاٹ  لیا ۔اور بڑی ہی  پُر ہوس نظروں  سے گاڑی  چلاتے ہوئے  میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں  ۔۔۔ سوادیش ہے!!!! ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اتنی بات کر تے  ہی  پتہ نہیں کہ  انہیں کیا ہوا ۔۔۔۔  کہ انہوں نے اپنی گاڑی  کو  ایک ایسے راستے پر موڑ لیا جو کہ پیر سوہاوا  کی طرف نکلتا تھا ۔۔۔یہ دیکھ کر میں ان سے بولا ۔۔۔ میم یہ راستہ تو پیر سوہاوا  کی طرف نہیں  جاتا؟   تو  وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگیں۔۔۔۔ ہاں ادھر ہی جاتا ہے۔۔۔اور گاڑی چلاتے ہوئے ۔۔۔۔ کافی آگے جا کر ایک سنسان سی جگہ پر دوبارہ سے گاڑی کو روک لیا ۔۔۔اور  ایک  بار پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ شاہ  جی ۔۔۔سب سے پہلے تو میں تمھارا ۔۔۔۔ وہ  موٹا  اور لمبا   کیلا  دیکھنا  چا ہوں   گی کہ جس کے  بارے میں  تم  اپنی  کہانیوں  میں بہت شور کرتے ہو۔۔۔

میرا  لن  پہلے  ہی پینٹ  سے  باہر آنے کو مچل رہا  تھا  چنانچہ ان کی  بات سنتے  ہی  میں نے  اپنی  پینٹ کی  زپ کھولی اور  پھر انڈوئیر کے سوراخ سے لن  کو باہر نکلا ۔۔۔ اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ان کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔ لوجی۔۔۔۔ خود ہی  دیکھ کر  بتاؤ کہ میرا کیلا  کیسا  ہے؟ اور یہ جو  میں اپنی کہانیوں میں  اس  کے بارے میں    شور مچاتا  رہتا  ہوں ۔۔۔۔۔وہ  بات درست ہے ۔۔۔یا۔۔۔میں نے اتنی  بات کر کے  دیکھا  تو ۔مسز ثمرہ  طارق  خان     ٹکٹکی  باندھی میرے لن ہی کی طرف دیکھے جا رہیں تھیں۔۔۔اور اب   انہوں نے لن کو دیکھ کر اپنے دونوں ہونٹ سکیڑ لیئے تھے۔۔۔  اور بار بار ۔۔۔ کبھی میرے اور کبھی میرے لن کی طرف دیکھتی جا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پر رکھ کر بولا۔۔۔۔ سچ سچ  بتا ؤ  میم۔۔۔۔۔ آپ کو میرا  کیلا  کیسا   لگا؟ ۔۔میری بات سن کر انہوں نے  نے میرے لن کو اپنے  نازک  ہاتھ میں  جکڑ لیا ۔۔۔اور اس کا تناؤ  چیک کرنے لگیں ۔۔ جو کہ اس وقت  کسی  لوہے  کے راڈ کی سخت اور  پوری  طرح  اکڑا   ہوا تھا۔۔ ۔۔۔پھر  انہوں نے میرے لن کو  اپنے ہاتھ میں  لیئے ہوئے  دبایا اور اس کے  بعد   اپنے  ہاتھ کو لن پر اوپر نیچے کرتے ہوئے اپنے خشک  ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ؤاؤؤؤؤؤؤؤؤ ۔۔     شاہ جی!!!!!! ۔۔ تمہارا  مال تو  بہت  اچھا  ہے۔۔۔۔  پھر اس نے میرے دبلے پتلے جسم پر  ایک نگاہ  ڈالی  ( اس وقت میں کافی  ماڑو  سا  ہوا کرتا  تھا ) اور بولیں  ۔۔۔ لیکن ۔۔تمہاری  باڈی کے حساب سے یہ تھوڑا "اوورسائز" ہے۔۔۔اور اس کے  ساتھ  ہی  وہ  دوبارہ  سے  میرے لن پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔   اسے  ۔۔۔ سہلانے لگی۔۔۔ سہلاتے سہلاتے  انہوں ایک دفعہ پھر میری  طرف دیکھا اورکہنے لگیں اسے دیکھ کر میر ے تو منہ میں پانی آ گیا ہے یہ کہتے ہوئے  وہ اپنے منہ کو میرے لن کے قریب لے آئیں میں یہ سمجھا کہ   اب وہ  لن کو اپنے منہ میں لیں گی  ۔۔۔۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔۔۔ بلکہ  اپنے منہ کو میرے لن کےقریب لا  کر اس پر تھوک کا  ایک گولا  سا  پھینکا ۔۔اور پھر اپنے مریں مریں  ہاتھ  سے اس تھوک کو  اچھی طرح سے میرے  سارے لن پر مل دیا  ۔۔۔۔اور پھر    میری مُٹھ  مارتے ہوئے شرارت سے بولی۔۔۔۔۔۔ تم کیا سمجھے تھے کہ میں اس کو  اپنے  منہ میں  لینے  لگی  ہوں؟  تو  میں  نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔ اس پر  وہ  اپنے  ہاتھ کو  میرے لن پر  آگے پیچھے کرتے  ہوئے  سرگوشی میں  کہنے لگی۔۔۔۔   تمہارے لن کو منہ  میں  نہ  ڈالنے سے تم   تھوڑے   مایوس  ہوئے  تھے  نا ۔۔۔ تو میں نے ایک بار پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔ مایوس نہ  ہو میری جان ۔۔۔۔لو میں تمھارے لن کو اپنے منہ میں  ڈالتی  ہوں اور اس کے ساتھ  ہی  انہوں نے  اپنے سر کو  نیچے جھکایا   اور  ۔۔۔۔۔ سب سے پہلے میرے لن کے  ہیڈ  پر اپنی   زبان پھیرنی شروع کر  دی۔۔ ۔۔۔


