Munhoos Se Masoom Tuk(8th)منحوس سے معصوم تک (آٹھویں قسط)

 



منحوس سے معصوم تک

قسط نمبر 008

اگلے دن صبح شیرو روٹین سے اکھاڑے میں کثرت کر کے گھر آتا ہے ۔ ۔ ۔ اور ناشتہ کر کے اسکول چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ،

سرور پیسے لے کر شہر چلا جاتا ہے اور دلدار اور بختیار بھی چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔

نائلہ صبح صبح کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اِس لیے وہ خاموش تھی مگر سب کے جانے کے بعد ۔ ۔ ۔ وہ ماہرہ کے پاس اس کے کمرے میں جاتی ہے ۔ ۔ ۔

نائلہ :

چھوٹی کیا چل رہا ہے تم دونوں کے بیچ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ گھبرا جاتی ہے کہیں باجی کو میرا اور شیرو کا پتہ تو نہیں چل گیا ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

ک ک ک ۔ ۔ ۔ ۔ کن دنوں کے بیچ ؟

آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

میں تیری اور بختیار کی بات کر رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ سکون کا سانس لیتی ہے ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

کیوں کیا ہوا باجی سب ٹھیک تو ہے ۔ ۔ ۔

نائلہ :

جھوٹ مت بولو میں نے رات کو سب سنا ہے اپنے کانوں سے ۔ ۔ ۔

ماہرہ رونے لگتی ہے تو ۔ ۔ ۔ نائلہ اسے اپنے گلے لگا لیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

بس بس رو مت میں ہوں نہ ۔ ۔ ۔ ،

تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں کب سے چل رہا ہے یہ سب بتا مجھے ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

( روتے ہوئے )

کچھ نہیں باجی وہ بچہ نہ ہونے کا قصوروار مجھے مانتے ہے ۔ ۔ ۔ ،

آپ ہی بتائیں میں کیا کروں ۔ ۔ ۔ کیا اس میں میری غلطی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے اسے ۔ ۔ ۔ ۔ جانے کن گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھنے لگا ہے ۔ ۔ ۔ میں آج ہی تیرے بھئیا کو بولتی ہوں وہ سمجھائیں گے اسے اپنے طریقے سے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

نہیں باجی اس سے بختیار اور بھڑک جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

تو تم کیا چاہتی ہو وہ تمھارے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرے اور میں کچھ نہ کروں ؟

ماہرہ :

مجھے خود پر بھروسہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

تم نے مجھے بتایا نہیں کیا کہا تھا ڈاکٹر نے ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ بس کچھ دن دوائی کھانی پڑے گی ۔ ۔ ۔ اور پھر میں ماں بن سکتی ہوں ۔ ۔ ۔

نائلہ :

کیا سچ ! ! !

یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔ ۔ ۔ تم نے بختیار کو کیوں نہیں بتایا ۔ ۔ ۔ ۔ بلاوجہ اس کی باتیں سن رہی ہے ۔ ۔ ۔ ،

آنے دے زرا اسے گھر میں کان کھنچتی ہوں اس کے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

نہیں باجی اگر میں انہیں بتاتی تو وہ یقین نہیں کرتے ۔ ۔ ۔ ویسے بھی رات کو کہاں وہ ہوش میں تھے ۔ ۔ ۔

اب وہ جب گھر آئیں گے تو آپ بتانا کہ ۔ ۔ ۔ آپ مجھے لے کر ڈاکٹر کے پاس گئی تھی ۔ ۔ ۔ اور ڈاکٹر نے دوا دی ہے ۔ ۔ ۔ جس سے میں ماں بن سکتی ہوں ۔ ۔ ۔

( اگر میں کہوں گی تو کبھی یقین نہیں کرے گا وہ ۔ ۔ ۔ ،

اس کی ناک کے نیچے میں شیرو کے لنڈ کے دھر سے ماں بنوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ اور شیرو کے بچے کو اس کا بتا کر چوتیا بناؤں گی اسے ۔ ۔ ۔ یہی میرا بدلہ ہے ) ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

ہم م م ۔ ۔ ۔ ،

تو ٹھیک کہتی ہے میں اسے اچھی طرح سمجھا دوں گی ۔ ۔ ۔ اور تیرا خیال رکھنا ہوگا اسے ۔ ۔ ۔ ورنہ کان پکڑ کر باہر کر دوں گی اسے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

اس کی ضرورت نہیں پڑے گی باجی ۔ ۔ ۔ ،

ویسے میں چاہتی ہوں کہ ۔ ۔ ۔ میرا بچہ شیرو جیسا ہو اسی کے جیسا بنے بڑا ہو کر ۔ ۔ ۔ ، شیرو کتنا پیارا ہے نہ کتنا خیال رکھتا ہے ہم سب کا ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

ہاں یہ تو نے بالکل ٹھیک کہا ۔ ۔ ۔ ۔ قدرت نے شیرو کو میری جھولی میں ڈال کر میرے دِل سے بانْجھ ہونے کا دکھ دھو دیا ۔ ۔ ۔ کاش کے وہ میرا سگا بیٹا ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

