میری موج لگ گئی

 


میری موج لگ گئی
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں انیس سال کا تھا ابّو دبئی میں نوکری کرتے تھے ابّو انجینیر ہیں گھر میں صرف میں اور امی رهتے تھے امی کا نام فیروزہ ہے وہ ایک دم مست چیز ہیں ان کی فگر 32-30-36ہے ان کی عمر اس وقت 40 سال تھی ھمارے گھر میرے ابّو کے ایک دوست اکرم انکل کا بہت آنا جانا تھا وہ اکثر امی کو شاپنگ وغیرہ لے جاتے تھی اکثر میں بھی ساتھ ہوتا تھا لیکن میں نے کبھی نوٹ نہیں کیا تھا ان کی دوستی کو لیکن جب جوان ہوا تو مجھے خیال آتا کہ ان کی دوستی میں کچھ نہ کچھ ہے لیکن کبھی موقع نہیں ملا.لیکن ایک بات نوٹ کی کہ امی اکثر ان کو جسم دکھاتی تھیں ان کے سامنے دوپٹہ کوئی خاص نہیں لیتی تھیں اور انکل ان کے بوبز کو خاص نظروں سے دیکھتے تھے جو کہ مجھے برا لگتا تھا میں موقع کی تلاش میں تھا کہ کب انکو دیکھوں پھر قدرت مجھ پر مہربان ہو گئی ایک دن میں اپنے کمپوٹر پر چیٹ کرہا تھا کرہا تھا کہ گھر کے ٹیلیفون پر ایک کال آئی میں اٹھ کر جانے والا تھا کہ امی نے فون اٹھایا میں جب قریب پہونچا تو امی نے بولا کہ انکا فون ہے میں واپس اپنے کمرے میں گیا لیکن دروازے پر پہنچا تو امی نے بولا یار بہت ترسا رہے ہو پندرہ دن ہوگئےہیں تم سے ملے ہوتے اتوار کو آجاؤ جاوید کرکٹ کھیلنے جاتا ہے تم آجانا میں سمجھ گیا کہ انکل ہے پھر میں نے امی کو دیکھا تو وہ ایک دم سرخ ہورہی تھیں پھر انہوں نے فون بند کردیا پھر وہ کچن چلی گئی میں کچھ دیربعد کچن گیا تو پوچھا امی کس کا فون تھا تو انہوں نے بولا فریدہ کا تھا فریدہ امی کی دوست تھیں اور انکا بیٹا میرا کلاس فیلو تھا لیکن سی ایل ائی پر دیکھا تو انکل کے گھر کا نمبر تھا میں سمجھ گیا کہ اتوار کو میری امی چد یں گی اتوار میں دو دن تھے میں خوش بھی تھا اور افسردہ بھی خوش اس لئے تھا کہ مجھے امی کا جسم دیکھنے کو مل رہاتھا اور افسردہ اس لئے کہ وہ ابّو سے بیوفائی کرہی تھیں خیر اتوار کا دن آیا تو صبح سے ہی امی بہت خوش نظر آرہی تھیں انہوں نے مجھے ناشتہ دیا آج میں امی کو ایک الگ ہی انداز میں دیکھ رہا تھا میں نے امی سے پوچھا امی آج بہت خوش نظر آرہی ہو تو انہوں نے بولا ایسے ہی میں نے دل میں کہا ہاں امی آج آپکی ٹانگیں جو اٹھیں گی پھر ناشتے کے بعد انہوں نے پوچھا آج کیا کرو گے دن میں. میں نے کہا امی آج اتوار ہے آج ایک خاص میچ ہے شام کو آؤں گا امی نے کہا ٹھیک ہے میں نہانے جا رہی ہوں تم جاتے ہوۓدروازہ لاک کرتے جانا میں نے بولا ٹھیک ہے ان کے واشروم میں جانے کے 5 منٹ بعد میں نے دروازے کو زور سے لاک کیا اور اپنے روم میں دبے پاؤں داخل ہوا اور روم کو لاک کیا اور چھپ کر بیٹھ گیا امی 15 منٹ بعد باہر نکلی انہوں نے فون اٹھایا اور کال کی اور بولی جانو آجاؤ نا جاوید چلا گیا ہے پھر انہوں نے فون رکھ دیا آدھے گھنٹے بعد ڈور بیل بجی امی باہر نکلی اور دروازہ کھولا اور انکل کے گلے لگیں اور بولی جان میں تڑپتی رہتی ہوں آپ کے لئے اور تم کو کوئی فکر ہی نہیں ہے کیوں کرتے ہو ایسا یہ کہتے ہوی امی انکل کو ڈراینگ روم میں لے آئین ڈرائنگ روم میرے کمرے کے بلکل سامنے ہے میں کھڑکی سے چھپ کر دیکھ رہا تھا انکل صوفے پر بیٹھے اور امی اس کی گود میں بیٹھ گئیں اور دونوں نے فرنچ کس شروع کی پھر امی نے بولا چاے بناؤں آپ کے لئے اس نے بولا جانم تم زہر بھی دو تو کس کافر کو انکار ہے امی ہنس دی اور بولی بہت مسکے باز ہو امی کچن گئی پانچ منٹ میں دو کپ لی آئی اور ایک کپ ان کو دیا اور پوچھا کہاں تھے اتنے دن اس نے بولا مصروف تھا جان ورنہ تم بن کہاں وقت گزرتا ہے اس نے کہا جان تم کیسی ہو امی نے بولا تم کو یاد کرہی تھے انکل بولے چوت کا حال بتاؤ امی بولی فل گرم ہے یار انکل نے امی کی چھاتی کو دبایا تو امی کے منہ سے سسکاری نکل گئی.
میں نے اپنے ڈیجٹل کیمرے کو آن کیا اور ان کی فوٹو لینے کے لئے تیار ہوگیا امی بولی جان چاۓ تو پی لو میں کونسا بھاگی جارہی ہوں پھر اس نے بولا جانم میں نے بہت عورتوں کو چودا ہے لیکن تم لاجواب ہو کاش تم میری بیوی ہوتی تو روز چودتا تم کو امی بولی جھوٹ مت بولو اتنا خیال ہوتا تو اس طرح مجھے ترساتے وہ بولا آئندہ نہیں ہوگا ایسا پھر اس نے امی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئے اور امی پر لیٹ گیا امی کا ایک ہاتھ اسکی کمر پر اور دوسرا اس کے بالوں پر تھا اور انکل نے ایک ہاتھ امی کی چھاتی پر رکھا اور دوسرا امی کی ٹانگ پر پھیر رہا تھا امی کی دونو ٹانگیں کھلی تھیں انکل نے انکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور زور سے چھاتی دبانے لگا امی کی سسکاریوں سے روم گونج رہا تھا پھر ان کے ہونٹ الگ ہوے اور اس نے امی کی قمیض اتاری واؤ امی کی سفید چھاتیاں برا سے نکلنے کو بیتاب تھیں اب انکل صوفے پر ٹھیک سے بیٹھ گۓ اور امی ٹانگیں کھول کر انکی گود میں بیٹھ گئیں انکل نے امی کی گردن کو چاٹنا شروع کیا میں فوٹو لے رہا تھا پھیر انکل نے امی کی برا کو کھول دیا میرے تو ہوش اڑگئے امی کے گول گول چھاتیاں آزاد ہوگی تھیں انکل نے انکو منہ میں لیا اور دیوانہ وار چوسنے لگے امی نے دونوں ہاتوں سے اس کے سر کو پکڑا ہوا تھا ان کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں آہ آہ چوسسسسو ہوی آ آ آ آ ہ پھیر انکل نے انکی شلوار میں ہاتھ ڈال دیا سمجھو امی کو کسی بچھو نے ڈنک مار دیا ہو ایک دم اچھلی انکل نے ان کو نیچے لٹایا اور ان کی شلوار کا ناڑا کھولا اور امی کی شلوار اتاردی امی نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا پھر اسنے امی کی ٹانگوں کے بچ میں اپناسر دیا اور امی کی چوت چاٹنے لگا امی سرور اور مستی میں تھیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتیوں کو دبا رہی تھے پھر انکل اٹھے اور امی کو بولا اتار میرے کپڑے امی اٹھیں اور انکل کی قمیض کو اتارا پھر انکی بنیان بھی اتری انکل کا لنڈ کافی ہارڈ نظر آرہا تھا پھر امی نے ان کا ناڑا کھنچا اور انکی شلوار اتر گئی انکا کالا لمبا لنڈ ایک سانپ کی طرح نکل آیا امی نے ایک دم ہی اسکو اپنے گلابی ہونٹوں سے چوما پھر منہ میں لے لیا ان کا لنڈ پورا منہ میں نہیں جارہا تھا امی اسکو خوب چوس رہی تھیں میرے لئے امی کا یہ رنگ پہلی بار کھلا تھا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امی اسطرح بھی کرسکتی ہیں میرا لنڈ بھی فل ہارڈ تھا پھر امی ایک دم صوفے پرلیٹ گئیں اور ٹانگیں کھول کر بولی اب چودو مجھے اور برداشت نہیں ہوتا امی کی چوت ایک سرخ گلاب کی طرح لگ رہی تھی ان کی چھاتیاں تنی ہوئی تھیں انکل نے بھی انکی چوت پر لنڈ گھسیڑ دیا امی کی زور سے سسکاری نکلی ووئی ماں صاف لگ رہا تھا کہ اس لنڈ اور چوت کی پرانی شناسائی ہے انکل کا لنڈ زور زور سے چوت کو چود رہا تھا امی نے اپنی ٹانگوں کو انکل کی کمر سے لپیٹا ہوا تھا اور بول رہی تھیں جان پھاڑدو مجھے میں صرف تیری ہوں اور زور لگاؤ آ آ آ ہ میں تیری رکھیل ہوں تونے مجھے اپنی رنڈی بنالیا میں کتنے سالوں سے تیرے لنڈ کی دیوانی ہوں مجھ کو شوہر نے اتنا نہیں چوداجتنا تم نے اور زور سے اور زور سے آ ہ اہ اہ اوہ وئی ماں انکل نے کہا تو کیا تیری بہن بھی تو میری رنڈی رہ چکی ہے انکل امی کے بوبز کو زور سے دباتے ہوے بول رہا تھا یاد نہیں جب دونوں کو کئی بار ایک ساتھ چودا ہے پھر انکل نے امی کو گھوڑی بنایا اور انکی گلابی چوت کو پھر سے چودنے لگے انکل اور امی کی گانڈ میری طرف تھی انکل زور زور سے جھٹکے دے رہے تھے امی بولی تیز کرو سپیڈ میں چھوٹنے والی ہوں انکل بولے صبر کرو ایک ساتھ فارغ ہوتے ہیں آااہ وووووو اور پھر دونو ایک ساتھ فارغ هوے انکل نے ساری منی امی کی گانڈ پر نکالی تو امی نے ہاتھ بڑھا کر ان کی منی کو جمع کیا اور چاٹنے لگی پھر ان کے سکڑتے لنڈ کو منہ میں لیا یہاں مٹھہ کی وجہ سے میں بھی فارغ ہوا امی اور انکل وہیں زمین پر لیٹ گۓ امی کی چوت پھولی ہوئی تھی پھر کچھ دیربعد امی نے انکل کے لنڈ کو ہاتھ میں لیا اور سہلانے لگی انکل بولے صبر جان کچھ کھلا دو بھوک لگی ہے امی بولی ابھی لائی جان پھر امی پراٹھا اور چاۓ لائی اس کے لئے اور دونوں نے مل کر کھایا پھر انکل نے امی کو بولا اپنی بہن کو بلاؤ کسی دن بہت یاد آرہی ہے اسکو گانڈ مروانا بہت پسند ہے تو امی بولی جن گانڈ میری مارلو میری گانڈ بھی تو مست ہے انکل بولے سالی تو تو ساری کی ساری مست ہے پھر انکل بولے ایک بار اور چودوں تجھے امی بولی ہاں انکل بولے اب گانڈ میں امی بولی جو دل کرے وہ کر یہ کھتے ہوی امی اس سے لپٹ گئیں اس نے بولا چل چوس میرا لنڈ امی نی اسکو ایک ادا سے دھکا دیا اور جھک کر انکل کے لنڈ کو منہ میں لیا انکل لیٹے ہوی تھے اور امی کی گانڈ اور چوت بلکل میرے سامنے تھی اگر میں کھڑکی کھول کر ہاتھ بڑھاتا تو امی کو چھو سکتا پھر انکل بولے اب تم اوپر آجاؤ اپنی گانڈ کو خود چدواؤ میرے لنڈ سے امی چڑھ گئی اور اسکے لنڈ کے ٹوپے کو اپنی گانڈ کے سوراخ پر فٹ کیا اور آہستہ آہستہ اپنی گانڈ میں لینے لگی لیکن نیچے سے انکل نے زور دار جھٹکا دے کر پورا لنڈ اندر کر دیا امی چیخ اٹھن آہ آہ آہ آہستہ سے یار درد ہوتا ہے انکل بولے چپ بہن چود جیسے پہلی بار لے رہی ہو میں مووی بنا رہا تھا انکل نیچے سے فل طاقت سے گانڈ مار رہے تھے امی بھی ان کا پورا ساتھ دے رہی تھیں انکل بولے اگر تیری بیٹی ہوتی تو کیا مزہ ہوتا تینوں کو ایک ساتھ چودتا امی نے پوچھا کس کس کو انکل بولے تجھے تیری بہن کو اور بیٹی کو امی بولی اب چوت میں ڈالوں گانڈ دکھہ رہی ہے انکل بولے نہیں تجھ کو گانڈو بنایا اس لئے کے تو مجھے ہر آرام دے امی کو 6 /7 منٹ تک چودننے کے بعد انکل بولے میں فارغ ہونے والا ہوں تو امی نے بولا اندر ہی ہوجاؤ پھر ایک دم انکل کا جسم سخت ہونے لگا موم نے بھی سپیڈ تیز کردی پھر انکل بولے اوہ جان میرا کام تمام کرلیا تم نے پھر انہوں نے امی کی گانڈ سے اپنا لنڈ نکالا اور امی کی گانڈ کھل کر پھٹنے جیسی ہوگئی تھے امی ان پر لیٹ گئی ایک بار پھر ان کی خوبصورت گانڈ اور چوت میرے سامنے تھے پھر انہوں نی کسنگ کی پھر انکل اٹھے اور بولے مجھے جانا ہے اگلی اتوارکو پھر آؤں گا امی نے انکے کپڑے پہنانے امی ننگی ہی تھیں اور ان کو ننگی ہی دروازے تک چھوڑنے گئی پھر ڈراینگ روم میں آئیاور صوفے پر ننگی بیٹھی ان کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ تھی سمجھو کوئی خزانہ مل گیا ہو پھر انہوں نے اپنے کپڑے اٹھاۓ اور اپنے کمرے میں چلی گئیں میں نے اپنے کیمرےکو چھپایا اور اطمینان کرلیا کہ امی باتھ روم چلی گئی ہیں تو چپکے سے نکل آیا گھر سے پھر شام کو گھر گیا امی نے مجھے وش کیا اور ہمیشہ کی طرح گلے لگایا آج ان کے گلے لگ کر مجھے عجیب سا محسوس ہوا ان کی چھاتیاںمیرے سینے سے لگی تھیں اور جی چاہا کے ان سے کھیلوں پھر میں اپنے کمرے میں گیا اور کیمرے سے میموری نکالی اور کمپیوٹر میں آج کی ساری کارستانی ڈال دی پھر میں نہانے چلا گیا نہانے کے بعد میں نے اور امی نے تو دیکھا 10 بجے تک ہم نے ایک انڈین فلم دیکھی لیکن میری نظر بار بار امی کے جسم پر جاتی جسکو آج انکل نے حاصل کیا تھا پھر ہم نے کھانا کھایا خانے کے بعد ہم پھر سے تو دیکھنے لگے 11 بجے امی نے کہا میں سونے جارہی ہوں میں نے اپنی ساری ہمت کو یکجا کیا اور بولا امی ایک منٹ پھر میں اٹھا اور بولا امی آئی لو یو یہ کہتے ہوی میں نے امی کو پیچھے سے آکر اپنی بانہوں میں پکڑ لیا اور انکی گردن پر چومنے لگا تو امی بولی کیا کرہے ہو بیٹا یہ کیا ہے میں نے انکے بوبز کو ہاتھ میں لیا اور بولا امی تم بہت سکسی ہو میرا لنڈ ان کی گانڈ سے لگا ہوا تھا اور وہ اپنے آپ کو چھڑانے میں لگی ہوئی تھیں اچانک اس نے خود کو چھڑا لیا اور ایک تھپڑ مجھے مارااور بولی یہ کیا کمینی حرکت ہے میں نے بولا جو آپ نے آج کیا ہے کیا وہ ٹھیک تھا وہ بولی کیا کیا میں نے بولو میں نے بولا اکرم انکل سے تم نے نہیں چدوایا بولو. انہوں نے بولا یہ بکواس بند کرو میں ایسی نہیں ہوں اکرم صرف میرا دوست ہے میں نے بولا آپکو ثبوت دیکوں آپکی پاک دوستی کا انہوں نے بولا دکھاؤ میں نے انکا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گیا اور ان کو کرسی پر بٹھایا خود کھڑارہا کمپوٹر پر ان کو سب دکھایا امی یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئی میں نے بولا امی کیا یہ تم نہیں ہو یہ کہتے ہوے میں نے ان کے گلے میں ہاتھ ڈال دیا اور ان کی چھاتی کو پکڑ لیا انہوں نے کچھ نہیں کہا پھر میں بولا یہ میں اب ابّو کو میل کروں گا امی بولی پلیز ایسا مت کرنا میں بدنام ہوجاؤں گی برباد ھوجاؤں گی تم کیا چاہتے ہو میں نے بولا تم سے چدائی امی بولی تم میرے بیٹے ہو یہ ناممکن ہے کسی اور کا بولو میں تم کو اس سے ملا دوں گی پھر اس نے کہا میں تمہارے سامنے ننگی ہوجایا کروں گی لیکن سیکس نہیں کروں گی تم جسکا بھولو گے مجھ کو منظور ہوگا فرمیں امی کو بولا فریدہ آنٹی سے ملاؤ اور خالہ سے تو امی نے کہا فریدہ تو ٹھیک ہے خالہ ایسی نہیں تو میں نے بولا انکل سے تو اس نے بھی چدائی کی ہے امی نے بولا ہاں مجھ کو منظور ہے پھر میں ننگا ہوا اور امی کو بھی ننگا کیا اور ان سے چوپا لگوایا پھر امی سے پوچھا کے اس نے کس کس چدوایا ہے انہوں نے سب کا بتایا اگلے دن فریدہ آنٹی میری بانہوں میں تھی پھر تو میری موج لگ گئی