لن کے  ہیڈ  پر زبان پھیرتے پھیرتے  اچانک  ہی  انہوں نے  اپنا  منہ کھولا  اور  میرے لن کو  اپنے  منہ کے اندر  تک لے گئیں ۔۔۔۔اور اس کے بعد وہ  بڑی  ہی بے اختیاری ، بے قراری اور  بے خودی  میں آ  کر   میرا  چوپا  لگانے لگیں ۔۔ وہ  کبھی تو  اوپر سے نیچے تک میرے لن پر زبان پھیرتی اور کبھی ۔۔۔۔  پورے لن کو منہ میں ڈالنے کو کوشش کرتی لیکن ظاہر  لن بڑا ہونے کی وجہ سے وہ  ایسا  نہ کر پاتیں تھیں ۔لیکن کچھ بھی  ہو وہ  چوپا بہت مزے  کا لگاتی تھیں۔۔۔۔۔کافی دیر تک وہ میرے لن کے ساتھ ایسے ہی مستیاں  کرتی رہیں اور ان کی یہ مستیاں  دیکھ کر مجھ میں بھی مستی  چڑھتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔ بلا شبہ ان کا لن چوسنے  کا انداز  بڑی  ہی سیکسی تھی  وہ  اس وقت  فُل شہوت  میں لگ  رہیں تھیں ۔۔۔اور ان کے انگ انگ سے شہوت ٹپک رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد انہوں نے میرے لن سے  سر ہٹایا اور  میری طرف دیکھ کر کہنے لگیں ۔۔۔۔ایسا  ہی  لن میری ڈریم تھا۔۔۔ پھر بولی ۔۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ میں تمہارے لن کو  اتنی بے خودی سے کیوں  چوس رہی  ہوں؟   تو میں جو اس وقت مزے اور مستی کے سمندر میں غرق تھا ۔۔۔ نے نفی میں سر کو  ہلا  دیا ۔۔۔۔  منہ سے کچھ نہیں بولا۔۔۔۔یہ دیکھ  کر بڑی ہی مست اور  شہوت بھری آواز  میں کہنے لگی تم نہیں  مانو گے لیکن   یہ حقیقت ہے کہ تمھارا  لن بلکل  میرے  شوہر کے لن  جتنا  موٹا اور  بڑا  ہے ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی تمہارے لن  اور اس کے لن میں بس ایک فرق ہے۔۔۔  میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگیں کہ اور  وہ فرق یہ ہے کہ  ۔۔۔ میرے ہسبینڈ  کا لن  اس وقت تک کھڑا  نہیں  ہوتا  تھا کہ  جب تک میں اسے اپنے منہ میں ڈال کر اچھی طرح سے چوس  نہ لوں ۔۔۔۔ جبکہ تمھارا  لن  تو  پہلے  سے  ہی کھڑا  تھا۔۔۔۔۔  تو  میں نے حیران  ہو کر ان سے پوچھا کہ  میم آپ جیسی آگ  لیڈی  کو  ننگا دیکھ کر بھی  ان کا   لن خود بخود نہیں کھڑا  ہوتا  تھا ؟ جبکہ میرا تو  آپ کو دیکھ  کر ہی کھڑا ہو گیا  تھا۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی اور  لن پر تھوڑا تھوک پھینک کر اپنے  ہاتھ کو آگے پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔تم میں اور ان میں ۔۔۔۔فرق ہے میری جان بہت فرق  ہے۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیسا  فرق ؟ تو  وہ  کہنے  لگی ۔۔۔  تمہارے  لیئے  میں ایک  ڈریم لیڈی ہو سکتی  ہوں  جبکہ اس کے لیئے  میں گھر کی مُرغی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگی ویسے بھی ۔۔۔ وہ ایک بڑے باپ کو بیٹا ہے اس کو مجھ جیسی ہزاروں ملیں تھیں ۔۔۔ اسی لیئے اس پر میرے حسن کا  اتنا    رُعب نہیں پڑتا  تھا ۔۔۔ جتنا  کہ تم پر پڑا  ہے۔۔۔پھرمیری طرف دیکھ   کر  بڑے  ہی شہوت  بھرے  لہجے  میں  بولی ۔۔۔   تمہارے  خیال  میں ۔۔۔ میں کیسی  ہوں؟ تو  میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ  بہت خوب صورت  ، سیکس کی ملکہ اور  شہوت کی  رانی  ہو میری  بات سُن کر ان کا    چہرہ  جزبات  کی شدت سے  گلِ  گُلنار ہو گیا  اور شہوت کی تپش ان کی آنکھوں سے جھلکنے لگیں ۔۔۔اور اسکے ساتھ ہی انہوں نے اپنا منہ  میرے منہ کے بلکل قریب کر لیا ۔۔۔۔۔۔ ان  کی  سانسوں  سے  بڑی  ہی مست سی  مہک آ رہی تھی ۔۔۔ پھر انہوں نے اپنے منہ سے اپنی زبان نکلی اور میرے سامنے لہرانے لگیں ۔۔۔۔ پھر زبان کو اپنے منہ میں لیا اور ۔۔۔۔۔میری طرف  دیکھ کر  سرگوشی میں کہنے لگیں


 ۔۔۔رائیٹر!!!  ۔۔۔ تم نے بڑی  بڑی سیکسی   لیڈیز کی زبانیں چوسیں ہوں گی ۔۔۔۔  لیکن  میرا  دعوٰی  ہے کہ میری زبان  جیسی زبان تم پہلی  بار چوسو گے ۔۔۔۔پھر میرے گال پر اپنے زبان  پھیر کر بولیں۔۔۔۔ میری  زبان سے  زیادہ  رسیلی  زبان تم  نے  آج تک نہیں چوسی  ہو گی  اور  اس کے  ساتھ  ہی  انہوں  نے اپنے منہ سے  زبان  باہر نکالی اور اسے  میرے سامنے لہرانے لگیں ۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے   فوراً   ہی  اپنا منہ کھولا  اور ان  کی  زبان کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔جیسے  ہی ان کی  زبان  میری زبان  سے ٹچ  ہوئی  تو  مجھے  ایسا  لگا کہ مزے  کا  ایک طوفان   میرے منہ میں چلا آیا  ہو  ۔۔  ان کی زبان چوس کر معلوم ہوا کہ مسز ثمرہ طارق خان ٹھیک ہی  کہہ رہی تھیں ۔۔واقعی  ہی ان کی زبان  میں بہت  ٹیسٹ  تھا اور ان کے منہ میں ایک عجیب سی مست سی مہک تھی  ۔۔۔ میں جب ان کی زبان کو اپنے ہونٹو ں میں لیکر کر  چوستا   تو  ایسا لگتا کہ جیسے میں کسی  مزے  سے بھر پور شہوت  سے بھری  کسی مست  چیز کو چوس  رہا  ہوں۔۔۔یا  پھر۔۔۔جب  وہ  بڑی مہارت  سے  اپنی  زبان کو میری زبان کے ساتھ ٹکراتی تھیں  تو  مجھے  ایسا لگتا تھا کہ جیسے  شہوت کی آگ ان کے منہ سے نکل کر میرے جسم میں بھرتی جا رہی  ہو  اور  مجھے  ایک شدید کرنٹ لگتا  تھا۔۔۔۔۔۔ منہ سے منہ ملنے اور ایک دوسرے کی  زبانوں کو چوسنے کے عمل سے ہم دونوں کے تھوک بھی ایک دوسرے کے منہ میں آ جا رہے تھے ۔۔۔۔ اور یہاں  میں اس چیز  کا  برملا  اظہار کرنا  چاہتا  ہوں کہ مسزثمرہ طارق کے منہ سے نکلنے  والا تھوک  بھی  ان کی  زبان کی طرح   کافی رسیلا  اور  ذائقے دار تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کی  بھاری  چھاتیاں بھی دبا  رہا  تھا ۔۔۔جبکہ وہ  میرے لن کو دبائے جا رہیں تھیں ۔اور ہم دیوانوں کی طرح  کسنگ کرنے میں مصروف تھے۔۔بلا شبہ زبانوں کے بوسے  نے ہم دونوں میں بہت زیادہ آگ بھر دی تھی۔۔۔
 کافی دیر تک  کسنگ کرنے کے بعد انہوں نے اچانک ہی اپنے منہ کو میرے منہ سے الگ کیا اور ۔۔۔ڈرائیونگ  سیٹ پر ٹیک لگا کر ہانپنے لگیں۔۔  ادھر ان کے اچانک منہ ہٹانے سے میں تھوڑا ۔۔۔ حیران تھا چنانچہ اسی حیرانی کے عالم میں میں نے ان سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔ تو وہ ہانپتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔کچھ نہیں یار ۔۔۔ پھرمیری طرف دیکھ کر بڑے  ہی پیار بھرے لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ تمہاری اتنی پُرجوش کسنگ نے  میری تو جان  ہی نکال  دی ہے۔۔۔ پھر اچانک ان کی نظر نیچے میری تنے  ہوئے لن  پر پڑی تو  وہ بے اختیار   اس کی طرف کھینچی چلی گئیں اور  ایک دم سے میرے کو اپنے منہ میں لے لیا اور ۔۔۔اسے چوسنے لگیں ۔۔۔۔۔لن چوسنے کے تھوڑی دیر بعد انہوں نے  میرے لن سے منہ ہٹایا اور ۔۔ ۔۔۔ میری طرف دیکھ کر بولیں۔۔۔     کیا خیال  ہے  چلا  نہ جائے کہ مجھے تمھارے لن کی شدید  طلب ہو رہی ہے ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور اسے واپس  موڑتے  ہوئے  میرے لن کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگیں ۔۔۔۔۔  اس کو  واپس  ڈال لو ۔۔ کہ کہیں پھر سے  میرا  موڈ  نہ بن جائے ۔۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے لن کو دوبارہ سے اپنی پینٹ میں ایڈجسٹ کر کے زپ بند کرنے لگا  تو  وہ کہنے لگیں  نو۔۔نو ۔۔اسے باہر   نکالو ۔۔۔ اوران کے کہنے پر میں  نے  دوبارہ  سے لن کو اپنی پینٹ سے  باہر نکلا اور اس ان سے پوچھا ۔۔ میم۔۔ابھی  تو  آپ اس کو اندر ڈالنے کی بات  کر رہیں تھیں؟؟؟؟؟۔۔۔۔ تو وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔وہ تھوڑی  دیر پہلے کی بات تھی۔۔۔۔   اب میں  ڈرائیونگ کرتے ہوئے تمھارے لن کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے رکھوں گی۔۔۔۔ اور سچ مُچ انہوں نے  سارا  راستہ  میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور اسے دباتی رہیں ۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے ا ن سے پوچھا ثمرہ جی ۔تھوڑی دیر پہلے  آپ کس موڈ  کی بات کر رہی تھیں ؟؟  ؟  تووہ گاڑی چلاتے  ہوئے بولی۔۔۔ کیا مطلب؟ تو میں نے ان کو  یاد   دلاتے  ہوئے  کہا کہ یہ جو  ابھی آپ نے کہا تھا کہ اس کو   واپس   ڈالو کہیں  میرا موڈ  نہ  بن جائے۔۔۔۔ اس والے موڈ کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔ میری طرف دیکھ کر بولیں ۔۔اوہ  اچھا ۔۔۔ پھر پولیں۔۔۔چوپے کا موڈ  میری جان۔۔ ۔۔۔کہ تمہارے شاندار لن کو دیکھ کر کسی سیکسی   لیڈی  کا اور کیا مُوڈ  ہو سکتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔تو میں نے ان سے کہا  جتنا مرضی ہے لن چوسو منع  کس نے کیا ہے؟  میری بات سن  کر انہوں نے اپنی گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔۔ایک  ہے منع کرنے والی ۔۔۔ تو میں نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔ کون  ہے  وہ؟ تو  انہوں نے  میرا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ اور پھر اپنی پشواز کو اوپر کر کے اپنی  پھدی پر میرا  ہاتھ کر بولی ۔۔۔ یہ سالی منع کر رہی  ہے ۔۔۔ جیسے  ہی  میرا  ہاتھ ان کی چوت پر لگا ۔۔۔تو مجھے ایک  دم  شاک سا  ہوا ۔۔ کیونکہ ان کی چوت بہت ہی گرم اور گیلی  ہو  رہی تھی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان سے کہا۔۔۔۔۔ میم آپ   تو نیچے سے  بہت گیلی  ہو  رہی ہو ۔۔تو  وہ  ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ اتنی  ساری کسنگ ۔۔اتنے سارے چوپے کے بعد بھی  تمھارا کیا خیال ہے اس کو خشک رہنا چاہیئے تھا۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔


پھر اگلے ہی لمحے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں ۔۔۔۔تم کو پتہ ہے کہ میری چوت میں کس قدر پانی  جمع   ہے تو میں نے ان سے کہا جی  میں نے ہاتھ  لگا کر  اندازہ  کر لیاہے کہ آپ کی چوت میں کتنا  پانی  جمع  ہے ۔۔۔ تو وہ میرے لن پر ہاتھ پھیرتے ہو ئے کہنے لگیں۔۔۔۔ یہ سارا  کیا دھرا تمھارے اس لن کا ہے کہ  جب سے  میری اس پر نگاہ پڑی ہے۔۔۔تب سےہی میری چوت  نے  پانی چھوڑنا شروع کر دیا ہے ۔۔۔ان کی بات سن کر میں  دوبارہ سے  اپنا  ہاتھ ان کی دونوں رانوں کے بیچ میں لے گیا ۔۔۔ میرا  ہاتھ  ان کی رانوں میں جانے کی دیر تھی کہ انہوں نے اپنی  ٹانگیں تھوڑی مزید کھول دیں اور میں نے ان کے چوڑی  دار  پاجامے کے اوپر سے ہی  عین ان کی پھدی کے ہونٹوں پر انگلیاں   پھیرنا شروع کر دیں۔۔۔۔ اُف ان کی پھدی کے  دونوں ہونٹ بہت ہی نرم اور  بہت  ہی گرم تھے  اور ان کے چوڑی  دار  پاجامے  سے   ان کی چوت  کا  پانی رس رس کے باہر آ رہا  تھا ۔۔ جس کی وجہ  سے  ان کی  چوت پر رکھی  ہوئیں   میری  انگلیاں بھی گیلی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔میں کچھ دیر تک ان کی پھدی کے دنوں ہونٹوں کو سہلاتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ کچھ دیر تک ان کی پھدی سہلانے کے بعد میں نے ان کے  چوت سے  اپنے  ہاتھ کو ہٹایا  اور پھر ان گیلی  انگلیوں کو چاٹ کر بولا ۔۔۔۔۔ ثمرہ جی آپ کی چوت  کے  پانی  کا  ٹیسٹ  بہت  رِچ  ہے ۔۔۔۔

میری  بات سن کر وہ کہنے لگیں تمہاری مزی بھی کم ٹیسٹی نہیں ہے میری جان ۔۔۔۔  اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ہم ان کی گلی میں داخل  ہونے لگے تو اس سے کچھ  پہلے  وہ   بولیں میرا گھر قریب  آ رہا ہے تم اسے (لن کو) اندر کو لو۔۔۔ان کی بات سن کر میں نے جلدی سے لن کو پینٹ کے اندر کیا اور زپ بند کر کے  نارمل  ہو  کر  بیٹھ گیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ہم اس کے گھر میں تھے  وہ ایک بڑا سا گھر تھا ۔۔۔ سامنے ایک بڑا سا لان تھا جس کی باؤنڈری وال کے ساتھ ساتھ   چھوٹی چھوٹی کیاریاں  بنی ہوئیں تھیں اور ان کیاریوں  کافی سارے پھول اُگے ہوئے تھے ۔۔ میں نے ان میں سے ایک پھول توڑا ۔۔۔اس پھر مسز ثر ہ طارق کے سامنے  انگریزی فلموں کے ہیرو کی طرح  پہلے  تو تھوڑا  سا  جھکا ۔۔۔۔ پھر میں نے  اپنا  ایک گھٹنا  زمیں پر  رکھا اور پھر بڑے  ہی رومینٹک انداز میں ان کو  پھول  کو پیش کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ میری طرف سے یہ پھول  اس خاتون کے نام جو بہت  ہی سیکسی ۔۔۔ بہت  ہی  کیوٹ  بہت ہی ہاٹ اور بہت ہی۔۔۔۔۔ اعلیٰ شخصیت کی مالک ہے۔۔۔میرا  اس  رومینٹک انداز دیکھ کر  وہ  بڑی متاثر ہوئی  اور اس نے مجھ سے  نہ صرف پھول  وصول کیا بلکہ  مجھے ایک زبردست کس بھی  دی اور میرا  ہاتھ پکڑ کر اپنے  بیڈ روم میں لے آئی اور  اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا  ۔۔۔۔۔۔ وہ    بیڈ روم کے  فرش  پر بچھے  دبیز قالین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور  خود ہی میری پینٹ کی زپ کھولنے لگیں ۔۔اور پھر لن کو باہر نکال کر  جلدی سے اپنے  منہ میں ڈال لیا۔۔۔ اور  بڑی ہی شدت سے چوپا لگانے لگیں۔۔۔۔۔