اور ہر کسی کو آپ جیسی ساس ملے ۔ ۔ ۔

نائلہ :

کیا کہا ؟

ماہرہ :

ارے باجی میں نے تو ساس سسر کو دیکھا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ آپ گھر کی بڑی ہے ۔ ۔ ۔ تو میرے لیے تو آپ ہی ساس ہے اور بڑے بھئیا سسر کی جگہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

( من میں )

{آپ کا بیٹا شیرو مجھے ماں بنائے گا تو ہوئی نہ میں آپ کی بہو اور آپ میری ساس}۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

ہاں یہ تو ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔

چل اب تو فکر مت کرنا ۔ ۔ ۔ اور جیسے ہی بختیار گھر آئے تو مجھ سے بات کروانا ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

جی باجی ۔ ۔ ۔

دونوں ایسے ہی کچھ اور باتیں کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور نائلہ گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ،

ماہرہ آگے کے بارے میں سوچنے لگتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ کیسے بختیار کو اِس بات پر راضی کروانا ہے کہ ۔ ۔ ۔ یہ بچہ اس کا ہے حالاںکہ ابھی تو اسے خود پتہ نہیں تھا وہ پریگننٹ ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

مگر اسے پُورا بھروسہ تھا کہ شیرو کا تگڑا لنڈ وہ کمال دیکھا دے گا ۔ ۔ ۔ جو بختیار نہیں دیکھا سکا ۔ ۔ ۔ ۔

کالج میں بریک ٹائم میں مہوش شیرو سے گلہ کرتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اس سے ملنے نہیں آتا اور وہ شیرو سے روٹھنے کا ڈرامہ بھی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ پھر شیرو اسے بتاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ کیسے وہ مامی کے ساتھ شہر گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور گھر کے کچھ مسائل میں اور کھیت کے کاموں میں وہ مصروف تھا ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کے سمجھانے پر وہ مان جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو اس سے وعدہ کرتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ وہ آج اسے دوپہر کو نہر کے کنارے ملے گا پھر دونوں کلاس میں چلے جاتے ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اسکول سے چھٹی ہونے کے بعد شیرو گھر آ کر كھانا کھاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر دوپہر کو نہر کے کنارے مہوش کو ملنے چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں عاشق معشوق کئی دن بعد مل رہے تھے اکیلے میں ۔ ۔ ۔ ۔ آج مہوش خود پہل کرتی ہے کس کرنے میں۔ ۔ ۔ ۔ وہیں شیرو تو چھوٹی مامی کی چدائی کر کے چدائی کے مزے کو جان چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

کس کرتے ہوئے شیرو مہوش کے دودھ دبانے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

مہوش کے دودھ ابھی چھوٹے تھے ٹینس بال کے جیسے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر تھے بہت ٹھوس جنہیں دبانے میں شیرو کو عجیب مزا مل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ،

مہوش کے لیے یہ نیا احساس تھا آج تک کسی نے اس کے دودھ کو چھوا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔

مہوش اِس انوکھے احساس میں ڈوبتی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔ مستی میں اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کی سسکیاں نکلنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

"آہ ہ ہ ۔ ۔ ۔ س س ۔ ۔ ۔او ۔ ۔ ۔ م م م" ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو مزے سے اس کے دودھ دبائے جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اب اُس پر ہوس حاوی ہونے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنا ایک ہاتھ مہوش کی گانڈ پر لے جا کر اسے مسلنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ،

مہوش اِس دوہرے حملے کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اپنی ایڑیاں اٹھا کر شیرو سے چپکنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر سے شیرو کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں قید کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ووم م م ۔ ۔ ۔ ہم م م م ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ اف ف ف ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں مستی میں کھوئے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ تبھی انہیں کسی کی آہٹ سنائی دیتی ہے ۔ ۔ ۔ کوئی ان کی طرف آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

مہوش گھبرا کر جلدی سے وہاں سے نکل جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ،

شیرو جھاڑیوں میں چھپ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر میں گاؤں کی کچھ عورتیں کپڑے اٹھائے نہر کنارے دھونے آتی ہوئی دکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو پھر ان کے دور جاتے ہی وہاں سے نکل کر کھیتوں میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں دلدار ماما اسے ملتے ہے۔ ۔ ۔ ۔

پھر کچھ خاص نہیں ہوتا اور شام ہونے سے پہلے دونوں گھر آ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھر پر آتے ہی سرور شیرو کو صحن میں ہی بیٹھا ملتا ہے جس کے چہرے پر خوشی جھلک رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

کیوں بارخوردار کہاں سے آ رہے ہو ؟

شیرو :

جی وہ ماما جی کے پاس کھیتوں میں تھا ۔ ۔ ۔

سرور :

تو تم نے بتایا نہیں کہ تجھے کیا چاہیے سالگرہ کے تحفے میں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

بابا اپنے سب تو پہلے ہی دے رکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