دل تو میرا بھی تھا

 

دل تو میرا بھی تھا

آج سے 7 سال پہلے کی بات ہے کہ میں رات کو سوئی ہوئی تھی اور ہمارے پی ٹی سی ایل فون پر رات 2 بجے بیل بجی میں نے نیند میں فون اٹھایا اور میں نے ہیلو کیا تو دوسری طرف سے کوئی آواز نہیں آئی میں سمجھی شاید یاسر کے ابو کا فون ہے سعودی عرب سے اور میں نے پوچھا کون ہے تو آواز آئی آئس کریم کھاؤ گئ؟

میں نے فون بند کر دیا اور سو گی۔

اگلی رات پھر 1 بجے فون کی گھنٹی بھی اور میں نے فون اٹھایا اور ہیلو کیا اور پوچھا کون ہو

تو پھر وہ شخص بولا میری آئسکریم کھاؤ گی میں نے غصے سے کہا بیغیرت اپنی ماں بہن کو کھلا اور فون بند کر کہ سو گئ۔

اب اس شخص کی روٹین بن چکی تھی اور روز رات فون کرتا اور یہی بات کہتا آئسکریم کھاؤ گی اور بہت دھیرے اور سیکسی طریقہ سے وہ آفر کرتا تھا اور میں روز رات اسکو گالی دے کر فون بند کر دیتی تھی۔ کافی ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک رات اس نے جب اس نے کال کی تو میں نے پوچھا کون ہو تم اور مجھے کیسے جانتے ہو اور کیا چاہتے ہو۔

تو وہ شخص بولا نسرین تجھے اپنی 8 انچ کی آئسکریم کھلانی ہے

میں اسکے منہ سے اپنا نام سن کر چونک گی اور حیران تھی یہ مجھے کیسے جانتا ہے میں نے پوچھا کون ہو تم اور کیوں پریشان کر رہے ہو

تو وہ بولا نسرین جان سب بتا دوں گا پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے بس تجھے اپنی آئسکریم کھلانی ہے بہت دل کرتا ہے تیری پھدی چودنے کا، جب سے دیکھا ہے تجھے میرا لن بہت گرم ہے اور تیرا شوہر بھی ملک سے باہر ہوتا ہے تجھے لن کی اشد ضرورت ہوتی ہو گئی کیوں نا میں تیری پھدی چودا کروں اور دونوں مزا کریں گئے۔

اسکی فون پر باتیں سن کر میری پھدی گیلی ہونے لگی مگر میں نے اسکو کہا میں تمہیں نہیں جانتی مجھے تنگ مت کرو

وہ پھر سے بولا نسرین آئسکریم کھا لو مزا آئے گا تمہیں میں نے نا بول کر فون بند کر دیا اور پھدی میں فنگرنگ کر کہ سو گی۔