ان کے چوپے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ  کچھ ہی دیر بعد مجھے ایسا  لگا کہ میں اب گیا کہ اب گیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ۔۔۔میرے جزبات شدید ہو گئے اور پھر میں نے ان کے سلکی بالوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور اپنے لن کو ان کے منہ میں تیزی کے ساتھ اِن آؤٹ  کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے منہ سے سسکیوں کا  طوفان  نکلنے لگا ۔۔۔اور میں  تیز تیز سانس  لیتے ہوئے کراہنے لگا ۔۔۔تجربہ کار  میڈم بھی سمجھ گئی کہ میں ڈسچارج ہونے والا ہوں اور ۔۔۔۔۔ یہ سوچتے  ہی وہ  پہلے سے زیادہ  پُرجوش طریقے سے چوپا لگانے لگی۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔اور ۔۔۔۔ پھر جیسے ہی میں نے کراہتے ہوئے ۔۔۔اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔ کہا۔۔۔تو اس نے  جلدی سے میرا لن  منہ سے باہر نکلا اور صرف ٹوپے کو ہی  اپنے منہ میں رہنے دیا۔۔۔۔۔ادھر میرے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور میں اس کے منہ میں ہی ڈسچارج ہونے لگا۔۔۔۔۔۔ مسز ثمرہ  طارق  خان نے  میرے لن کو پکڑ کر  اسے آگے پیچھے کرتے ہوئے   مجھے مکمل طور پر  ڈسچارج  ہونے   دیا ۔۔۔۔اور میرے لن سے نکلنے والی منی کے آخری  ڈراپ کو بھی اپنے منہ میں محفوظ کر لیا ۔۔۔ اور پھر جیسے ہی ان کو  اندازہ  ہو ا کہ میرا لن منی سے  خالی   ہو گیا  ہے تو  وہ بھاگ کر واش روم میں چلی گئیں اور ساری منی کو واش روم میں تھوک کر واپس  آ گئیں۔۔۔۔اور میری طرف دیکھ کر مسکرا کر  کہنے لگیں ۔۔۔۔مجھے معلوم تھا کہ تم  جلد ہی  فارغ ہونے والے ہو اسی  لیئے  میں نے  تمہارا  چوس کے اپنا بھی  شوق  بھی پورا  کیا اور تم کو بھی  فارغ  بھی کر دیا کہ اگر میں ایسا نہ کرتی تو تم نے میرے اندر ڈال کے ایک دو گھسوں کے بعد  ہی  فارغ ہو جانا  تھا ۔۔۔۔۔۔اور میں یہ ہر گز نہیں چاہتی تھی ۔تو میں نے حیران ہو کر ان سے پوچھا کہ میڈم  یہ  بتائیں کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ میں بس چھوٹنے والا ہوں ۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں  ارے  یہ کون سی کوئی راکٹ سائیس    والی بات تھی یار  ۔۔۔ پھر مجھے سمجھاتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔ کہ دیکھو گاڑی میں جب میں نے تمھارا سک کیا تھا نا ۔۔تو اس وقت تمھارے جسم سے ہلکی ہلکی منی کی بُو آ رہی تھی۔۔۔  لیکن جب ہم گھر پہنچے اور میں نے تم کو کس کیا تو  اس  وقت تمھارے سارے جسم سے منی کی بہت شدید بو ا ٓ رہی تھی۔۔۔ جس سے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ  اگر میں اس حال میں تمھارے ساتھ سیکس کیا تو تم بہت جلد چھوٹ جاؤ گے۔۔ اس لیئے میں نے  کمرے میں داخل ہوتے ہی تمھارے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ان کی  بات سن کر میں بہت حیران ہوا ۔۔۔اور دل  ہی  دل میں۔۔۔ ان کی  ذہانت  کا قائل ہو گیا۔۔۔۔

 

۔ادھر اپنی بات ختم کر کے وہ مجھ سے  کہنے لگیں اب بولو کیا  پیو گے؟؟ ۔۔۔ چائے یا  کافی ۔۔۔ یا جوس ۔۔۔۔۔ پھر خود  ہی کہنے لگیں۔۔۔۔ میرا خیال  ہے جوس ہی بنا لوں کہ بقول تمھارے کرنے کے بعد جوس ہی  پیا جاتا  ہے اور   پھر مجھے   وہیں چھوڑ کر وہ کچن میں چلی گئیں اور کچھ ہی  دیر بعد  دو گلاس جوس کے لے آئیں۔۔۔ جوس پیتے ہوئے بھی ہم دونوں نے خوب مستیا ں کیں ۔۔۔۔ اسی  دوران  میرا لن  پھر سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ اصل بات  یہ  ہے کہ یہ بیٹھا  ہی کب  تھا  جو کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔


جوس کا  گلاس ختم  ہوتے  ہی  وہ   میری طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔۔ لو جی رائیٹر صاحب  جوس بھی ختم ہو گیا ۔۔۔  مسز طارق کی بات سن کر میں نے جگر پاش نظروں سے ان کی طرف  دیکھتے  ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ نہیں  میم  ابھی  تو  بہت سا   جوس  باقی  ہے؟ تو  وہ  میری طرف دیکھ کرحیرانی سے کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔ زرا غور سے اپنے اور میرے گلاس پر نظر ڈالو اور بتا ؤ کہ جوس ہے یا نہیں ۔۔۔ ان کی بات سن کر میں اپنی  جگہ  سے اُٹھا اور  مسز ثمرہ  طارق  خان  کے پاس چلا گیا ۔۔۔ پھر میں نے ہاتھ  بڑھا کر ان کو بھی    اُٹھنے  کا اشارہ کیا۔۔۔ ۔۔۔تو وہ میرے  کہنے پر  اُٹھ گیا ۔۔۔ اب میں نے ان کو اپنے اور نزدیک کیا ۔۔۔ اتنے نزدیک ۔۔۔۔ کہ میرے چہرے پر ان کی گرم گرم سانسیں ٹکرانے لگیں اور مجھےان کے ہونٹوں کی تپش اپنے ہونٹوں پر محسوس ہونے لگی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ زرا سی دیر میں ان کی سانسیں تیز  ہو  رہیں تھیں اور  ان کا چہرہ  لال  ہو گیا تھا۔۔۔ اب  میں ان کے  ہونٹوں پر جھکا  اور ان سے سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ میم ابھی تو آپ کے ہونٹوں کاجوس باقی ہے۔۔۔۔۔  میری بات سن کر وہ بھی سرگوشی میں بڑے لاڈ سے کہنے لگیں۔۔۔ میرے ہونٹوں کا رس پیو گے؟ تو میں نے ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ ان ہونٹوں کا رس پینے سے کوئی کافر ہی ہو گا جو کہ انکار  کرے گا۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں  نے اپنے گرم ہونٹوں کو ان کے نرم ہونٹوں پر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔ اور ان کو اپنے منہ لیکر چوسنے لگ