مگر پھر بھی بہت چیزوں کی کمی ہے جو میں جانتا ہوں تجھے چاہیے ۔ ۔ ۔

اتنا کہہ کر سرور چُپ ہو جاتا ہے اور شیرو کی نظروں میں دیکھنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

نہیں بابا میرے لیے آپ کا پیار ہی سب کچھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ویسے بھی میں تو ابھی کالج میں پڑھتا ہوں ۔ ۔ ۔ بھلا مجھے کس چیز کی ضرورت ہوگی ۔ ۔ ۔

سرور :

ارے بیٹا ہمارا پیار تو ہمیشہ تیرے ساتھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر آج کل کے زمانے کے ساتھ چلنا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لیے میں اور تیری ماں نے تیرے لیے ایک تحفہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ جو تجھے لینا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

ٹھیک ہے بابا ۔ ۔ ۔ اگر آپ دونوں نے میرے لیے کچھ لیا ہے تو میں انکار کیسے کر سکتا ہوں ۔ ۔ ۔

سرور :

شاباش میرے شیر چل آ تجھے دیکھاؤں ۔ ۔ ۔ ۔

سرور اور نائلہ شیرو کو گھر سے باہر لے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ جہاں پر ایک برانڈ نیو ہونڈا بائیک کھڑی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ریڈ کلر کی ۔ ۔ ۔ ۔ شیرو نے آتے ہوئے دیکھا تو تھا ۔ ۔ ۔ ۔

مگر اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

یہ ہے تیرا تحفہ ہماری طرف سے یہ لے چابی پکڑ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کی آنکھوں میں خوشی سے آنسوں آ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ سرور کو کس کے گلے لگا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

ارے بس کر اپنی پہلوانی مجھ پر مت دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ کہیں ہڈیاں چھٹاک گئی تو۔ ۔ ۔

اتنا کہہ کر سرور ہنسنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور شیرو بھی اپنی پکڑ ڈھیلی کر کے پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

بابا آپ نے میرے لیے اتنا مہنگا تحفہ لیا ۔ ۔ ۔ آپ رہنے دیتے مجھے ابھی اس کی ضرورت نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کے پاس ہے تو سہی کہیں آنے جانے کے لیے بائیک ۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

ارے تحفہ مہنگا سستا نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے بھی تجھ جیسے پہلوان کے لیے یہی ہی ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ اب چل مجھے چلا کر دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو بائیک کو اسٹارٹ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور سرور اس کے پیچھے بیٹھ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ پھر دونوں گاؤں کا چکر لگا کر آتے ہیں ۔ ۔ ۔

پھر شیرو نائلہ کو بائیک پر بیٹھا کر چکر لگا کر آتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔پھر دلدار ماما کو ببیٹھا کر چکر لگاتا ہے ۔ ۔ ۔

دیبا کمر درد کا بہانہ بنا کر کمرے میں چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ وہ تو اندر سے جل گئی تھی شیرو کو ایسا تحفہ ملنے سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔بختیار ابھی آیا نہیں تھا اب رہ گئی تھی ماہرہ جو بہت خوش تھی ۔ ۔ ۔ ۔

اصل میں ماہرہ نے ہی نائلہ کو منایا تھا شیرو کو بائیک دلوانے کے لیے ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب بائیک سیلیکٹ کرنی تھی تو ماہرہ کے کہنے پر ہی سرور نے ہونڈا بائیک لی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آج تو پارٹی بنتی ہے مگر اس سے پہلے مجھے ایک بڑا سا چکر لینا ہے نئی بائیک پر ۔ ۔ ۔ ، چل جلدی کر۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

جی مامی جی چلیں ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ شیرو کے پیچھے بیٹھ جاتی ہے وہ اندر سے بہت خوش تھی ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بائیک واقعی میں شیرو کی شخصیت سے میچ کرتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اور بائیک پر شیرو کے پیچھے بیٹھی وہ خود کو اس کی بیوی ہی سمجھ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

چل گاؤں سے دور لمبا سا ایک چکر لے کر آتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

گھر پر سب انتظار کر رہے ہیں وہ پریشان ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

وہ میں دیکھ لوں گی تو چل مجھے لمبا چکر لینا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

گاؤں سے تھوڑا دور آتے ہی ۔ ۔ ۔ ماہرہ پیچھے سے شیرو کو کس کر پکڑ لیتی ہے ۔ ۔ ۔ جس سے اس کے ممے شیرو کی پیٹھ پر چبنے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

یہ کیا کر رہی ہو آپ کوئی دیکھ لے گا ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

تو ڈر مت اندھیرا ہو رہا ہے کوئی نہیں دیکھے گا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بس یہ پل تیرے ساتھ انجوئے کرنے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ تو نہیں جانتا میں کتنی خوش ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

اگر کسی کو پتہ چل گیا تو ؟

ماہرہ :

تو چپ چاپ بائیک چلا ۔ ۔ ۔ ۔

اتنا کہہ کر ماہرہ شیرو کی گردن پر کس کرنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی زبان نکال کر اس کی گردن پر پھیرنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ،