اگلی رات 1 بجے پھر اسکی کال آئی اور میرے ہیلو کرتے اس نے وہی بات دہرائی نسرین آئسکریم کھاؤ گئ میں نے کہا جب تم سچ سچ بتاؤ گئے تو میں تمہاری آئسکریم کھاؤ گئ

اس نے کہا ٹھیک ہے اور پھر اس نے کہا میں تمہارے محلے میں ہی رہتا ہوں اور میرا نام سجاد ہے میں نے بہت مشکل سے نمبر لیا ہے اور صاف بات یہ ہے کہ میں تیری پھدی چودنا چاہتا ہوں

سجاد کے منہ سے اپنی پھدی کا نام سن کر میں گرم ہو گئی اور بولی کیوں میری پھدی میں ایسا کیا ہے جو میری پھدی چودنا چاہتے ہو

سجاد :- نسرین تیری چوت گھویلو چوت ہے تیرا شوہر باہر ہے تیری چوت چودنے اور کسی دوسرے کی بیوی کی چوت چودنے کا اپنا ہی مزا ہے۔

سجاد نے اس رات مجھے گرم کر کہ فون سیکس کروایا اور میری پھدی میں دو بار فنگرنگ بھی کروائی اور پھر ہم سو گئے۔

اگلی رات سجاد کا فون آیا اور بولا نسرین صبح مل میں تیری پھدی چودنا چاہتا ہوں اور سجاد نے صبح 7 بجے مجھے فیض آباد ملنے کو کہا اور میں نے کہا ٹھیک ہے میں آؤں گی۔

اگلی صبح میں یاسر کے کالج جاتے ہی فیض آباد پہنچ گئ اور بس اسٹاپ پر انتظار کرنے لگی کچھ ہی دیر میں ایک کار میرے پاس رکی اور اس بیٹھے شخص نے مجھے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں کار کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئ۔

سلام علیکم جی میرا نام سجاد ہے کیسی ہو نسرین

میں نے کہا ٹھیک ہوں میں نے کبھی آپکو دیکھا نہیں ہے محلے میں

سجاد:- میں کچھ ماہ پہلے کرائے پر شفٹ ہوا ہوں اور نسرین تمہاری پھدی پر گرم ہو گیا ہوں

میں سجاد کے منہ سے اپنی پھدی اور اپنا نام سن کر گرم ہو رہی تھی سجاد 50 سالا مرد تھا جو اونچے قد آور جان والا شخص تھا۔

سجاد :- جب تمہارے جیسی گرم بیویاں شوہر چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں تو انکی بیویوں کو لوگ چود کر مزا دیتے ہیں جیسے آج نسرین تیری چوت چدے گی۔

میں نے کہا سجاد تم نے میری پھدی گرم اور گیلی کر دی تھی روز روز فون کر کہ اس لیے چدوانے چلی آئی ہوں۔

سجاد مسلسل بیس منٹ سے گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی اسلام آباد آئی نائن کے ایک فلیٹ کے سامنے رکا اور مجھے بولا چل نسرین اتر اس فلیٹ میں آج تیری چوت چدے گی۔

میں اتری اور سجاد کے پیچھے چلتی ہوئی اس فلیٹ کے دروازے پر پہنچی اور سجاد نے چابی سے دروازہ کھولا اور ہم دونوں فلیٹ میں داخل ہو گئے۔

سجاد نے فلیٹ کا دروازہ بند کیا اور مجھے ایک کمرے میں لے جاتے ہوئے سجاد نے میری ہپ پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا دبایا اور بولا ہائے تیرا بیچارا شوہر اسکی بیوی آج چدنے والی ہے۔ میں مسکرانے لگی

سجاد فوراً سے میرا برقعہ اتارنے لگا اور میں سجاد کا ساتھ دے رہی تھی۔ سجاد نے میرا ہاتھ پکڑ کر شلوار کے اوپر سے اپنے لن پر رکھ دیا اور کہا نسرین پکڑ میرا لن اور سجاد نے میری شلوار کا ناڑہ کھول دیا اور میری شلوار ایک دم سے نیچے گر گئی اور میں اب سجاد کے سامنے بس قمیض اور برا میں تھی اور سجاد کے 8 انچ کے لن سے کھیل رہی تھی۔

سجاد نے میری قمیض اتار دی اور میرا کالا رنگ کا برا بھی اتار دیا اب میں سجاد کے سامنے اپنے 36 سایز کے تنے ہوئے نپلز والے مموں کے ساتھ کھڑی تھی۔ میں نے سجاد کی شلوار کا ناڑہ کھول دیا اور سجاد کا انچ لمبا لن پھن پھلاتا ہوا ناگ کی طرح جھومنے لگا اور میں نے سختی سے سجاد کے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور سہلانے لگی۔

سجاد :- آئسکریم کھانی ہے؟

میں نے مسکرا کر کہا وہی تو کھانے آئی ہوں اور میں نے نیچے بیٹھ کر سجاد کے 8 انچ کے لن پر زبان پھیرتے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا

سجاد میرے منہ پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور میں سجاد کا لن زور زور سے چوس رہی تھی اف کیا مزے کا لن تھا سجاد کا ممممممم میں سجاد کے لن کے ٹوپے پر زبان پھیررہی تھی اور لن سے نکلنے والی مزی کو چاٹ رہی تھی۔ سجاد بیڈ پر بیٹھ گیا اور فرش پر بیٹھ کر سجاد کا لن چوسنے لگی۔ کچھ دیر لن چوسنے کے بعد سجاد کے لن سے منی کی پچکاریاں نکل کر میرے گلے تک جانے لگی اور میں سجاد کے لن کی ساری منی کھا گئ اور لن چوس کر صاف کر دیا۔

اب سجاد اٹھا اور مجھے لے کر بیڈ پر لیٹ گیا اور میرے اوپر چڑھ کر لیٹ کر میرے ہونٹ چوسنے لگا اور ساتھ ساتھ میرے ممے دبانے لگا۔ سجاد میرے یونٹ کو اور زبان کو چوس رہا تھا اور ساتھ میں میرے ممے دبا رہا تھا۔ میری پھدی میں آگ لگی ہوئی تھی۔

سجاد نے میرے ممے زور زور سے چوسنا شروع کر دیے اور میں مزے سے اونچی اونچی سسکیاں لینے لگی سجاد میرے مموں اور گردن پر دانتوں سے کاٹ رہا تھا جس سے مجھے مزید نشہ چڑھ رہا تھا۔ سجاد کی کسنگ سے میری چوت دو بار فارغ ہو چکی تھی۔ سجاد نے اب میری ٹانگیں کھول دی اور میری بالوں سے پاک پھدی پر ہونٹ رکھ دیے اور میری پھدی میں زبان ڈال کر میری پھدی چاٹنے لگا۔

اف سجاد آہ کھا جا میری پھدی کو میں سجاد کا سر اپنی چوت میں دبا رہی تھی اور سجاد کو کہہ رہی تھی زور زور سے چوت چاٹ کھا جا میری چوت

سجاد :- نسرین تیری چوت نے میرے لن میں آگ لگائی ہوئی تھی آج بجھا دوں گا

میں نے کہا بجھا دو کس نے روکا ہے میری پھدی بھی لن مانگتی ہے

سجاد میری پھدی چاٹ رہا تھا کہ میری پھدی نے جھٹکے سے پانی چھوڑ دیا جو سجاد کے منہ میں نکلا اور سجاد میری پھدی کا نمکین گاڑھا پانی پی گیا۔

اب سجاد بولا نسرین تیری چوت چودوں

میں نے کہا ہاں بہت گرم ہوں چودو میری گرم پھدی اپنے دل کی خواہش پوری کرو جی بھر کر پھدی چودو

سجاد نے اپنا لن میری ٹانگوں کے درمیان میری پھدی کے سوراخ پر رکھا اور میری ٹانگیں کھول دی اور میری پھدی کے سوراخ پر اپنا 8 انچ کا لوڑا رکھ کر زور لگانے لگا تو سجاد کے لن کا ٹوپا میری پھدی میں گھس چکا تھا۔ میں نے لذت بھری سسکی لی آہ اور پھر سجاد کو کہا جان لن پورا دو نا میری پھدی میں

سجاد نے زور سے گھسا میری پھدی میں مارا اور جڑ تک لن میری پھدی میں اتار دیا اور میری ٹانگیں پکڑ کر کندھے پر رکھ دی اور میری پھدی چودنے لگا

میں بہت مزے میں تھی اور مزے سے چوت چدوا رہی تھی اور سجاد میری دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری پھدی چود رہا تھا۔

سجاد :- آف نسرین تیری گرم گرم پھدی آہ چد گئ

میں :- اہ میری چوت اف سجاد تیرا موٹا لمبا لن اہ چود

سجاد :- نسرین تو کس کی بیوی ہے

میں :- محمود کی بیوی ہوں

سجاد :- مجھ سے کیوں چدوا رہی ہے

میں :- میرا شوہر ملک سے باہر ہے اب تجھ سے پھدی چدوانے آیا کروں گی

سجاد :- محمود کی بیوی میرے لن کے نیچے آہ محمود آہ تیری بیوی کی گرم گرم پھدی چود رہا ہوں

میں نے کہا سجاد چود مجھے زور زور سے میری پھدی چود آہ

سجاد نے اب لن میری پھدی سے باہر نکال کر میرے منہ میں ڈال دیا اور میں لن چوسنے لگی

سجاد نے مجھے گھوڑی بننے کو کہا اور میں گھوڑی بن گئ اور سجاد نے میری پھدی کو زبان سے چاٹنا شروع کر دیا اور کچھ منٹ میں میری پھدی فارغ ہو گئ لیکن سجاد میری پھدی مسلسل چاٹ رہا تھا۔

اب سجاد نے اپنا 8 انچ لمبا لن میری پھدی کے سوراخ پر رکھ کر زور سے گھسا مارا اور لن پورا میری پھدی میں گھسا دیا اور میری کمر سے پکڑ کر میری پھدی چودنے لگا۔ میں مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور سجاد کا لن مجھے مزے سے پاگل کر رہا تھا۔ اب سجاد نے زور زور سے میری پھدی چودنا شروع کر دی شاید سجاد کی منی نکلنے والی تھی سجاد مجھے بولا نسرین منی کہاں نکالوں

میں نے کہا سجاد میری پھدی میں منی نکال دے مجھے تیری منی کا مزا لینا ہے سجاد نے اور زور زور سے میری پھدی میں جھٹکے مارنے شروع کر دئے اور پھر مجھے اپنی پھدی کے اندر سجاد کی گرم گرم منی گرتی ہوئی محسوس ہونے لگی اور میں نے پھدی ٹائٹ کر لی اور سجاد کے لن کو اپنی پھدی سے جکڑ لیا اور سجاد نے منی کا آخری قطرہ نکلنے تک میری پھدی میں لن رکھا اور پھر سجاد نے لن نکال کر میرے منہ میں دے دیا اور میں نے سجاد کے لن کو چوسنا شروع کر دیا اور لن چوس کر لن پر لگا اپنی پھدی کا سارا پانی چوس کر چاٹ گی۔