ا۔۔۔۔ ان کے ہونٹ گلاب کی پتی کی طرح نرم تھے اور ان  کے منہ سے سٹرا بری  جوس  (جو کہ ہم نے ابھی ابھی پیا تھا) اور سیکسی سی مہک کی ملی جلی   خوشبو آ رہی تھی۔۔۔۔۔ اور میں ان   کے ہونٹوں کی مستی میں ڈوب کر ان کو چوس رہا تھا۔۔۔ایک طویل کس کے بعد جب  انہوں نے اپنا منہ میرے منہ ہٹایا ۔۔۔۔۔ تو میری طرف دیکھ  کر  شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔۔  میرے ہونٹوں کا رس کیسا تھا؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ مت پوچھ ظالم ۔۔۔۔ بس اتنا  بتاتا  ہوں کہ ۔۔۔۔۔ میں نے ایسے رسیلے ہونٹ آج تک نہیں چوسے۔۔۔۔ یہ بات سن کر انہوں نے اپنے منہ سے زبان باہر نکالی اور میرے سامنے لہرا کر ایک بار پھر بولیں ۔۔۔۔۔ اب میری  زبان کا  ٹیسٹ بھی چیک کرو۔۔۔کہ اس  سے زیادہ ٹیسٹی زبان بھی تم نے آج تک نہیں چوسی ہو گی۔۔۔۔۔اور یہ کہتے  ہوئے  خود  ہی اپنی زبان کو میرے منہ  میں  ڈال  دیا ۔۔۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے  کہ ان کی زبان کا   ذائقہ بہت  ہی مست اور   عمدہ تھا۔۔اور ان کی زبان  چوسنے سے میں مزید مست  ہو رہا تھا ۔۔۔۔اور یہ زبانوں کا یہ ملاپ   ہم دنوں میں شہوت کی آگ بھر رہا تھا ۔۔۔تبھی تو  میم نے کسنگ کرتے ہوئے  میری پینٹ کی زپ کھول کر لن کو باہر نکال لیا تھا اور پھر  میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر  اس کی نوک کو اپنے چوڑی  دار پاجامے کے اوپر ہی سے اپنی  پھدی کے ساتھ رگڑنے لگیں ۔اور جب میرے سخت لن کی نوک ان کی پھدی کے نرم نرم ہونٹوں پر رگڑ کھاتی تھی تو وہ مدہوش ہو کر مزید میرے ساتھ جُڑ جاتی تھیں۔۔۔۔


میں کافی دیر تک ان کی زبان کو چوستا رہا  اور  جب ان کی زبان کو چوس چوس کربے حال ہو گیا تو میں نے اپنے منہ کو ان کے منہ سے ہٹایا اور ۔۔۔ اور تھوڑا پیچھے ہٹ کر ان کی پشواز کو اتارنے لگا۔۔۔۔۔ سرخ رنگ کی پشواز کے نیچے انہوں  نے اسی رنگ کی برا بھی پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔ جو انہوں نے خود ہی اتار دی۔۔۔۔اور اب میرے سامنے مسز ثمرہ طارق خان ۔۔۔ ٹاپ لیس کھڑی تھیں۔۔۔ان کی چھاتیاں کافی  بڑی لیکن لمبوتری  اور قدرے لٹکی ہوئیں تھیں۔۔۔ اور ان لمبوتری چھاتیوں پر  براؤن رنگ کے موٹے موٹے نپل بھی تھے۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کی دائیں والی چھاتی کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور مسز طارق سے کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ میڈم کیا آپ اپنی زبان سے اس نپل کو چھو سکتی ہو۔۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔ ہاں نہ صرف چھو سکتی ہوں بلکہ میں یہ نپل چوس بھی سکتی ہوں تب میں نے ان سے کہا کہ چلیں آیئے ہم مل کر آپ کی خوبصورت چھاتیوں کے نپلز کو چوستے  ہیں ۔۔۔اور پھر ان کی چھاتی کو اوپر ان کے منہ کی طرف کر کے ان کی اس چھاتی پر اپنی  زبان  پھیرنے  لگا۔۔۔  میری دیکھا  دیکھی انہوں نے بھی اپنی لمبی  زبان  سے  اپنی نپل کو چاٹنا شروع کر  دیا۔۔۔۔ اسطرح بیک وقت ہم دونوں  مل کر   ان کی چھاتیوں کے اکڑے ہوئے نپلز کو باری باری چوسنے اور چاٹنے لگے ۔۔۔ اور اس دوران  کبھی کبھی ہماری زبان ایک جگہ پر اکھٹی بھی ہو جاتیں تھی تو ہم  نپلز کو چھوڑ کر اپنی  زبانوں کو لڑانا شروع ہو جاتے تھے۔۔۔۔۔کافی دیر تک ہم یہ گیم کھیلتے رہے پھر۔۔۔۔۔ اس کے بعد ہم نے ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ کسنگ کی اور پھر ہم الگ الگ ہو گئے۔۔۔اور وہ  میری طرف دیکھ کر  بولی ۔۔۔۔۔۔۔۔تم بھی اپنے  کپڑے  اتارو  نا ۔۔۔اور ان کے کہنے پر میں نے جلدی سے اپنے کپڑے اتار دیئے اور ان کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔تو وہ  اپنا چوڑی دار  پاجامہ اتار رہیں تھیں ۔۔۔۔ ان کو پاجامہ اتارتےدیکھ  کر اچانک میرے زہن میں ایک آئیڈیا آیا اورمیں نے ان کو پاجامہ اتارنے سے منہ کر دیا۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ پاجامہ اتارتے ہوئے رک گئیں اور  مستی  بھرے لہجے میں کہنے لگیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں  چودنا نہیں ۔۔؟ تو  میں نے کہا  جی  چودنے کے  لیئے  ہی تو  آیا  ہوں  ۔۔اور پھر ان کے قریب  چلا  گیا  اور ان کے پاجامے کو غور  سے دیکھنے  لگا۔۔۔۔ان کا پاجامہ  ان کی ٹانگوں کے۔۔۔۔ان کی رانوں کے  ساتھ  بلکل چپکا ہوا  تھا ۔۔۔۔ اور اس ٹائیٹ  پاجامے  میں ان کی چوت کے آس پاس  کا   ایریا ۔۔۔۔ بہت گیلا  ہو  رہا  تھا ۔۔ تب میں نے ان کے پاجامے کو نیفے سے(نالے والی جگہ) سے پکڑا اور اس کو مزید اوپر کی طرف کھینچا۔۔۔۔۔اس طرح ان کا   پاجامہ مزید اوپر ہو گیا ۔۔۔ اور میرے  اس طرح کرنے سے انکے  پاجامے کا  نچلا حصہ ان  کی چوت کی پھاڑیوں  میں گھس گیا اور  میرے اس طرح کرنے سے ان کی چوت کی   دونوں پھاڑیاں الگ الگ  نظر آنے لگیں ۔۔۔  اور ان کا  پتلا سا ۔۔۔ تنگ  سا۔۔پاجامہ ان کی چوت کے ہونٹوں سے بڑی ہی سختی کے ساتھ چپک گیا  جس سے ان کی چوت کی  لکیر مزید گہری ہو  کر   دو حصوں میں واضع  نظر آنے لگی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ایک دفعہ پھر ان کے نیفے کو  مزید اوپر کھینچا۔۔۔۔ اور  میرے اس طرح کرنے سے ان کے چوت کے لبوں کو ایک  میٹھی سی رگڑ لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پاجامے کا  نچلا حصہ ( جس کو غالباً آسن بولتے ہیں )  ان  کی چوت کی لکیر  میں کُھب سا گیا۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگیں ۔۔۔ کیا کر رہے ہو جان۔۔۔۔۔۔ اب چودو نا۔۔۔ پلیزززززززززززززززززززز۔۔۔۔۔لیکن میں نے ان کی بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور ان کی چوت کی لکیر میں دھنسے ہوئے پاجامے کو چاٹنا  شروع  ہو گیا ۔پہلے  تو میم کو کچھ سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ لیکن جب میری  زبان  ان کی  چوت کی دراڑ میں گھسی تو  وہ  میرا پلان سمجھ گئیں ۔۔۔اور آہیں بھرنے لگیں۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میری زبان نے ان کی چوت کی دراڑ کو چھوا ۔۔۔تو مجھے ان کا  پاجامہ خاصہ گیلا اور ۔۔۔ چوت کے رس سے لبریز لگا۔۔ چنانچہ جیسے جیسے میں ان کی چوت کی دراڑ میں پھنسے پاجامے پر زبان پھیرتا ۔۔ویسے ویسے ان کی  چوت کے اندر  سے پانی کے  رسنے  کی رفتار تیز ہو جاتی اور ۔۔۔ ان کی چوت کا یہ رس  ان کے چوڑی دار پاجامے سے چھن چھن کر باہر نکلنے لگتا  جسے میں اپنی زبان پر لیکر چاٹ جاتا۔۔۔۔۔۔۔ چوت کے دراڑ میں کچھ دیر تک زبان پھیرنے کے بعد۔۔۔۔۔ میں نے ان کے چوت موٹے موٹے  ہونٹوں کو اپنے دانتوں سے  ہلکا  ہلکا  کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔اور ۔۔۔ ان کے ہونٹوں کو کاٹنے کی دیر تھی کہ ان کے منہ سے لزت آمیز ۔۔سسکیاں سی نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔آ۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ اُف۔۔۔۔سس۔۔۔۔۔ اُف تم کتنے سیکسی ہو جان۔۔۔۔ اب بس بھی کرو نا۔۔۔۔ اور جب وہ زیادہ مزے میں آتیں تو کہنے لگتیں ۔۔۔۔تھوڑا زور سے کاٹ ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ لو یو ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔

 

ادھر ثمرہ میم  شہوت سے بھر پور انداز میں  چیخ چلا رہی تھی اور ادھر میں  اپنے دانتوں سے ان کی  چوت کے موٹوں لبوں کو  کاٹے جا رہا تھا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ گاہے بگاہے  ان کے  بہت موٹے اور پھولے ہوئے  دانے کو بھی  رگڑ رہا تھا۔۔۔۔  مجھے اس طرح کرتے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک ثمرہ میم نے   میرے سر کو  زور سے پکڑا اور میرے  منہ کو اپنی پھدی کے چھید کے عین درمیان میں  لے جا کر دبانے لگی ۔۔۔۔ جس سے میں فوراً سمجھ گیا کہ اب میم کی چوت پانی چھوڑنے  والی  ہے۔۔۔۔۔وہ  میرے  منہ کو اپنی پھدی کے چھید میں ذور  ذور سے دبا  کر کہے  جا رہی تھی۔۔۔ کہ ۔۔۔۔ کاٹو۔۔۔ میرے دانے کو بھی  کاٹو نا ۔۔۔ تم  مجھے چودتے کیوں نہیں سالے حرام ذادے۔۔۔۔۔ اور پھر اسی آہ بکا  میں اچانک ان کی چوت سے بہت سا  پانی  نکلا   جو کہ  ان کے تنگ سے  چوڑی دار پاجامے سے چھن کر  باہر نکل آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس سے  میرے  ہونٹ میرے گال اور میری ناک غرض کہ منہ کا ہرحصہ ان کی چوت کے پانی سے گیلا ہو گیا ۔۔۔اور میں  ہاتھ لگا کر  اپنے منہ  کو چھوا  تو  ان کی چوت  سے نکلنے  والے پانی کی ایک  عجیب سی  چپچاہٹ  میرے سارے  چہرے لگی ہوئی تھی۔۔  اس کے ہاتھ ہی میں کھڑا ہو گیا  اور مسز ثمرہ طارق خان کو اپنے گلے کے ساتھ لگا لیا اس وقت ان کو کافی سانس چڑھا ہو تھا ۔۔اس لیئے وہ اپنے سانس بحال کرتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔۔ اب بس بھی کرو میری جان۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت خود میری حالت بھی بہت خراب ہو رہی تھی  اور میرا لن ۔۔ چوت میں جانے کے لیئے بُری سے فریاد کر رہا تھا ۔۔ ا س لیئے  میں نے ان کو اپنے گلے سے الگ کیا اور ان کا منہ چوم کر بولا ۔۔۔۔  جو حکم میری جان ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی   پل بھر میں ہم دونوں نے اپنے اپنے کپڑے اتار دئے۔۔۔کپڑے اترنے کے فوراً بعد ہم دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کے لپٹ گئے ۔۔۔۔اور  پھر سے انہوں نے اپنی  زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔۔ ابھی میں  نے ان کی  تھوڑی سی  ہی زبان چوسی تھی  کہ وہ بولیں ۔ ۔۔۔ اب میرے نپلز چوسو  ان کی بات سن کر میں  نے  ان کے نپلز کو اپنے  منہ میں  لیکر چوسنا شروع ہو گیا۔۔۔۔میرے نپلز چوسنے کی دیر تھی کہ ان کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنا  شروع ہو گئیں ۔۔۔۔۔سس۔۔۔۔آہ۔۔۔ رکنا نہیں  یونہی چوستے   جاؤ ۔۔اور میں  کافی دیر تک ان کے دونوں  نپلز  کو چوستا رہا ۔۔۔ پھر وہ مجھے لے کر اپنے بستر پر آگئیں ۔۔۔اور  بستر پر لیٹ  کر اپنی دونوں  ٹانگیں کھول دیں اور  انہیں ہوا میں  لہرانے لگیں۔۔۔۔ اور بولیں۔۔۔  اوپر اوپر سے میری چوت کو تم نے  تم نے کمال چاٹا ہے ۔۔اب میری ننگی  چوت پر بھی اپنی  زبان  کا جادو  جگاؤ نا    پلیزززززززززززز۔