شیرو کے اندر ہوس بڑھنے لگتی ہے اور اس کے لینڈ میں تناو آ جاتا ہے ۔ ۔ ۔

شیرو کو بائیک چلانا مشکل لگنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ بائیک سائڈ میں روک لیتا ہے ۔ ۔ ۔

بائیک روک کر وہ بائیک سے نیچے اُتَر جاتا ہے

ماہرہ سوال بھری نظروں سے شیرو کو دیکھنے لگتی ہے۔ ۔ ۔ ۔

آج دن میں شیرو نے مہوش کے ساتھ بھی مستی کی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اوپر سے ماہرہ نے بھی اس کی ہوس کو بڑھکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مگر شیرو کو جھجھک محسوس ہو رہی تھی آخر وہ مامی کے ساتھ کیسے پہل کرے ۔ ۔ ۔

مگر اب اسے یہ برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ماہرہ سمجھتی ہے شاید شیرو برا من گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ شیرو کو خود سے دور ہونے نہیں دینا چاہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لیے آگے بڑھ کر وہ شیرو کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو تو پہلے ہی اسی تلاش میں تھا وہ بھی ٹوٹ پڑتا ہے مامی کے ہونٹوں پر ۔ ۔ ۔ ۔

"ووم م م م ۔ ۔ ۔ ۔ ہم م م م" ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں کے کس اب جنگلی طریقے سے ہونے لگے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ہوس دونوں کے سر چڑھ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ شیرو سے دمدار چدائی کرکے ماہرہ شیرو کی داسی ہوگئی تھی ۔ ۔ ۔ ایک دن آرام کرنے کے بعد اس کی پھدی پھر سے چدائی چاہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب پانی پانی ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کے ہاتھ اب ماہرہ کے دودھ پر تھے ۔ ۔ ۔ اور سختی سے دونوں دودھ کو مسل رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ماہرہ کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

"آہ ۔ ۔ س س ۔ ۔ ۔ آں ۔ ۔ ۔ ہم م م م" ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو تو جیسے آج دودھ کو مسل کر اُکھاڑ ہی دینا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماہرہ کے اندر آگ بڑھتی جا رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ مگر ایسے راستے پر یہ سب کرنا خطرناک تھا ۔ ۔ ۔ اس لیے وہ شیرو کو خود سے دور کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو سوالیہ نگاہوں سے مامی کو دیکھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

چل اب گھر چل وہ سب انتظار کر رہے ہوں گے ۔ ۔ ۔

شیرو کو بھی ماہرہ کی بات سمجھ آ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ چپ چاپ بائیک اسٹارٹ کر کے واپس چل پڑتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں گھر آتے ہیں تو نائلہ پہلے شیرو کو مٹھائی کھلا کر اس کا منہ مٹا کرواتی ہے ۔ ۔ ۔

اور پھر شیرو سب کو مٹھائی کھلانے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جب آخر میں ماہرہ کو کھلانے لگتا ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

ایسے نہیں چلے گا مجھے تو پارٹی چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

بتائیں کیا کھائیں گے ۔ ۔ ۔ کیسی پارٹی چاہیے آپ کو ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

مجھے تو پارٹی چاہیے اور کھاؤں گی میں اپنی پسند کی چیز ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

کب چاہیے پارٹی ؟

ماہرہ :

( دھیرے سے )

آج رات کو تیار رہنا میں اپنی پارٹی لے لوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنی پسند کی چیز بھی کھا لوں گی ۔ ۔ ۔

اتنا کہہ کر وہ شیرو کو آنکھ مار دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ،

شیرو ہڑبڑا جاتا ہے اور جلدی سے نائلہ کے پاس چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

بھئیا آپ وہ لائے جو میں نے بولا تھا ؟

سرور :

ارے ہاں وہ تو بھول ہی گیا تھا ۔ ۔ ۔ ، نائلہ وہ میرا بیگ تو لانا زرا ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ سرور کے کمرے سے بیگ لا کر دیتی ہے ۔ ۔ ، سرور بیگ میں سے ایک بکس نکال کر دلدار کو دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

سرور :

یہ لو جیسا تو نے بولا تھا چیک کر لے ۔ ۔ ۔ ، مگر تیرے پاس تو پہلے سے ہی ہے نہ ؟

دلدار :

جی بھئیا میرے پاس تو ہے ۔ ۔ ، یہ والا تو شیرو کے لیے ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو یہ لے بیٹا میری طرف سے تیری سالگرہ کا تحفہ ۔ ۔ ۔

یہ کہہ کر دلدار وہ بکس شیرو کو دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو وہ بکس دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ اس میں موبائل ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

ماما جی اس کی کیا ضرورت تھی بھلا مجھے کیا ضرورت ہے اس کی ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

بیٹا مجھے جو سہی لگا میں نے دے دیا اب تو جان تیرا کام جانے ۔ ۔ ۔ ۔

ہاں مگر پڑھائی پر اثر نہیں ہونا چاہیے یہ جان لے ۔ ۔ ۔ ۔

نائلہ :