میں نے سجاد سے پوچھا سجاد میری پھدی چود کر مزا آیا؟

سجاد بولا نسرین بہت زیادہ مزا تیری چوت نے دیا ہے۔ میں نے کہا سجاد تم جب مرضی میری پھدی چود سکتے ہو مجھے بھی لن چاہیے اور میرا شوہر دو دو سال بعد آتا ہے اور میری پھدی پیاسی رہ جاتی ہے۔

سجاد بولا نسرین تیری پھدی کی پیاس اب میں بجھاوں گا تیری پھدی کو سکون دینا اب میری ذمہ داری ہے۔

سجاد نے کہا چل نسرین تجھے گھر چھوڑ دوں

میں نے کہا نہیں مجھے ابھی تجھ سے دو بار مزید چوت مروانی ہے

سجاد مسکراتے ہوئے بولا گشتی

میں نے کہا ہاں تیری گشتی ہوں آج سے تیرے لن کی غلامی کروں گی

اس کے بعد سجاد نے مجھے دو بار چودا اور دن دو بجے یاسر کے کالج گھر آنے سے پہلے مجھے سیٹلائیٹ ٹاؤن اتار دیا جب میں گھر لوٹی میری بچہ دانی سجاد کی منی سے بھری ہوئی تھی اور مجھے بہت سکون تھا اسکے بعد سجاد جب بلاتا میں اس سے چوت چدوا کر آتی اور کبھی کبھی سجاد کو اپنے گھر بلا کر پھدی چدواتی تھی۔ کافی سالوں تک سجاد میری پھدی چودتا رہا اور پھر وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کراچی شفٹ ہو گیا لیکن میری پھدی آج بھی سجاد کے لن کو یاد کر کہ آنسو بہاتی ہے۔

پہلے پیار کا پہلا درد

 



پہلے پیار کا پہلا درد
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کی طالبہ تھی میری عمر اس وقت 15 سال تھی۔ میری ماں ایک سرکاری سکول ٹیچر تھی اور ابو ڈاکٹر تھے باقی ہم سب بہن بھائی پڑھتے تھے۔

ایک دن مجھے ہلکا سا بخار تھا تو میں سکول نہیں گئ اور گھر پر اکیلی تھی کیونکہ ماں اور ابا اپنی اپنی نوکریوں پر چکے گئے اور بھائی اور باجی بھی سکول چلے گئے۔ میں گھر میں اکیلی تھی۔ صبح 9 بجے میں ناشتہ کر رہی تھی کہ دروازے کی بیل بجی میں نے دروازہ کھولا تو میری خالہ کا بیٹا عثمان دروازے پر موجود تھا۔ عثمان میری خالہ کا بیٹا تھا اور راولپنڈی میں رہتا تھا مگر کچھ دنوں سے گوجرانوالہ میں ہی رہ رہا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا تو عثمان اندر آگیا اور ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور میں نے عثمان کو چائے دی اور ہم ناشتے کے ساتھ ساتھ باتیں کرنے لگے۔

عثمان کی عمر 19 سال تھی اور وہ رنگ کا سانولا تھا اور کالج میں پڑھتا تھا۔ عثمان مجھے پسند کرتا تھا اور کافی بار اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔ میں بھی عثمان کو پسند کرتی تھی۔

اس دن عثمان نے جب دیکھا گھر میں کوئی موجود نہیں ہے تو عثمان نے مجھے کہا نورالعین مجھے تجھے آج کس کرنی ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے کر لو اور عثمان میرے قریب آگیا اور مجھے ہونٹوں اور گالوں پر کس کرنے لگا۔ میں نے کہا اچھا اب بس کرو اور مجھے برتن اٹھانے دو۔

عثمان بولا نور آج بہت وقت کے بعد موقع ملا ہے پلیز کسسنگ کرنے دو تو میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے کرو

عثمان بولا ایسے نہیں اندر کمرے میں جاتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ عثمان میرے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ عثمان نے اندر جاتے ہی مجھے دیوار کے ساتھ لگایا اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور چوسنے لگا۔ مجھے اچھا لگ رہا تھا پھر عثمان نے مجھے کہا نورالعین اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دو اور میں نے اپنی زبان عثمان کے منہ میں ڈال دی اور عثمان میری زبان چوسنے کھا۔

مجھے عجیب سا نشہ آور مزا آریا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میری پھدی سے کچھ گیلا گیلا نکل رہا ہے اور میری پھدی میں جلن ہونے لگی۔ عثمان نے میرے ہونٹوں کو چوستے ہوئے میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور میں عثمان کو روکنے لگی تو عثمان نہ مانا اور میرے ممے جو اس وقت کافی چھوٹے تھے انکو دبانے لگا اور کبھی شلوار کے اوپر سے میری پھدی کو اپنے ہاتھ سے رگڑ رہا تھا۔

میں نے عثمان کو منع کیا مگر عثمان تو جیسے پاگل ہو چکا تھا اور مجھے زور زور سے چوم رہا تھا اور اسکی گرم سانسیں میرے اندر ہلچل پیدا کر رہی تھی۔

اب عثمان بولا نورالعین کپڑے اتارو جان میں بہت گرم ہو چکا ہوں تمہاری پھدی مارنی ہے ویسے بھی تمہاری شادی مجھ سے ہونی ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا تمہاری پھدی ابھی چودوں یا شادی کے بعد چودوں تم سے ہی شادی ہونی ہے۔

میں عثمان کو منع کرنا چاہتی تھی مگر عثمان کے دماغ میں میری پھدی سوار تھی اور وہ نہ مانا تو میں نے بھی ہار مان لی اور اپنی شلوار اتار دی پھر میری قمیض عثمان نے اتاری اور میں نے عثمان کی شرٹ اور پینٹ دونوں کو اتار دیا اب ہم دونوں ننگے تھے۔

عثمان میری خالہ کا بیٹا تھا اور ہم اکثر فون پر سیکس چیٹ کرتے تھے تو مجھے عثمان کے سامنے ننگا ہوتے کوئی شرم نہیں آئی اور میں نے عثمان کے لن کو پکڑ کر ہلانا شروع کر دیا اور عثمان سے بولی میرا ببلو کافی لمبا اور موٹا ہو گیا ہے عثمان کا لن کالا اور 7 لمبا انچ 3 موٹا تھا۔ عثمان بولا تمہاری چوت مانگتا ہے تو میں بولی شادی کے بعد تمہارے لن کو ٹھنڈا رکھوں گئ۔

اب عثمان نے مجھے ایک پورن ویڈیو دکھائی اور مجھے مزید گرمی چڑھ گئ۔ عثمان نے مجھے لن چوسنے کا کہا اور میں نے عثمان کے لن کو چوسنا شروع کر دیا اف عثمان کے لن کی مہک مجھے آج بھی پاگل کر دیتی ہے 15 سال کی عمر میں 7 انچ کا لن چوس رہی تھی جو کچھ دیر کے بعد میری پھدی پھاڑنے والا تھا۔

میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اور عثمان کھڑے ہو کر مجھے لن چسوا رہے تھا۔

اب عثمان نے مجھے بیڈ پر گرا دیا اور میری ٹانگیں کھول کر میری کومل پھدی کو دیکھنے لگا جس پر کافی بال تھے۔ عثمان نے میری پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا اور میں موبائل پر پورن دیکھتے ہوئے ڈبل مزا لینے لگی۔

عثمان میری پھدی کے سوراخ کو پورا منہ میں لے کر چوس رہا تھا اور کچھ دیر کے بعد میری پھدی نے پانی چھوڑ دیا جسے عثمان چاٹ کر پی گیا۔

اب عثمان میرے اوپر آیا اور میرے ممے چوسنے لگا اور میری چوت پھر سے مچلنے لگی اور عثمان نے میرے میری ٹانگیں کھول دی اور اپنا 7 انچ کا کالا لن میری چوت کے سوراخ پر رکھ دیا اور کہا نورالعین جان درد برداشت کرنا پڑے گا میں نے کہا ٹھیک ہے تم چود دو آج میری چوت ویسے بھی تم نے فون سیکس کر کر کہ میری چوت کو اپنے لیے پاگل کر دیا ہے۔

اب عثمان نے لن میری پھدی کے سوراخ پر رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا اور میری پھدی نے گرم ہو کر پانی چھوڑنا شروع کر دیا

عثمان :- اوہ نورالعین تیرا گورا گورا جسم اور تیری گرم گرم پھدی آہ

میں نے کہا اوہ عثمان تیرا کالا لمبا موٹا لن اور پیاسی ترسی پھدی آہ

پلیز ہر رات میری چوت میں لن ڈال کر سویا کرنا

عثمان بولا جان ہر رات تیری جم کر پھدی چودوں گا

اب عثمان نے میری پھدی کے سوراخ پر لن رکھ کر آگے کو دبایا اور میری پھدی میں عثمان کے لن کا موٹا ٹوپا گھس چکا تھا میری درد سے چیخ نکلی اور میں رونے لگی عثمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوسرا کس کر جھٹکا مارا اور عثمان کا آدھا لن میری پھدی کو چیرتا ہوا میری پھدی میں گھس گیا اب عثمان نے میرے ہونٹوں پر یونٹ رکھ دیے اور میرے یونٹ چوسنے لگا۔ میری پھدی میں شدید درد ہو رہا تھا اور عثمان کا لمبا موٹا لن مجھے لوہے کے راڈ کی طرح پھدی میں چبھ رہا تھا۔ عثمان نے اب دھیرے دھیرے پورا جڑ تک لن میری چوت میں گھسا دیا تھا اور مسلسل میرے ممے اور ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔

کچھ دیر کے بعد مجھے درد کم ہوا اور مجھے اپنی گرم پھدی میں عثمان کا لن اچھا لگنے لگا۔

عثمان بولا کیسا لگا مجھ سے پھدی چدوا کر تو میں بولی درد ہوا ہے لیکن مزا بھی آریا ہے۔

عثمان بولا اب درد نہیں ہو گا سب بس تمہاری پھدی کو سکون اور مزا ہی ملے گا۔ ساتھ ہی عثمان نے دھیرے دھیرے لن میری پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ عثمان میری پھدی چود رہا تھا اور میں مزے اور لذت بھری سسکیاں لے رہی تھی۔