ان کی بات سن کر میں گھٹنوں کے بل چلتا ہوا ان کے کھلی ہو ٹانگوں کے بیچ آ گیا ۔۔اور منہ نیچے کر کے ان کی چوت  کا معائینہ کرنے لگا۔۔۔ ان کی چوت بہت موٹی ابھری ہوئی اور خاص کر ان کے چوت  کو دونوں ہونٹ بہت  موٹے اور کافی  بڑے تھے ۔۔۔  پھدی پر ہاتھ پھیر کر دیکھا تو  اس کی بلکل تازہ شیو بنی ہو ئی تھی۔۔۔ میرے خیال میں  میرے پاس آنے سے پہلے انہوں نے چوت کے بال صاف کیئے تھے ۔۔۔  کیونکہ ان کی چوت بلکہ نرم اور ملائم تھی ۔۔ چوت کے دونوں ہونٹوں کے  درمیاں میں تھوڑا   فاصلہ  ۔تھا ۔۔ میں نے اپنی انگلی ان کی چوت میں ڈال کر دیکھی تو پتہ چلا کہ اندر سے ان کی چوت تھوڑی کھلی تھی ۔۔۔ ان کی چوت کے اوپر  براؤن رنگ کا بڑا  دانہ ۔۔ کافی  پھولا  ہوا  تھا اور ان کی موٹی چوت پر بہت بھلا لگ رہا تھا۔۔۔۔ پھر میں نے ا ن کی  ۔۔چوت کا اچھی طرح ملاحظہ کرنے کے بعد میں نے اپنی ناک ان کی چوت کی دراڑ میں لگا دی ۔۔تو  مجھے وہاں سے ان کی چوت اور ۔۔۔ منی کی ۔۔بڑی ہی  مست سی مہک آنے گلی ۔۔ جسے میں نے  ایک نشئی   کی طرح جی بھر کے سونگھا۔۔اور ۔پھر ان کی چوت کے دونوں ہونٹوں کو کھول کر ان کی دراڑ میں اپنے زبان ڈال دی۔۔ واؤؤؤ ۔۔سب سے پہلے میری زبان کو   ان کی چوت کے  نمکین پانی نے ویل کم کیا  ۔۔اور میں نے ان کی چوت کے اندرونی حصے کو چاٹنا شروع  کر دیا۔۔۔۔ادھر جیسے ہی میری زبان ان کی چوت کے اندر داخل ہوئی ۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔اُف ف فف ف ف ۔کرتے ہوئے وہ تڑپ کر بیٹھ گئی ۔۔ اور میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ تو میں نے ان  کی چوت سے منہ اُٹھا کر پوچھا۔۔۔ کیا ہوا میم؟ تو  وہ  بولی کچھ نہیں تم اپنا   کام  جاری  رکھو۔۔ اور پھر سے لیٹ گئی ۔۔۔اور اس دفعہ میں نے بجائے ان کی چوت چاٹنے کے ان کے  موٹے دانے کو اپنے   ہونٹوں میں لیا اور  اس پر اپنی  زبان  پھیرنے  لگا ۔۔۔۔میرے اس طرح کرنے سے کچھ دیر تک  تو  وہ  چُپ  رہیں ۔۔۔ پھر جب دانے کو چٹوانے سے آنے والے مزے سے وہ بے حال ہو گئیں تو  ایک دم سے انہوں نے مجھے  ایک مردانہ سی گالی دی اور کہنے لگیں ۔۔ بہن چود۔۔۔ پاجامے کے اوپر سے تو بڑے چک مار رہے تھے( دانت کاٹ رہے تھے) اب ننگی  پھدی  ملی  ہے تو  اسے چاٹ رہے ہو۔۔۔ مادر چود ۔۔۔ میر ی ننگی  پھدی پر بھی دانت  کاٹو ۔۔۔۔ ان کی گالیاں سن کر میں زرا بھی بے مزہ   نہ ہوا ۔۔۔ بلکہ ان کی گالیوں نے  مجھ میں ایک نئی  انرجی بھر دی  اور میں نے ان کی چوت جم کر  چاٹنا شروع کر  دیا ۔۔۔اور سب سے پہلے ان کی دانے پر ہلکا سا دانت کاٹا ۔۔۔۔ وہ ایک دم مست آواز میں بولیں۔۔۔ ہاں ۔۔۔ایسے ۔۔۔ ایسے کاٹ نا۔۔۔اور پھر اس کے بعد میں نے ان کی پھدی کے ہر ہر  حصے پر اپنے دانتوں کے نشان چھوڑنا شروع کر دیئے۔۔میرے اس عمل سے وہ بے حال ہوتی چلی گئیں ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ان کی چوت سے ایک بار پھر پانی کی آمد شروع ہو گئیں ۔۔۔ اس کےساتھ ساتھ مسز ثمرہ طارق خان کے منہ سے  ننگی گالیوں کا طوفان نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر گالی سن کر  میں پہلے سے زیادہ مست ہو  رہا تھا۔۔۔۔۔اور اسی رفتار سے ان کی چوت سے پانی  کا اخراج بھی ہو رہا  تھا۔۔۔۔چونکہ میرا منہ ان کی چوت کے اوپر دھرا تھا ۔۔۔اس لیئے   ان کی سویٹ اینڈ سالٹی سی منی سیدھی میرے منہ پر گر رہی تھی۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگیں۔۔۔چوت چاٹ۔۔۔ اور اس پر لگا پانی پی جا۔۔۔۔ اور میں نے ایسے ہی کیا۔۔۔   جب  میں نےان کی چوت کی ساری منی  چاٹ کر صاف کر دی تو پھر۔۔۔۔


پھر اچانک ہی وہ اوپر اُٹھیں اورمجھے بالوں سے پکڑ کر بولیں ۔۔۔بس کر مادر چود ۔۔۔  تو میں نے سر اُٹھا کر ان کی طرف دیکھا تو  مجھے ان کی آنکھوں میں ہوس کے شعلے نظر آئے اور وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔اب۔۔ اور نہیں ۔۔ تو میں نے شرارت سے کہا ۔۔۔تو اور کیا کروں ؟ تو  وہ  مست آواز میں دانت پیس کر کہنے لگیں ۔۔۔۔۔ چودو۔۔ مجھے ۔۔۔۔ اور کیا کرنا ہے۔۔۔۔