یہ کیا دلدار تجھے کیا ضرورت تھی یہ سب کرنے کی ؟ ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

کیوں بھابی ؟ کیا شیرو میرا کچھ نہیں لگتا ؟

نائلہ :

نہیں ایسی بات نہیں ہے یہ بائیک اسے مل تو گئی ہے ۔ ۔ ۔ اس کی کیا ضرورت تھی کیا ہم نے تمہیں کبھی خود سے الگ سمجھا ہے ۔ ۔ ۔ یہ بائیک بھی تو تیری طرف سے ہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

نہیں بھابی میں جو دینا چاہتا تھا میں نے دے دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ،

گاؤں میں سب لڑکوں کے پاس موبائل ہیں اور ہمارا بیٹا اِس کے بنا رہے اتنا پیسہ زمین جائداد ہوتے ہوئے بھی کیا یہ اچھا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ کس کے لیے ہے ۔ ۔ ۔

اب اور کوئی بات نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ ،

اور شیرو تو چپ چاپ رکھ لے ورنہ میں تجھ سے بات نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو دلدار کو گلے لگا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

شکریہ ماما جی آپ سب مجھے کتنا پیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

تھوڑی دیر بعد سب كھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ،

بختیار آج گھر نہیں لوٹا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

دیبا اپنے کمرے میں دلدار کی کلاس لے رہی تھی۔ ۔ ۔۔

دیبا :

پڑ گئی کلیجے میں ٹھنڈک آپ کے ؟

کر لی اپنی مرضی ؟

کچھ رہ گیا ہو تو وہ بھی کر لو۔ ۔ ۔ ۔

پتہ نہیں آپ کو کیا نظر آتا ہے اس منحوس میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کتنی بار کہا ہے اس سے دور رہا کرو مگر نہیں آپ کو تو سب کچھ لوٹانا ہے اس پر ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

تم گئی گزری باتوں کو بھول کیوں نہیں جاتی ۔ ۔ ۔ ، کیوں اسے کوستی رہتی ہو ۔ ۔ ۔ ، آخر ہمارا سب کچھ اسی کا تو ہے ۔ ۔ ۔

دیبا :

بھول جاؤں ؟

کیسے بھول جاؤں ۔ ۔ ۔ ،

میری زندگی جہنم بن گئی اس کی وجہ سے ۔ ۔ ، میری کوکھ اجڑ گئی سہاگن ہوتے ہوئے بھی بیوہ ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اور آپ کہتے ہیں بھول جاؤں ۔ ۔ ۔ ۔

سانپ کے بچے کو کتنا بھی دودھ پلاؤ وہ بدلے میں زہر ہی دے گا ۔ ۔ ۔ ۔

دلدار :

جو بھی ہوا وہ سب حادثہ تھا ۔ ۔ ۔ ۔ قدرت کی مرضی تھی اس میں ۔ ۔ ۔ اس بےچارے کا کیا قصور ہے ۔ ۔ ۔ ۔

تم بلاوجہ اسے کوستی ہو ۔ ۔ ۔ ارے کبھی اپنی نفرت کو ایک طرف رکھ کر دیکھ وہ کتنا معصوم کتنا اچھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کتنا پیار کرتا ہے سب کو کبھی کسی بات پر کسی کو انکار نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ ۔ کتنا اخلاقی ہے اور تو اسے کوستی ہے ۔ ۔ ۔

دیبا :

بند کرو اس کی طرف داری ۔ ۔ ۔ ،

اگر میرا بس چلے تو ایک پل میں اسے دھکے دے کر نکال دوں ۔ ۔ ۔

میں بتا دیتی ہوں آپ کو اگر آپ باز نہیں آئے تو دیکھ لینا میں خودکشی کر لوں گی پھر دیکھتے رہنا ۔ ۔ ۔

دلدار چُپ ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور چپ چاپ سو جاتا ہے ۔ ۔ ۔

وہیں ماہرہ اپنے کمرے میں سب کے سونے کا انتظار کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ اسے بختیار کا بھی انتظار تھا ۔ ۔ ۔ کہیں وہ لیٹ گھر لوٹ نہ آئے ۔ ۔ ۔ ۔

آج ماہرہ کی پھدی مچل رہی تھی چدائی کے لیے ۔ ۔ ۔ ۔ اب اس سے انتظار نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

رات بارہ بجے ۔ ۔ ۔ماہرہ چپکے سے اپنے کمرے سے نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دیکھ لیتی ہے کہ سب سو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور بختیار بھی اب آنے والا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اِس لیے دبے پاؤں شیرو کے کمرے میں پہنچ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جہاں شیرو بیڈ پر لیٹا نئے موبائل کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ دروازہ اندر سے بند کر کے شیرو کے پاس آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

کیا ہو رہا ہے ؟

شیرو :

آئیں مامی جی بیٹھیں ۔ ۔ ۔ ،

میں بس موبائل چلا کر دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

وہ چھوڑ مجھے میری پارٹی دو ۔ ۔ ۔

شیرو :