اب عثمان نے میری ایک ٹانگ اٹھا دی اور میری پھدی چودنے لگا اف کیا سین تھا عثمان کا لن میں اپنی بچہ دانی میں محسوس کر رہی تھی۔ عثمان میری پھدی پر کس کر جھٹکے مار رہا تھا اور بول رہا تھا آف نورالعین تیری گرم چوت آج چود دی میں نے آہ کیا گرم چوت ہے۔

عثمان میری پھدی مسلسل بیس منٹ سے چود رہا تھا اور میری پھدی تین بار فارغ ہو چکی تھی مگر عثمان مسلسل چدائی کر رہا تھا۔ اچانک عثمان نے لن باہر نکال کر میرے پیٹ پر رکھ دیا اور ہلانے لگا عثمان کے لن سے سفید گاڑھا مادہ نکلنے لگا اور میرے پیٹ کو بھر دیا۔ میں نے پہلی بار کسی مرد کی منی نکلتے دیکھی تھی۔ عثمان بولا نور انگلی سے میرے لن کا مکھن لگا کر کھا کر چیک کرو میں نے انگلی سے عثمان کی منی کو لگایا اور منہ میں انگلی ڈالی تو مجھے منی کا ٹسیٹ اچھا لگا اور میں نے عثمان کی منی ساری انگلی سے چاٹ کر پیٹ صاف کر کہ کھا گئ۔

میں بستر سے اٹھی تو مجھ سے سہی چلا نہیں جا رہا تھا اور بستر کی چادر پر کافی خون کے دھبے تھے۔ میں نے چادر اٹھا کر واشنگ مشین میں ڈالی اور واش روم جا کر گرم پانی سے پھدی دھونے لگی۔

عثمان کپڑے پہن چکا تھا اور اب میں کپڑے پہن رہی تھی۔ عثمان بولا مزا آیا تو میں نے کہا بہت زیادہ مزا آیا اس کے بعد عثمان کو جب موقع ملتا تو میری پھدی چود دیا کرتا تھا۔

یہ میری پہلی چدائی تھی اس کے بعد مجھے پھدی چدوانے کا چسکا پڑ گیا اور میں عثمان کے علاوہ اپنے کالج کے پروفیسر سے بھی پھدی مروانے لگی۔ محلے کے دو لڑکوں بھی مجھے کافی سال تک چودتے رہے۔ عثمان سے شادی نہ ہو سکی اور میری شادی یاسر سے ہو گئی اور میں جب یاسر سے شادی کے بعد عثمان کے گھر دعوت پر گئ تو عثمان میرے شوہر کو دیکھ کر فخریہ مسکراتا تھا کہ وہ اسکی بیوی نورالعین اسکے لن کی رانی تھی۔ میری شادی کے بعد بھی عثمان نے مجھے کافی مرتبہ ہوٹل میں لے جا کر چودا ہے۔

 

پردے میں رہنے دو

 

پردے میں رہنے دو

میرا کزن عابد سعودی عرب میں کام کرتا ہے جبکہ اسکی بیوی لاہور میں شاہدرہ میں رہتی ہے۔کچھ ماہ پہلے کی بات ہےکہ ایک دن میں کسی کام سے لاہور گیا ہوا تھا تو سوچا عابد کے گھر شاہدرہ بھی چکر لگا لیتا ہوں۔ میں شاہدرہ گلیوں سے ہوگا ہوا عابد کے گھر پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ عابد کی بیوی نبیلہ نے کھولا اور وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دی اور میں گھر میں داخل ہو گیا۔

نبیلہ کی عمر 33 سال تھی اور وہ گوری چٹی عورت تھی لیکن شادی کے بعد جسامت کی تھوڑی بھاری ہو گئی تھی۔ نبیلہ کی شادی سے پہلے میں اکثر نبیلہ کی پھدی پر اوپر اوپر سے مزے کیا کرتا تھا لیکن نبیلہ کی پھدی چودنا میری حسرت ہی رہی۔ نبیلہ کے کے 3 بچے تھے اور اسکے سسرال والے بھی وہیں پاس ہی رہتے تھے۔ ہم بیٹھ کر باتیں کرنے لگے اور پھر نبیلہ نے میرے لیے کھانا بنانا شروع کیا اور رات 8 بجے میں نے کھانا کھایا اور کہا اچھا نبیلہ میں اب چلتا ہوں تو نبیلہ بولی اس وقت کیوں جاتے ہو رات یہیں رک جاؤ اور صبح چلے جانا میں دل سے تو خوش ہو رہا تھا اور میں نے پھر نبیلہ کو کہا اچھا اگر تم کہتی ہو تو رات رک جاتا ہوں نبیلہ مسکرانے لگی۔

رات 9 بجے کے قریب نبیلہ کے بچے سونے بستر میں چلے گے۔ میں نے نبیلہ کو کہا میرے لیے چائے بنا دو اور نبیلہ میرے لیے چائے بنا کر لے آئی۔ میں اور نبیلہ باتیں کرنے لگے۔ میں نے کہا نبیلہ تیرا شوہر عابد کتنے وقت کے بعد آتا ہے پاکستان تو نبیلہ بولی 2 سال کے بعد آتا ہے۔ میں نے کہا تجھے تو ترسا کر رکھا ہوا ہے۔ نبیلہ میری بات سن کر شرماتے ہوئے نیچے دیکھنے لگی۔ میں نے نبیلہ کو کہا یاد ہے شادی سے پہلے میں تجھے کیسے مزا دیتا تھا نبیلہ چپ رہی اور نبیلہ کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔ میں نے نبیلہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا نبیلہ آج رات میں تیری پھدی چودنا چاہتا ہوں شادی سے پہلے تو نہیں چود سکا اب آج موقع ہے چدوا لے اپنی گرم پھدی میرے سے

نبیلہ بولی یاسر یہ غلط ہے۔ پہلے کی بات اور تھی اور اب میرے بچے بھی ہیں کسی کو پتہ چل گیا تو مجھے طلاق ہو جائے گی۔ میں نے کہا گھر میں میں اور تو ہیں کیسے کسی کو پتہ چلنا ہے۔ نبیلہ میری طرف دیکھنے لگی تو میں نے نبیلہ کے ہونٹوں پرہونٹ رکھ کر چومنے لگا۔ نبیلہ بہت گرم ہو گئی تھی اور بولی چل بیڈ پر چلتے ہیں۔ نبیلہ مجھے بیڈ پر لے آئی اور اپنا ڈوپٹہ اتار دیا اور میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر چوسنے لگی۔ میں نے اپنی زبان نبیلہ کے منہ میں ڈال دی اور نبیلہ میری زبان چوسنے لگی اور میں نبیلہ کے ممے دبانے لگا۔ نیبلہ کی گرم سانسیں میرے اندر اتر رہی تھی اور نبیلہ میرے لن پر شلوار کے اوپر سے ہی ہاتھ پھیرنے لگی۔ اب میں نے نبیلہ کو کہا قمیض اتار دے تو نبیلہ بولی یاسر تو اتار آج تو مجھے ننگا کر پرایا مرد ننگا کرے تو زیادہ شہوت چڑھتی ہے۔

میری نے نبیلہ کو ننگا کرنا شروع کیا اور اسکی قمیض اتاری اور برا بھی اتار دیا اب نبیلہ کے 38 سائز ممے میرے سامنے ننگے تھے۔ میں نے اب نبیلہ کی شلوار کو اتارنا شروع کیا اور اب نبیلہ میرے سامنے بلکل ننگی تھی۔ میں نے اپنی قمیض اتاری اور پھر شلوار اتار دی اور میرا 7 انچ کا لن نبیلہ کے ننگے جسم کو سلامی دینے لگا۔

نبیلہ نے فوراً سے میرے لن کو پکڑ لیا اور منہ میں لے کر چوسنے لگی میں مزے سے سسکیاں کے رہا تھا اور نبیلہ میرا لن چوس رہی تھی۔ میں نے کہا نبیلہ مزا آریا ہے تو نبیلہ بولی بہت زیادہ یاسر تیرا لن موٹا اور لمبا ہے میرے بہن چود شوہرعابد کا لن بس 4 انچ کا ہے میری پھدی کے اندر تک جا کر مزا ہی نہیں دے سکتا۔ میں نے کہا میری جان نبیلہ میں ہوں نا آج تیری پھدی اندر تک چودوں گا تجھے ساری رات چودوں گا۔ نبیلہ بولی یاسر میں بھی یہی چاہتی ہوں اور پھر نبیلہ نے میرا لن چوسنا شروع کر دیا اب نبیلہ زور سے چوس رہی تھی میرا لن تو میں نے کہا میرا منی نکل جائے گئ تو نبیلہ بولی نکلنے دے مجھے پرواہ نہیں ہے میں پی جاوں گئ۔ کچھ منٹ کے بعد میری منی نبیلہ کے منہ میں نکلنے لگی اور نبیلہ منی پی گئ۔

اب میں نے نبیلہ کو کہا مجھے تیری پھدی چاٹنی ہے ٹانگیں کھول دے نبیلہ بولی ایک منٹ رک اور پھر نبیلہ نے ٹی وی پر ایک پورن فلم چلا دی اور بولی مجھے میرا شوہر فلم دکھا کر چودتا تھا اب مجھے عادت ہو چکی ہے فلم لگا کر چدوانے کی میں نے نبیلہ کی پھدی کو کھولا جس پر ہلکے ہلکے بال تھے اور زبان نبیلہ کی پھدی پر پھیرنا شروع کر دی۔ نبیلہ سسکیاں لے رہی تھی اور آوازیں نکال رہی تھی میں نے اب اپنی زبان نبیلہ کی پھدی کے اندر ڈال دی اور اسکی پھدی کے اندر تک زبان مارنے لگا۔ میرے منہ میں نبیلہ کی پھدی کا نمکین پانی آریا تھا جسے میں چاٹ رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد نبیلہ کی پھدی کا جھرنا بہنے لگا جسے میں چاٹ گیا۔ نبیلہ بولی یاسر میری پھدی میں لن مار اب زور زور سے اور نبیلہ نے اپنی دونوں ٹانگیں خود اٹھا دی اور بولی اسی حالت میں میری پھدی چودو میں نے لن نبیلہ کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر دھکا مارا اور میرا لن نبیلہ کی پھدی کے اندر گھس گیا۔ نبیلہ نے لذت بھری سسکی کر کہا ہائے یاسر تیرا لمبا موٹا لن آہ، میں نے زور سے ایک گھسا مارا اور پورا لن نبیلہ کی گرم پھدی میں گھسا کر نبیلہ کی پھدی پر جھٹکے مارنے لگا۔ نبیلہ چدواتے ہوئے آوازیں نکال رہی تھی اور ساتھ فلم دیکھ رہی تھی اور میں نبیلہ کی پھدی پر زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا۔