اس کے ساتھ ہی  وہ دوبارہ سے  نیچے لیٹ گئیں اور میں ان کی ٹانگوں کے بیچ گھٹنوں کے بل کھڑا  ہو گیا ۔۔۔ اور اپنا لن ان کی چوت کے گرم لبوں پر رکھ دیا۔۔۔ جیسے ہی میرے ٹوپے ان نے کی چوت کے لبوں کو چھوا ۔۔ مسز ثمرہ طارق خان نے ہاتھ بڑھا کر  میرے لن کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس کی نوک کو اپنی چوت پر رگڑنے لگی ۔۔۔۔ پھر پھر ۔۔۔ انہوں نے مجھے اشارہ کیا ۔۔۔ اور میں نے اپنے لن کو دھیرے سے ان کی خوب صورت چوت میں اتار دیا ۔۔اور مجھے ایسے محسوس ہوا کہ جیسے  میرا لن کسی  مزے  سے بھر پور   دکان  میں داخل  ہو گیا  ہو  ۔۔ اور جب میرا لن ان کی چوت کےاندر  جڑ تک  چلا گیا ۔۔۔۔   ۔ تو  مسز ثمرہ    طارق  خان  نے  ایک مزے سے بھر پور  جھرجھری لی اور اس کے ساتھ  ہی انہوں نے میری کمر پر  ہاتھ رکھا  اور بولں  کہ اپنے  اس جانور کو  ۔۔۔ ایسے  ہی کچھ دیرتک میرے اندر  رہنے دو۔۔۔میں اس کی موٹائی اور گرمی کو اپنی چوت میں جزب کرنا  چاہتی  ہوں ۔۔ ان کی بات سن کر میں ان کے اوپر ہی لیٹ گیا ۔۔۔اور اپنا منہ ان کے منہ سے ملا دیا اور ان کے ساتھ کسنگ کرنے لگا۔۔۔۔ابھی لن کو ان کی چوت میں ڈالے تھوڑی  ہی دیر ہوئی تھی کہ  اچانک  ہی  وہ  جوش میں آ گئیں اور  اپنی   ہپس کو زور زور  سے ہلانے لگیں ۔۔۔اور  کہنے لگیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔شاہ ۔۔۔۔ میری چوت کی اپنی گرمی کیا کم  تھی کہ اوپر سے تم نے بھی اپنے گرم لوہے کے راڈ کو اس کے اندر ڈال دیا ہے۔۔اب تو یہ گرم سے گرم تر  ہو گئی ہے۔۔ ۔۔۔۔پھر سسکی لیتے ہوئی کہنے لگیں۔۔۔۔ آہ ہ ہ ۔۔ شاہ ہ ہ ہ  ہ ہ۔۔۔۔ تیرا لن بہت ۔۔۔بڑا ہے ۔۔۔۔ بہت گرم ہے۔۔۔ ۔۔بہت موٹا ہے۔۔۔ اس کی نوک میری چوت کی  گہرائی میں  جا کر وہاں کے آخری کونے میں  چُبھ رہی ہے۔۔۔۔۔ام مم۔۔۔۔مم۔۔۔ تیرے لن  نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔۔۔۔  اب جلدی سے جھٹکے مارو۔۔۔ ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔۔۔لن کو ان آؤٹ کرو۔۔۔۔۔ ان کی مست باتیں سن کر میں بھی مست ہو گیا اور میں ان کے  بدن سے اوپر اُٹھا ۔۔۔اور پوری طاقت سے اپنے لن کو ان کی چوت  میں اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔ اور وہ میرے نیچے تڑپتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔ اور بے دردی سے چودددددد۔۔۔۔۔چودددداااا۔۔۔جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مت رُک۔۔۔۔۔مجھے اور زور سے چودا۔۔۔۔ تمہیں قسم ہے آج میری پھدی کا  ملیدہ  بنا  دو۔۔۔  چودو ناں ں ں ں ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی باتیں اتنی مست اور زبردست تھیں کہ میں نے  بھی پاگل ہوا  جا رہا تھا ۔۔۔۔  اس  طرح کچھ دیر تک میں ان کو اس پوزیشن میں چودتا رہا ۔۔۔ پھر انہوں نے مجھے رکنے کا کہا ۔۔۔۔اور جیسے ہی میں نے ان کو گھسے مارنے بند کیئے انہوں نے کھینچ کر میرا لن باہر نکالا اور پھر جلدی سے گھوڑی بن کر بولیں رکنا نہیں۔۔۔بس۔۔۔  مجھے چودتے  جانا ۔۔۔ چودتے جانا۔۔۔۔ان کی بات سن کر میں آگے بڑھا اور  اس سے پہلے کہ میں لن کو ان کی چوت میں ڈالتا ۔۔۔اچانک میری نظر ان کی شاندار موٹی  گانڈ  پر پڑی۔۔۔۔ اور اتنی  شاندار اور موٹی گانڈ کو  دیکھ کر میرا  دل بے  ایمان  ہو گیا ۔۔ چنانچہ میں نے ان کی گانڈ کی موری پر تھوک پھینکا۔۔۔۔ اور اس تھوک کو  ان کی موری کے اندر تک   لگانے کے  لیئے جیسے ہی اپنی انگلی کو ان کی موری پر رکھا  ۔۔۔انہوں نے   پیچھے مُڑ کر میری طرف  دیکھا  اور کہنے لگیں ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ یہ اگلی دفعہ  مارنا۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو   چوت کی آگ بجھاؤ۔۔۔اور پھر انہوں نے خود  ہی  ہاتھ  پیچھے  کیا اور میرے لن کو پڑی کر اپنی چوت کے لبوں پر  رکھا  اور  خود ہی آگے پیچھے  ہونے لگیں ۔۔۔ میں کچھ دیر تو ان کو آگے پیچھے ہوتا  دیکھتا  رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر مجھے بھی جوش آگیا ۔۔۔۔۔اور  میں نے اپنے دونوں ہاتھ ان کی ہپس پر رکھے اور اور پھر  زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔۔میرے طوفانی گھسوں کا انہوں نے بھر پور ساتھ دیا ۔۔۔۔اور مجھے   مسلسل  ہلا شیری دیتی رہیں۔۔۔۔ اب میرا لن کسی پسٹن کی طرح تیزی سے ان کی چوت میں آ ۔۔ جا ۔۔۔رہا تھا ۔۔اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔ اور پھر اچانک  مجھے  ایسا لگا کہ ۔۔ میں بس جا رہا ہوں ۔۔۔ا ور اس  فیلنگ کے ساتھ ہی میرے  خود بخود میرے گھسوں کی سپیڈ میں اضافہ ہو گیا ۔۔۔۔اور  میں گھسے مارتے ہوئے۔۔۔۔اور وہ مرواتے ہوئے پسینوں پسینی ہو گئے تھے ۔۔تاہم جیسے ہی میرے گھسوں کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔۔۔۔تو انہوں  نے جلدی سے میری طرف دیکھا اور بولیں۔۔۔۔۔ میں ۔۔ بھی ۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔ میں بھی ۔۔۔ جا رہی ہوں  ۔۔اس لیئے اپنے آخری گھسے ۔۔۔۔ اور شدت سے مارو۔۔۔۔اس کے ساتھ  اگلے کچھ گھسوں کے بعد  میں نے محسوس کیا کہ مسز ثمرہ  طارق خان کی چوت  کا شکنجہ میرے میرے لن کے گرد ۔۔۔  تنگ ہوتا   جا  رہا تھا۔۔۔ تنگ ۔۔۔اور ۔۔تنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ان کی چوت نے میرے لن کو پوری طرح اپنے شکنجے میں لے لیا ۔۔میرے لن کو جکڑ لیا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میرے لن کی نسیں بھی پھولنا شروع ہو گئیں تھیں۔۔۔۔ ہم دونوں کے سانس چڑھ گئے۔۔۔۔ اور  پھر اسی بے خودی میں مجھے  مسز ثمرہ طارق خان کے منہ سے  نکلتی ہوئی ۔۔۔ایک  زور دار۔۔ چیخ ۔۔۔سنائی دی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ۔۔۔یس۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی  بڑی سی گانڈ کو بڑی ہی    سختی کے  سے میرے ساتھ  جوڑ دیا اور ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ان  کی چوت نے میرے لن کے ارد گرد  اپنا گھیرا  مزید تنگ کیا اور  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گرم پانی  چھوڑنا  شروع کر دیا ۔۔۔۔ ان کی چوت سے نکلنے والا گرم پانی۔۔۔۔ میرا لن نہ برداشت کر سکا ۔۔۔۔ اور اچانک مجھے ایک جھرجھری سی آئی اور میرا سارا جسم کانپا۔۔۔۔ اور ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میرے لن سے  ابلتا  ہوا گرم پانی کا  لاوا   نکل  کر ۔۔۔ ان کی چوت میں  گرنا شروع ہو گیا میں جھٹکے  مارتا    رہا ۔۔ وہ  مزے سے چیختی  رہیں  ۔۔۔۔ میرے لن سے ۔پانی گرتا رہا ۔۔۔ مزہ آتا  رہا۔۔۔ اور میں ان کی چوت میں ہی چھوٹ گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 romantic urdu bold novels

new urdu bold novels

urdu bold novels list

urdu bold novels pdf

most romantic and bold urdu novels list

husband wife bold urdu novels

hot and bold urdu novels pdf

urdu bold novels and stories

urdu bold novels and short stories

most romantic and bold urdu novels