کہیں کیا چاہیے ۔ ۔ ۔

ماہرہ شیرو کے سر کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیتی ہے کس کرنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

ووم م م ۔ ۔ ۔ ہم م م م ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو بھی جوش میں آ گیا تھا اور وہ بھی مامی کے ہونٹوں کو چُوسنے لگا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں میں کس کرتے ہوئے جوش بڑھتا جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ شیرو بیڈ پر لیٹ گیا تھا اور ماہرہ اس کے اوپر لیٹ گئی تھی ۔ ۔ ۔ شیرو کے دونوں ہاتھ ماہرہ کی گانڈ کو بری طرح مسل رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔

کس کرتے ہوئے شیرو مامی کو پلٹا کر نیچے کر لیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور زور زور سے اس کے دودھ مسلنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ،

ماہرہ کی ہوس انتہاہ پر پہنچنے لگتی ہے اور اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔آ ۔ ۔ ماں ۔ ۔ ایسے ہو ۔ ۔ ۔ اور زور سے دباؤ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔ آہاں ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ لیٹے لیٹے شیرو کے کپڑے کھولنے لگتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ شیرو بھی اس کی مدد کرتا ہے اور اس کے اوپر سے اُٹھ کر اپنا پاجامہ اترتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ بھی جلدی سے اُٹھ کر قمیض اتار دیتی ہے ۔ ۔ ۔ اور شلوار کا ناڑا کھول دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ناڑا کھولتے ہی شلوار پاؤں میں گر جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

آج کمرے میں پوری لائٹ جل رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

تیز روشنی میں مامی کی گوری چکنی رانوں کو دیکھ کر ۔ ۔ ۔ ۔ شیرو پاگل ہونے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور جلدی سے آگے بڑھ کر گھٹنوں پر بیٹھ جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور مامی کی رانوں کو دونوں ہاتھوں سے مسلتے ہوئے چاٹنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

چاٹتے ہوئے دانتوں سے کاٹنے لگتا ہے جس سے ماہرہ تڑپ اٹھتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ ۔ اوئی ۔ ۔ ۔ کھا جاؤ ۔ ۔ کھا جاؤ ۔ ۔ راجہ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔ کھا جاؤ سب کچھ تمھارہ ہی ہے ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو زور شور سے مامی کی رانوں کو چاٹ اور کاٹ رہا تھا ۔ ۔ ۔ پھر وہ مامی کی پینٹی کھینچ کر اُتَار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

پینٹی اُترتے ہی ماہرہ کی گلابی چوت سامنے آ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ جو بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ،

چوت پر مزے کے قطرے بتا رہے تھے کہ وہ کتنی چُداسی ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔

شیرو چوت کو ہاتھوں سے کھول کر دیکھنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جو اندر سے لال گلابی تھی ۔ ۔ ۔

شیرو کو چوت کا یہ نظارہ بہت دلکش لگتا ہے ۔ ۔ ۔ اور وہ اس کی خوبصورتی میں کھویا ہوا آگے بڑھ کر چوت کے ہونٹوں کو چوم لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کے ہونٹوں کو چوت پر محسوس کرتے ہی ماہرہ کا جسم کانپنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ اس سے یہ حملہ برداشت نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ اور اس کے ہاتھ شیرو کے سر کو چوت پر دبانے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ک ک ک کیا کر رہے ہو ۔ ۔ ۔ م م م م ۔ ۔ ۔ کھا جاؤ ۔ ۔ ۔ ہاں ں ں ۔ ۔ ایسے ہی ۔ ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ ۔ م م م ۔ ۔ ۔

ماہرہ کا جسم جھٹکے لینے لگتا ہے اور اس کا پانی نکل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو ابھی اِس کھیل میں نیا تھا اسے پتہ نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مامی اس کے سر کو چوت پر دبا دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تبھی چوت سے پانی بہنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ جو شیرو کے ہونٹوں سے ہوتا ہوا اس کے منہ میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کو پانی کا ذائقہ عجیب سا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مگر پھر اسے اچھا لگنے لگتا ہے اور وہ چوت چاٹ کر صاف کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔

ماہرہ کا جسم نڈھال ہوگیا تھا اس کی زندگی میں چوت چھٹائی کا یہ پہلا لمحہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ آج تک بختیار نے کبھی اس کی چوت کو اچھے سے چھوا تک نہیں تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور شیرو نے تو ڈائریکٹ اس کی چوت کو چاٹ کر اس کا پانی نکال دیا تھا۔ ۔ ۔

ماہرہ نڈھال ہو کر پیچھے بیڈ پر گر کر اپنی سانسیں ٹھیک کرنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو ابھی بھی چوت چاٹ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اسے اس میں بہت مزہ آ رہا تھا ۔ ۔ ۔

شیرو کی چوت چاٹنے سے دو منٹ میں ہی ماہرہ پھر سے گرم ہونے لگتی ہے ۔ ۔ ۔

شیرو کے سر کو کھینچ کر وہ دور ہٹاتی ہے ۔ ۔ ۔ اور شیرو کو بیڈ پر گرا کر اس کے انڈرویئر کو کھینچ کر اُتَار دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