اب میں نے نبیلہ کو کہا گھوڑی بن تیری پھدی گھوڑی بنا کر چودنی ہے۔ نبیلہ گھوڑی بنی تو میں نے نبیلہ کی پھدی کے سوراخ پر لوڑا رکھ دیا اور زور دار گھسا مارا اور میرا لن نبیلہ کی پھدی کے اندر گھس گیا میں نے نبیلہ کی کمر کو پکڑ کر زور زور سے نبیلہ کی پھدی چودنا شروع کردی۔ نبیلہ مجھے کہہ رہی تھی چود یاسر میری پھدی اور زور سے چود پھاڑ دے میری پھدی میں نبیلہ کے چوتر پر تھپڑ لگاتے اسکی پھدی چود رہا تھا کہ اب میری منی نکلنے والی تھی نبیلہ بولی یاسر میری پھدی کے اندر اپنی منی نکالنا میری پھدی منی کی پیاسی ہے اور میں نے زور زور سے گھسے مارتے ہوئے منی نبیلہ کی گرم چوت میں نکال دی۔

نبیلہ نے میرا لن کو اپنی پھدی سے خود باہر نکالا اور چوسنے لگی اور میری لن کو صاف کیا۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد نبیلہ نے میرے لن کو پھر سے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگی میں جنت میں تھا کیونکہ نبیلہ بہت اچھا لن چوس رہی تھی۔ اب نبیلہ نے مجھے لٹا دیا اور میرے لن پر پھدی رکھ دی اور اوپر بیٹھ گئی۔ نبیلہ اب میرے لن پر پھدی مار رہی تھی اور میرے لن پر اچھل اچھل کر پھدی چدوا رہی تھی۔ میں نبیلہ کے ممے چوسنے لگا اور نبیلہ بولی یاسر چوس ممے میرے میری پھدی میں نشہ چڑھتا ہے۔ میں نبیلہ کے ممے چوس رہا تھا اور نبیلہ اپنی پھدی میرے لن پر مار رہی تھی۔ اب نبیلہ نے کہا یاسر میرے اوپر آکر میری پھدی چود میں نے نبیلہ کو لٹا دیا اور نبیلہ کی ٹانگیں کھول کر لن نبیلہ کی پھدی میں ڈال کر نبیلہ پر چڑھ گیا اور چودنے لگا۔ نبیلہ نے مجھے کمر سے پکڑ رکھا تھا اور کہہ رہی تھی چودو زور سے چودو میری گرم پھدی میں تیز تیز لن اندر باہر کر رہا تھا کہ میری منی کا فوارہ نبیلہ کی پھدی میں چھوٹ گیا نبیلہ نے پھدی سے میرے لن کو جکڑ لیا اور منی کو نبیلہ کی پھدی چوسنے لگی۔ میں نے کہا نبیلہ تیری پھدی تیرے شوہر کے علاوہ کبھی کسی نے چودی ہے تو نبیلہ بولی ہاں محلے کے دو مرد ہیں وہ میری پھدی چودتے ہیں۔ ایک کریانہ کی دکان والا ہے سامان دینے کے بہانے میری پھدی چود جاتا ہے اور دوسرا پولیس میں ہے وہ بھی کبھی کبھی میرے پھدی چودنے آتا ہے۔ نبیلہ بولی اکیلی عورت ہوں شوہر باہر ہے تو کب تک پھدی بچا کر رکھ سکتی ہوں۔ میرے شوہر عابد کا بھائی حامد بھی مجھے چود چکا ہے میرے شوہر کے بعد آغاز اسی نے کیا تھا۔ میں نبیلہ کو پھر سے چومنے لگا۔ اس رات میں نے نبیلہ کی 6 بار پھدی ماری۔ نبیلہ بولی 15 دن بعد عابد پاکستان واپس ارہا ہے تبھی منی تجھ سے پھدی میں نکلوائی ہے کہ میں تیرا بچہ پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ عابد کو نہیں پتہ چلنا کہ کہ میں پہلے سے ہی پریگنٹ ہوچکی ہوں۔ میں اگلی صبح واپس آگیا اور نبیلہ کے پیٹ میں میرا بچہ ہے جو جلدی پیدا کرے گی۔

 

میری بیوی کا جلوہ

 


میری بیوی کا جلوہ

میری بیوی جسے میں پیار سے نور پکارتا ہوں 28 سال کی ہے اور اس کے ممے 36 سائیز کے ہیں۔ اور چوتر نارمل ہیں زیادہ بڑے نہیں ہیں۔ چھ ماہ پہلے میں نے اپنی بیوی کو اسکے سکول کے پرنسپل سے چدواتے دیکھا جہاں میری بیوی نوکری کرنے جاتی ہے۔ میری بیوی سے شادی کو دو سال ہونے والے ہیں مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری بیوی اب بھی باہر سے پھدی چدواتی ہو گئی کیونکہ شادی سے پہلے میری بیوی اپنی چوت چدواتی تھی لیکن مجھے لگتا تھا کہ اب وہ نہیں چدواتی ہو گئی اور پھر ایک دن میں نے نور کو اسکے سکول کے پرنسپل امجد سے اپنے ہی گھر میں پھدی چدواتے دیکھ لیا۔

میں کسی کام سے تین دن کے لیے راولپنڈی سے ملتان گیا ہوا تھا میرا کام جلدی ختم ہو گیا تو میں واپس جلدی نکل آیا نور کو میں نے کہا کہ میں پرسوں آؤں گا اور میں نے سوچا سرپرائیز دوں گا۔ میں گھر رات 12 بجے پہنچا اور میں نے آرام سے دروازہ کھولا تاکہ آواز نہ آئے اور جوتے اتار کر اندر داخل ہوا میرے کمرے کا دروازہ کھلا تھا مگر نور اندر نہیں تھی میری ماں اوپر والے پورشن میں رہتی تھی۔ پھر مجھے ہلکی ہلکی سے آوازیں سنائی دے جو ڈرائنگ روم کی طرف سے آرہی تھی۔ میں ڈرائینگ روم میں پردے کے پیچھے سے جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گیا میری بیوی اپنے سکول کے پرنسپل امجد کا لن چوس رہی تھی امجد اور میری بیوی بلکل ننگے تھے۔ امجد صوفے پر بیٹھا تھا اور میری بیوی نور نیچے زمین پر بیٹھ کر امجد کے لن کو چوس رہی تھی۔ امجد میری بیوی کے سر کو لوڑے پر دبا رہا تھا اور میری بیوی امجد کے 8 انچ کے لن کو نیچے سے اوپر تک زبان سے چاٹ رہی تھی۔امجد میری بیوی کے ممے دبا رہا تھا اور نور مسکراتے ہوئے امجد کا لن چوس رہی تھی۔

اب امجد نے میری بیوی کو گلے لگایا اور میری بیوی کے ہونٹ چوسنے لگا میری بیوی مستی میں تھی اور امجد کے لن کو پکڑ رکھا تھا۔ امجد میری بیوی کی گردن پر کسنگ کرنے لگا اور ساتھ ساتھ میری بیوی کے چوتر اپنے ہاتھوں سے دبا رہا تھا۔ امجد کی عمر 50 سال کے قریب تھی اور وہ تجربہ کار کھلاڑی لگ رہا تھا اس نے میری بیوی کی پھدی میں اپنی موٹی انگلی گھسا دی اور میری بیوی کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔ میری بیوی امجد کے سینے کے بالوں سے کھیل رہی تھی اور امجد کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کا مزا دے رہی تھی۔

اب امجد نے میری بیوی کو کہا لن چوسو نور اور میری بیوی فوراً سے امجد کے لن پر زبان پھیرتے ہوے لن چوسنے لگی۔ امجد کا موٹا لمبا لن میری بیوی نور کے منہ میں تھا اور لن چوسے جا رہی تھی۔ امجد بولا نور تیرا شوہر کب واپس آئے گا تو میری بیوی بولی پرسوں لہذا امجد تم کل رات بھی مجھے چودنے آسکتے ہو۔امجد نے میری بیوی کے منہ کے اندر لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور یکدم امجد کی منی سے میری بیوی کا منہ بھر چکا تھا جسے میری بیوی پی کر نگل گی۔ میری بیوی نے امجد کے لن کو چوس چوس کر صاف کیا اور لن چوسنا جاری رکھا۔ اب امجد نے میری بیوی نور کو صوفے پر لٹا دیا اور میری بیوی کی ٹانگیں کھول کر اسکی پھدی چاٹنےلگا۔ میری بیوی مستی میں اپنے ممے دبا رہی تھی اور امجد میری بیوی کی پھدی کو چاٹ رہا تھا۔ میری بیوی چوت اٹھا رہی تھی پھدی چٹواتے ہوئے شاید میری بیوی کی چوت کا پانی نکل رہا تھا جسے امجد چاٹ کر پی گیا۔ اب امجد نے میری بیوی کو کس کی اور اپنے لمبے لن کو میری بیوی کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور جھٹکا مارا میری بیوی نے مزے بھری سسکی لی اور بولی امجد پورا اندر کرو مجھے پورا لن چاہیے جان چودو میری چوت کو اپنے سخت لمبے لوڑے سے پھاڑ دو میری پھدی آہ آہ امجد نے زور دار گھسا مارا کہ جڑ تک لن میری بیوی کی پھدی میں چلا گیا اور میری بیوی نے امجد کی کمر کو کس کر پکڑ لیا اور بولی چودو جان آہ چودو میری چوت گرمی نکالو میری چوت میں اپنے لن کی پوری طاقت سے چودو اور امجد میری بیوی کی پھدی پر زور زور گھسے مار رہا تھا اب امجد نے میری بیوی کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر رکھ دیں اور زور دار چدائی کرنے لگا۔ اب امجد نے میری بیوی کی پھدی سے لن نکال لیا اور میری بیوی کو زمین پر گھوڑی بننے کو کہا اور امجد خود صوفے ہر بیٹھ کر میری بیوی کی کمر سے پکڑ کر پھدی چودنے لگا۔ پورے کمرے میں میری بیوی نور کی پھدی چدنے کی آوازیں ارہی تھی۔ قریب پانچ منٹ پھدی چودنے کے بعد امجد نے میری بیوی کی پھدی میں منی نکال دی۔ میری بیوی بولی آف امجد تمہاری منی مجھے اندر تک گرم محسوس ہو رہی ہے۔ اب امجد نے لن باہر نکال لیا اور میری بیوی کو چوسنے کو کہا میری بیوی نے امجد کے لن کو چوس چوس کر صاف کر دیا اور لن چوسنا جاری رکھا کیونکہ میری بیوی لن چوسنے کی شوقین ہے۔ اب امجد کا لن دوبارہ ٹائٹ ہو چکا تھا امجد نے میری بیوی نور کو لن پر بیٹھنے کو کہا اور میری بیوی جلدی سے اس کے لن پر بیٹھ گئی اور امجد کا پورا لن میری بیوی کی پھدی میں تھا اب میری بیوی امجد کے لن پر زور زور سے اپنی پھدی مارنے لگی۔ امجد میری بیوی کے ممے چوس رہا تھا اور میری بیوی امجد کے لوڑے کی سواری کر رہی تھی۔ امجد میری بیوی کو زور زور سے پھدی مارنے کو کہنے لگا اور میری بیوی اچھل اچھل کر امجد کے لن پر پھدی مارنے لگی۔ امجد نے میری بیوی کو الٹا لیٹنے کو کہا اور پھر میری بیوی کے چوتر کے درمیان رکھ کر میری بیوی کی پھدی میں ڈال دیا اور میری بیوی کی پھدی چودنے لگا اب میری بیوی کی چدائی کی آواز اور سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھی اور امجد نے ایک بار پھر اپنی منی سے میری بیوی کی پھدی کو بھر دیا۔ میری بیوی نے آٹھ کر امجد کے لن کو چوس کر صاف کیا۔ میں واپس آکر اسٹور روم میں چھپ گیا اور اس رات امجد نے 4 بار میری بیوی کی پھدی چودی اور چلا گیا جب میری بیوی واپس آئ تو میں اسٹور روم سے نکلا اور اپنی بیوی کو کہا چدوا لیا امجد سے میری بیوی پریشان ہو کر مجھے دیکھنے لگی بولی تم کب آئے ہو تم نے تو پرسوں آنا تھا۔ میں نے کہا میں تجھے چدواتی کو دیکھنا چاہتا تھا تو اچانک آیا ہوں تو میری بیوی بولی اپنی ماں کی چوت کی چدائی بھی دیکھی ہے یا صرف میری دیکھی ہے؟ میں نے کہا ماں بھی چدواتی ہے؟ تو میری بیوی بولی تیری ماں مجھ سے بڑی چڈکڑ ہے امجد کا یار تیری ماں کی ابھی بھی چوت چود رہا ہے نہیں یقین تو دیکھنا تیری ماں اسے نیچے چھوڑنے آئے گی خود دیکھ لینا تیری ماں نسرین کو پتہ ہے میں چدوا رہی ہو امجد سے اور امجد کا دوست راشد کو میں نے بلوایا ہے کہ میری ساس کی پھدی کی آگ بجھائے۔ میں اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا جو ننگی تھی ایک دم میری بیوی نے ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا جو پہلے سے گرم تھا۔ میری بیوی نے میرا شلوار سے نکال کر چوسنا شروع کر دیا اب میں نے نور کو کسسنگ شروع کی اور نور نے کہا یاسر میری پھدی چاٹو میں نے نور کی پھدی کو چاٹنا شروع کیا جو ابھی بھی امجد کی چدائی کرنے کی وجہ سے گیلی اور گندی ہو چکی تھی میں نے چاٹ کر پھدی کو صاف کیا اور لن اندر ڈالنے والا تھا کہ ماں اور کسی آدمی کی آواز سنائی دی کوئی شخص میری ماں کو ننگی ہی دروازہ تک لے آیا تھا اور ماں فل ننگی تھی میری بیوی بولی یاسر اپنی ماں کے جلوے دیکھو اسکو لن کی طلب اب بھی ہے۔