انڈرویئر نکلتے ہی شیرو کا لنڈ نکال کر مزائیل کی طرح چوت کی طرف منہ کئے کھڑا تھا ۔ ۔ ۔ ماہرہ جلدی سے اسے دونوں ہاتھوں میں تھام لیتی ہے ۔ ۔ ۔ اور لنڈ کی ٹوپی کو چوم لیتی ہے ۔ ۔ ۔

شیرو کی بےدردی سے چوت چٹائی سے ماہرہ کے اندر کی ہوس بھڑک گئی تھی ۔ ۔ ۔

اس کی آنکھیں ہوس سے لال تھی ۔ ۔ ۔ ،

بختیار نے کئی بار ماہرہ کو اپنا لینڈ چوسایا تھا زبردستی ۔ ۔ ۔ مگر اس کے کالے بڈھے لنڈ کو دیکھ کر ماہرہ کو غیں آتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مگر شیرو کے لنڈ کو دیکھ کر اسے بہت پیار آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسی لیے جھک کر وہ لنڈ کو دو انچ منہ میں لے کر چومنے اور چاٹنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔

ایسا کرتے ہی شیرو کے جسم میں مزے کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی ریڑھ کی ھڈی تک اِس مزے سے کانپ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ،

شیرو خود کو ہوا میں اُڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ لنڈ چاٹتے چاٹتے بھی مزے میں شیرو کو تڑپتے دیکھ کر اور زیادہ مستی سے لنڈ کو چوس رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ پہلی بار لنڈ کو چاٹنے میں اتنا مزا محسوس کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

اں ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ مامی ی ی ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا جادو کر رہی ہو ۔ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ اف ف ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ شیرو کو اور تڑپانے کے لیے اس کے لنڈ کے چھید میں زبان گھسانے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ جس سے شیرو کا جسم لرز جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو جلدی سے مامی کے سر کے بال پکڑ کر اس کو اوپر کھینچتا ہے اور پلٹ کر اسے نیچے گرا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اب شیرو ماہرہ کی ٹانگوں کے درمیان تھا ۔ ۔ ۔ ،

ماہرہ کے جسم پر صرف براہ ہی بچہ تھا۔ ۔ ۔ جسے شیرو جوش میں کھینچ کر پھاڑ دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اس کے دودھ کو زور زور سے دبانے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

مموں کو دباتے ہوئے وہ پھر سے ماہرہ کے ہونٹوں کو چُوسنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ اور ماہرہ بھی اس کا برابر جواب دیتی ہے ۔ ۔ ۔

دو تین منٹ ممے دبانے کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ شیرو جلدی سے لنڈ کو چوت کے نشانے پر رکھا کر دھکا مار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جس سے لنڈ آدھا اندر گھس جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ماہرہ کے منہ سے چیخ نکل جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماضی میں ماہرہ کی پھدی ایک ہی بار شیرو کے لنڈ سے چودی تھی ۔ ۔ ۔ اِس لیے ابھی وہ لنڈ کے حساب سے کھلی نہیں تھی ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ ۔ م م م ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ مار ڈالا ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ دھیرے کرو ۔ ۔ ۔ آں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کو ماہرہ کی چیخ سن کر اور زیادہ جوش آتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اور وہ لنڈ کو تھوڑا باہر کھینچ کر ایک اور دامدار جھٹکا مار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ ۔ م م م ۔ ۔ باہر نکالو ۔ ۔ ۔ اں ۔ ۔ ۔ مر گئی ۔ ۔ ۔ اوئی ماں ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کا لنڈ جڑ تک چوت میں پھنسا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی شنکجے میں لنڈ کو جکڑ دیا ہو کسی نے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ سے بھی شیرو کے جھٹکے برداشت نہیں ہو رہے تھے اس کی چوت کھیرے کی طرح چِیر کر رکھ دی تھی شیرو کے لنڈ نے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آں ۔ ۔ کوئی ایسے کرتا ہے کیا ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ماں مار ہی ڈالو گے گیا ۔ ۔ ۔ اوئی ماں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو کو بھی اب احساس ہوا کہ ۔ ۔ ۔ اس نے جوش میں کچھ زیادہ ہی زور لگا دیا ۔ ۔ ۔ ،

پھر وہ ماہرہ کے دودھ دبانے لگتا ہے اور اس کے ہونٹوں کو چُوسنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

چند لمحوں بعد ماہرہ کو کچھ آرام ملتا ہے ۔ ۔ ۔ اب وہ بھی اپنی کمر کو ہلاتی ہے تو شیرو بھی دھیرے دھیرے لنڈ ہلانے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

اب کرو اور دھکے لگاؤ ۔ ۔ ۔

شیرو مامی کا سگنل ملتے ہی دھکے دینے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اور ماہرہ مستی میں سیسکارنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

ہم م م م ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ اور تیز ۔ ۔ آہ ۔ ۔ اور تیز کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو اپنی رفتار اور تیز کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دهاپ دهاپ ۔ ۔ ٹھپ ٹھپ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آں ۔ ۔ ۔ م م م ۔ ۔ آ ۔ ۔ اور تیز میرے راجہ ۔ ۔ ۔ م م م ۔ ۔ ۔ اور زور سے کرو ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ چودو مجھے ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ۔ ۔ ۔ ایسے ہی کرو ۔ ۔ ۔ ۔ اوئی ۔ ۔ ماں ۔ ۔ ۔ پھاڑ ڈالو میری چوت کو ۔ ۔ ۔ بنا دو مجھے اپنی داسی ۔ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ س س ۔ ۔ ۔ اوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایسی آوازوں سے کمرا گونج رہا تھا ۔ ۔ ۔

چند لمحوں کی دامدار چدائی میں ہی ماہرہ کی چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شیرو ابھی بھی پورے جوش میں لگا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

چند لمحوں میں ہی ماہرہ پھر سے گرم ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اور شیرو کو پلٹا دیتی ہے ۔ ۔ ۔ اب شیرو لیٹا ہوا تھا اور ماہرہ گھٹنوں پر شیرو کے لنڈ کی سواری کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو نے چدائی کا یہ دوسرا نیا طریقہ دیکھا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

جو اسے بہت مزیدار لگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ کے اچھلنے سے اس کے دودھ غباروں کی طرح اُچھال رہے تھے ۔ ۔ ۔ جسے شیرو ہاتھوں میں تھام کر مسلنے لگا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

آہ ۔ ۔ س س ۔ ۔ م م م ۔ ۔ ۔ تم مجھے پہلے کیوں نہیں ملے ۔ ۔ ۔ آہ میرے راجہ۔ ۔ ایسے ہی ۔ ۔ ۔ مجھے روز چودنا ۔ ۔ ۔ ایسے ہی ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ اں ۔ ۔ م م م ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔

میں آج سے تیری غلام ہوں مجھے اب خود سے دور مت کرنا ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ مجھے اپنے بچوں کی ماں بنا دو ۔ ۔ ۔ ۔ اف ف ف ۔ ۔ س س ۔ ۔ ۔ بولو چودو گے نہ مجھے ایسے ہی روز ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔

شیرو :

ہاں مامی جی میں آپ کو روز ہی چودوں گا جب آپ کہے گی ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ تب چودوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

مجھے اپنے بچوں کی ماں بناو گے نہ ۔ ۔ ۔ بولو بناو گے نہ ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔

شیرو :

ہاں میں آپ کو ماں بناوں گا اپنے بچوں کی ماں بناوں گا ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔ اں ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

تم ایسے ہی میری چدائی کرتے رہنا تم جب کہو گے ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ میں تمھارے آگے ننگی ہو کر چُدواؤں گی ۔ ۔ ۔ جہاں بولو گے ۔ ۔ آں ۔ ۔ ۔ وہاں چُدواؤں گی ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔

شیرو :

مامی جی میرا ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ آں ۔ ۔ س س س ۔ ۔

شیرو جلدی سے ماہرہ کو پلٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اور ماہرہ کی ٹانگوں کو اس کے پیٹ پر دبا کر زوردار دھکے مارنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

شیرو :

آں ۔ ۔ میں آ رہا ہوں ۔ ۔ مامی ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ۔

ماہرہ :

میں بھی آ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ س س س ۔ ۔ ۔ اں ۔ ۔ ۔ اور تیز ۔ ۔ ہم م ۔ ۔ ۔ میرے اندر ہی چھوڑ دو اپنا انمول پانی ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ ہم م م ۔ ۔ ۔ ۔

اور شیرو جھٹکے لیتا ہوا اپنا پانی ماہرہ کی بچہ دانی میں چھوڑ دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔

اپنی چوت میں شیرو کے لنڈ سے نکلی منی کو محسوس کرتے ہی ماہرہ پھر سے ڈسچارج ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

دونوں کا جسم پسینے میں بھیگ گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

دامدار چدائی کے بعد دونوں ایک دوسرے کو ایسے ہی گلے لگائے سانسیں ٹھیک کرنے لگتے ہیں ۔ ۔ ۔

تھوڑی دیر بعد ماہرہ شیرو کو سائڈ میں کر دیتی ہے ۔ ۔ ۔ اور خود باتھ روم چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

آدھے گھنٹے بعد خود کو فریش کر کے جب وہ واپس آتی ہے تو دیکھتی ہے کہ شیرو سو گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔

تب وہ اپنے کپڑے پہن کر چپکے سے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور جا کر نیند کی حَسِین وادیوں میں کھو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

romantic urdu bold novels

new urdu bold novels

urdu bold novels list

most romantic and bold urdu novels list

husband wife bold urdu novels

bold romantic urdu novels kitab nagri

hot and bold urdu novels pdf

most romantic and bold urdu novels

most romantic and bold urdu novels list pdf 

No comments:

Post a Comment

Thanks