میری بیوی بولی چل چود مجھے اور میں نے بیوی کی پھدی چودنا شروع کر دی اور میں نے کھڑکی سے دیکھا ماں کو وہ شخص جاتے جاتے لن چسوا رہا تھا ماں کو لن چوستا دیکھ کر مجھے جوش چڑھا اور میں نے نور کی چدائی تیز کردی اور میری بیوی بولی ماں کو لن چوستا دیکھ کر جوش چڑھ گیا ہے میرے شوہر کو؟ میں نے کہا سچ پوچھ تو ہاں اور اب ماں واپس اوپر چلی گئی اور کچھ تیز جھٹکے مارنے کے بعد میری منی میری بیوی کی پھدی میں نکل گئی۔ نور نے میرا لن چوس کر صاف کیا اور مجھے بولی امجد مجھے ایک سال سے چودتا ہے پہلی بار امجد نے مجھے اپنے دفتر کی میز پر زبردستی پچودا تھا مجھے اس کے لن سے مزا آنے لگا اور میں باقاعدہ چدوانے لگی تمہیں آج پتہ چلا ہے لیکن تمہیں غصہ نہیں کرنا چاہیے تمہیں بھی میں نے اپنی بہن اور سہیلیوں کی چوت دلوائی ہے آگے بھی دلواو گی تم خود بھی مزے کرو مجھے بھی کروایا کرو میں تمہاری ماں کو میں مزا دلوایا کروں گی۔ میں مسکرا دیا اور بولا نور جان تمہارا کل کا وعدہ ہے امجد سے پھدی چدوانے کا تم اسے رات بلا سکتی ہو میری بیوی مسکرا دی اور پھر میری بیوی نہانے چلے گی۔

 

پیشاب کی طلب

 

پیشاب کی طلب



میں کوہاٹ کا رہائشی ہوں اور میرا نام عابد حیات ہے، کوہاٹ میں بہت سے دوست مجھے میرے نام خان گل کے نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ دوستوں شروع ہی سے میں سکس کا بے حد شوقین تھا اور یہاں تک کے جب بالغ بھی نہیں ہوا کرتا تھا تو اپنے ہمجولیوں کے ساتھ لیٹ کر بھی مجھے بہت سکون ملتا تھا۔ دوستوں جوان ہونے کے بعد سکس کرنے کے بہت سے مواقع ملے کیونکہ آپ سب کو پتہ ہے کہ کوہاٹ میں گشتی عورتیں بہت ہیں اورکوہاٹ نیو آڈے کے ساتھ بھی بہت سے محلے ایسے ہیں جہاں سکس کی عورتیں بہت مل جاتی ہیں۔ ان کی کہانیاں بھی بعد میں سناوں گا اس وقت میں جو کہانی سنانے جا رہا ہوں وہ میرے زندگی کی سب سے انوکھی کہانی ہے کیونکہ یہ سکس میں نےہسپتال میں کیا تھا۔اس وقت میری عمر 17 سال تھی۔
ہوا یوں کے ہمارے رشتہ دارجو کہ بنوں سے تعلق رکھتے تھے کوہآٹ کے ایک ہسپتال میں اپنے ایک مریض کو داخل کیا۔ جب ہم گھر والوں کو پتہ چلا تو ہم سب گھر والے اُن کی عیادت کے لئے چلے گئے۔ یعنی میں ابو اور امی۔ یہ میرے امی کے رشتہ دار تھے اور اُن کی چچی بیمار ہو کر داخل ہوئی تھی۔ خیر عیادت کرنے کے بعد میرے والد نے امی کے آنے والے رشتہ داروں کو بتایا کہ عابد آپ لوگوں کے ساتھ رہے گا۔ اور آپ لوگوں کے لئے کھانا بھی گھر سے عابد ہی لائے گا اور چند راتوں کے لئے اُپ لوگوں کے ساتھ ہسپتال میں رہے گا۔ امی کی چچھی کے ساتھ جو رشتہ دار آئے تھے اُن میں امی کے چچازاد عزیز اور اس کی چچی زاد شمشاد آئی تھی۔ چچی جس کا نام گلاپہ تھا کو ابو کی سفارش پر الگ کمرہ دیا گیا کیونکہ ایم یس ابو کے جاننے والے تھے۔ خیرشام کو کھانا لانے کے بعد اور مہمانوں کو کھانا کھلانے کے میں عزیر کو اپنے گھر لے آیا اور خود واپس ہسپتال چلا گیا۔اور پنے ساتھ گاڑی میں چچی، شماشاد اور اپنے لئے رضایاں بھی لے گیا کیونکہ یہ جنوری کا مہینہ تھا اور سخت سردی پڑ رہی تھی۔ چچی کے کمرے میں چچی کے ساتھ شمشاد تھی۔ میں جب کمرے میں گیا تو شمشاد چچی کی پاوں دبا رہی تھی۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ چچی کی عمر چالیس سال کی ہوگی پر وہ ایک خوبصورت اور دلکش خاتون تھی، بھرا بھرا جسم ، لمبا قد اور نیلی آنکھیں ، نیلی آنکھیں شروع ہی سے میری کمزوری رہی ہے۔ چچی کی شخصیت میں ایک دلکشی تھی۔ اس کی بیٹی شمشاد بھی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ شمشاد کی شادی کو دو سال ہو چکے تھی پر اب تک اولاد کی خوشی سے محروم تھی۔ شمشاد بھی اپنی ماں کی فوٹو کاپی تھی پر دونوں میں فرق یہ تھا کہ چچی صحت مند تھی جب کہ شمشاد ایک سمارٹ لڑکی تھی ۔ اور چچی کے مقابلے میں شمشاد کے ممے بھی تھوڑے چھوٹے تھے پر اس کے جسم کے تناسب سے بہت موزوں لگ رہے تھے۔
اس وقت مجھے کوئی بھی خیال نہیں آیا کیونکہ ایک تو دونوں میرے لئے اجنبی تھے اور دوسرے یہ کہ ہسپتال کا ماحول ہی ایسا تھا کہ بندے کا مزاج مستقیم ہی رہتا ہے۔ نرس نے چچی کو دوایاں دی اور شمشاد کو مشورہ دیا کہ دوایوں میں نیند کی گولیا ں بہت ہیں اس لئے چچی کو آرام کا موقع دیا جائے۔ چچی دوایاں کھا کر سوگئی ۔ اُس روم میں صرف مریض کے لئے ایک بڑا بیڈ اور اس کے ساتھی کے لئے ایک فرد کے سونے کے لئے ایک بینچ پڑا تھا۔ چونکہ بینچ پر کوئی بستر نہیں تھا اس لئے میں نے شمشاد کو انتظار کرنے کے لئے کہا اور جلدی سے گھر آکر شمشاد کے لئے گھر سے بستر لے آیا۔ شمشاد بار بار کہ رہی تھی کہ آپ ہمارے لئے اتنی تکلیف نہ اُٹھایا کریں۔۔میں نے کہا کہ تم آمی کے رشتہ دار ہو تو میرے بھی رشتہ دار ہوئے نہ۔۔تکلیف ہر روز تو نہیں آتی۔ میں نے اُس کی آنکھوں میں احسان مندی کے انسو دیکھے تو اُس کو ڈانٹا کہ خبردار جو آئیندہ آپ نے شکریہ ادا کیا یا روئی۔ بس تم بھی سو جاو۔۔ میں باہرگاڈی میں سوجاوں گا۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے فورا فون کردو اب ۔ شمشاد نے کہا کہ نہیں اس سخت سردی میں تم کس طرح گاڈی میں سوگے۔اتنا بڑا کمرہ ہے تم بھی کسی کونے میں سو جاومجھے تم پر پورا بھروسہ ہے ۔ بہر حال میں نے بھی سوچا کہ نہ تو گھر جاسکتے ہو اور نہ ہی اس سردی میں گاڈی میں سو سکتے ہو۔ اس لئے راضائی زمین ر بچا کرآنکھیں بند کر لیں ۔ کمرے میں ہیٹیر لگا ہوا تھا اس لئے کمرے کا ماحول گرم تھا۔ پھر پتہ بھی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ آدھی رات کو میری آنکھیں اچانک کھل گئی کیونکہ مجھے پیشاب کی طلب ہو رہی تھی اس لئے اُٹھ کر واش روم چلا گیا اور واپس پر آتے ہوئے ایک نظر چچی پر ڈالی تو زیرو لائٹ کے روشنی میں چچی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میں آہستہ اہستہ اس کی بیڈ کی طرف گیا اور قریب پڑے سٹول پر اُس کے قریب بیٹھ گیا اور صرف اُس کو دیکھنے لگا۔ اس کے سنہرے بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر تھی میں اپنا ہاتھ سے اس کے چہرے کو چھوا تو جسم میں آگ لگ گئی کیونکہ چچی کے گال بہت ہی نرم تھے ۔ میں نے اہستہ آہستہ اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرنا شروع کیا ۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ چچی اس وقت آرام کی دوائیاں کھا کر ہوش میں نہیں ہیں اس لئے ڈر کیسا۔ آہستہ آہستہ مجھ پر شیطان غالب آنے لگا اور میں چچی کے راضائی کو اس کے سینے سے نیچے کیا تو میرا سانس میرے سینے ہی میں رہ گیا کیونکہ چچی نے چادر نہیں لی تھی اور اندر کوئی برا بھی نہیں پہنا تھا اور اس کو سڈول ممے مجھےچیخ چیخ کر دعوت دے رہے تھے۔ میں اس کے دائیں ممے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا تو میں حیران رہ گیا جیسے کسی نوجوان لڑکی کے ممے پکڑے ہوں میں ایک ہاتھ سے چچی کے ممے کو ساتھ کھیل رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنی شلوار کے اُوپر ہی اپنے لنڈ کو سہلانے لگا جو کہ پوری طرح ٹائٹ ہو چکا تھا۔ میری ہمت اور بھوک آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور میں سٹول سے اُٹھ کر چچی کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنا لنڈ اس کے ساتھ مس کرنے لگا اور ساتھ ساتھ اس کے مموں کو ننگا کرکے کھیلنے لگا۔ اسی دوران میں نے اپنے ہونٹ اس کو ہونٹوں پر رکھ کر ہلکا ہلکا کسنگ بھی شروع کی ۔اس وقت میں بہت گرم ہو چکا تھا اور لزت کی بلندیوں پر تھا۔ میں رضائی کے اندر ہی چچی کے شلوار کو نیچے کیا اور اُس کی چوت پر ہاتھ پھرنے لگا بالوں سے بھر ے ہوئے چوت پر ہاتھ پھرنے سے میرے اندر بجلیاں کوند رہی تھی۔ اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو اجا رہا تھا اس لئے چچی اور اپنی شوارپوری اور چچی کی شلوار اس کے پنڈلیوں تک نیچے کی اور چچی کے پاوں کے درمیان اکر اپنا لوڑا ا س کے چوت پر فٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا۔ او میرے خدا جب میرا لنڈ اندر گیا تو اس کے گرم چوت میں جیسے آگ لگی ہوئی تھی اورمجھے لگا کہ جیسے میں جنت میں داخل ہوا ہوں۔ میں نے پہلے آہستہ آہستہ چھٹکے لگانے شروع کئے اور ہر جٹھکے پراتنا مزا آرہا تھا کہ دل چاہ رہا تھا کہ بس یہ ہمحات رک جائیں۔ میں ساتھ ساتھ چچی کے مموں کے ساتھ بھی کھیل رہا تھا۔ پھر میری رفتار بڑھنے لگی اور15 منٹ بعد مجھے لگا کہ اب میں فارغ ہونے لگا ہوں تو فورا اپنا لنڈ چچی کے چوت سے نکال کر اس کے چوت کے اوپر ہی اپنے منی کا فوارا چھوڑیا دیا اور لمبی لمبی سانسی چلنی شروع ہو گئی جیسے کہ لمبا سفر طے کیا ہو۔ پھر بیڈ سے اتر کر اپنے رومال سے چچی کے جسم کو غلاظت سے پاک کیا اور اس کے شلوار کو درست کرلیا۔ اور شمشاد کو بھی چیک کیا کہ وہ سو تو رہی ہےاور وہ بھی گھوڑے بیچ کر سورہی تھی۔ اور میں جو کہ اتنی مستی سے چودائی کر چکا تھا جیسے ہی اپنے رضائی کے اندر گسا سو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیاتم مجھے دوائی کا نام بتا سکتی ہو میں لے آونگا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ میں نےکہا کہ میں لے آونگاجب پیسے ہوں تو دینا۔ اُس نے جلدی سے مجھے دوائی کانام بتا دیا اور میں دس منٹ میں وہ دوائی لے آیا۔ ۔
وہ عورت بہت مشکور نظر آرہی تھی اور مجھے خوب دعائیں دیں۔ میں نے کہا کہ اگر پھر بھی میری ضرورت پڑی تو یہ میرا نمبر ہے مجھے مس کال کرلینا میں آجاوں گا۔ اُس عورت نے مجھے بھی اپنا نمبر دے دیا۔ وہ شکل و صورت سے تعلیم یافتہ مگر حالات کی ماری عورت نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد میں چچی کے کمرے میں آیا تو رات کے 8 بج رہے تھے ۔ قارئین کو پتہ ہے کہ سردیوں میں عشاکی نماز عموماَ 7 بجے ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لئے میں اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا اور فیس بک چیک کرنے لگا۔ 15 منٹ بعد میں آٹھا اور شمشاد کے بیڈ کی طرف گیا اور اُس کہ ہلا کر اُواز دیں کہ وہ سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے۔ پر وہ تو گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی تھی۔ چچی کی طرف سے تو مجھے کوئی ڈر نہیں تھا کیونکہ کہ کل رات میں اُس کی خواب کی مدہوشی دیکھ چکا تھا۔ اس لئے میں آہستہ سے شمشاد کی رضائی میں گھس گیا۔ اوراُس کے ساتھ ہی اُس کی رضائی میں لیٹ گیا۔ معلوم نہیں یہ اُ س کی جسم کی گرمی تھی یا میرے اندر کی گرمی کے مجھے اچانک ہی کمرا بہت گرم محسوس ہوا۔ بہر حال میں نے پہلے بلب کی روشنی میں ہی شمشاد کے سراپے کو دیکھا تو وہ ایک بھر پور لڑکی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ اُس کے مموں پر پھیرنا شروع کیا اور اپنا سر اُس کے چہرے پر کرکے اُس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ یوں محسوس ہر رہا تھا کہ جیسے سلگتے ہوئے شعلوں سے کھیل رہا ہوں۔ اسی دوران میرا لن بھی پوری طرح تن چکا تھا اور میں نے اپنا ایک ہاتھ اپنے لن پر پھیرنا شروع کیا ۔ اور اپنا ہاتھ شمشاد کے قمیص کے اندر سے اُس کے پستانوں پر لے گیا ۔ اور اُس کے پستان ہاتھوں میں لے کر جو مزا آیا وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔ میں نے اپنی شلوار اور قمیص اُتار لی اور شمشاد کی قمیص اُپر کرلی ، چونکہ شمشاد گاوں کی تھی اس لئے اُس نے کوئی بریزر نہیں پہنا تھا پر اُس کے پستان بہت تنے ہوئے تھے۔ میں نے اُس کی شلوار بھی اُتار دی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اُس کے چوت پر بہت لمبے لمبے کالے بال تھے۔ پر مجھے بہت اچھے لگے اور میں نے ایک ہاتھ اُس کے چوت کے بالوں ر پھیرنا شروع کیا اور اُس کے پستان کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ پانچ منٹ تک اُس کے ممے چوسنے کے بعد میں اُس کے پاوں کے درمیان بیٹھ گیا اور اور اُس کے پاوں اپنے کاندھوں پر رکھ لئے۔ اور اپنے لن پر ہلکا سا تھوک لگا کر اُس کے چوت کے دہانے پر رکھا دیا اور اپنے موٹا اور تنا ہوا لن اُس کے چوت میں داخل کرنے کی کوشش کرنے لگا پر مجھے حیرانی ہوئی کہ ایک دو سالہ شادی شدہ عورت کے چوت میں لن بہت مشکل سے اندر جا رہا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اُس کے خاوندشاید اُس کے ساتھ بہت کم ملتا ہے۔ بہر حال میں اُس کی تنگ چوت پر کاری ضرب لگانے کا ارداہ کر چکاتھا اس لئے ایک بار جٹھکا لگا کر آدھا لن اندر لے گیا ایک تو اُس کے چوت کی اندر کی گرمی اور دوسری اُس کی چوت کی تنگی مجھے اتنا مزا آنے لگ کہ آدھا اندر گھسا کر اندر باہر کرنے لگا اور دس منٹ تک میں اُس کو گھسے لگاتا رہا اور اسی دوران میرے لن کا لاوا پوری کی پوری طرح اُس کے اندر چلا گیا اور میں نڈھال ہو کر اُس کے اُوپر گرگیا اور لمبی لمبی سانسں لینے لگا پر اپنا لن اندر سے نکالا نہیں ۔۔۔میں اسی حالت میں اُس کے اُوپر لیٹا رہا اور تھوڑی دیر بعد پھر مجھے میرے لن میں جان آتی ہوئی دکھائی دی اور میں نے پھر اُس کو ہونٹوں کو کس کرنا شروع کیا اور دونوں ہاتھوں سے اُس کے پستانوں کو سہلانے لگا ۔۔پانچ منٹ باد میرا لن اندر ہی اندر پوری طرح تن چکا تھا اور میں نے ایک بھر پور جٹھکے سے پورا کے پورا لن اندر ڈال دیا اور بڑے مستی سے شمشاد کو چودنے لگا اور مسلسل دوسری مرتبہ اُس کو بیس منٹ تک چودتا رہا اور آخر اتنے تنگ چوت میں کب تک میرا لن میں جان رہتی اس لئے ایک بار پھر سے اپنی منی اُس کے اندر چھوڑ دی اور اس بار اپنا لن نکال کر اُس کے ساتھ لیٹ گیا ۔ دس منٹ اسی طرح لیٹا رہا اور پھر اُٹھ کر ایک نم کپڑے سے اُس کے چوت کو صاف کیا اور اُس کی شلوار اور قمیص ٹھیک کر لی ۔ اور اُس کے رضائی کو بھی ٹھیک کرنے کے بعد اپنے بستر پر آگیا