منحوس سے معصوم تک
قسط
نمبر 001
_______تعارف____________
یہ
کہانی ایک گاؤں کی ہے جہاں ایک بڑا سا گھر ہے گھر دو منزلہ ہے جس میں تِین بھائی
رہتے ہیں تینوں بھائی شادی شدہ ہیں مگر افسوس ہے کہ تینوں کے کوئی اولاد نہیں ۔
۔ ۔ ۔
گاؤں
میں ان کے خاندان کے اچھے خاصے تعلقات ہے ہر کوئی ان کی عزت کرتا ہے کھیتی باڑی کے
لیے کافی زمین ہے جو یہ خود کھیتی کے لیے استعمال کرتے ہیں کھیتی باڑی سے اچھے
خاصے پیسے آ جاتے ہے اس لئے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔
۔ ۔ ۔
تینوں
بھائیوں نے اپنی تعلیم گاؤں سے ہی کی ہے کھیتی باڑی کی وجہ سے زیادہ پڑھنے میں ان
کو دلچسپی نہیں تھی ۔ ۔ ۔
اس
لئے یہ زیادہ پڑھے نہیں حالاںکہ تینوں کی بیویاں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ہیں
مگر ہیں پوری شریف اور عزت دار ۔ ۔ ۔ ۔
گھر
میں تِین بھائی اور ان کی بیویوں کے علاوہ ایک شخص اور ہے جو کہ اِس کہانی کا سب
سے اہم کردار ہے جسے کچھ لوگ منحوس سمجھتے ہیں مگر یہ منحوس ایک دن سب سے عظیم
انسان بنے گا مگر کیسے آئیں جانتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اِس
کہانی کے ضروری کرداروں سے آپ کا تعارف کرواتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
سرور :
عمر
45 سال کسان ہیں گاؤں میں سب ان کی عزت کرتے ہیں اپنے باپ کے مرنے کے بعد گھر کے
بڑے یہی ہیں اور سب ان کا حکم مانتے ہیں بہت ہی سلجھے ہوئے انسان ہیں قدرت کا دیا
سب ہے بس کمی ہے تو اولاد کی جو ان کے من کو ہمیشہ دکھ دیتی رہتی ہے ۔
۔ ۔ ۔
حالاںکہ
یہ کبھی کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتے گاؤں میں سب لوگ ان کو ایک سردار کی طرح مانتے
ہیں اور ہر کام ان سے پوچھ کر کرتے ہیں یہ اپنے خاندان سے بہت پیار کرتے ہیں ۔
۔ ۔
انہیں
اس معصوم سے سب سے زیادہ محبت ہے جسے کچھ لوگ منحوس مانتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔
نائلہ :
عمر
40 سال گھر کے کام کرنے کی وجہ سے رنگ دودھ کے جیسا سفید اور قاتل نین نقش ۔
۔ ۔ ۔
چہرے
پر ایک نور سا ہے اور نہایت ہی نرم مزاج کی سب کا خیال رکھنے والی ہر کوئی اس کے
نیچر کی وجہ اسے عزت دیتا ہے ۔ ۔ ۔
یہ
چوہدری سرور کی بیوی ہے ایک عزت دار بیوی ہے کبھی زندگی میں کسی دوسرے مرد کا کبھی
سوچا بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
اب
تک ماں نہیں بن پانے کا اسے دکھ تو ہے مگر کبھی جتاتی نہیں یا یوں کہو کہ یہ اپنے
ہیرو کو اپنا ہی بیٹا مانتی ہے اسے ماں کا پیار دیتی ہے اور اپنی ممتا کو ٹھنڈا
کرتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔
دلدار :
یہ
سرور کا چھوٹا بھائی ہے عمر 43 سال اپنی بِیوِی سے تھوڑا ڈرتا ہے یا یوں کہو کہ
جورو کا غلام ہے بچے نہ ہونے کی وجہ سے بِیوِی اسے تانے سناتی رہتی ہے ۔
۔ ۔ ۔
مگر
کسی سے کہتا نہیں اسے یہی لگتا ہے کہ اس میں کوئی کمی ہے اِس لیے گھر پر کم اور
کھیتوں میں زیادہ رہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دیبا :
یہ
دلدار کی بِیوِی ہے بہت ہی خوبصورت عمر اتینتالیس سال ۔ ۔ ۔ ۔
زیادہ
محنت نہیں کی ان پر دلدار نے یہ دلدار کو دبا کر رکھتی ہے اپنا ہر کام نکلوا لیتی
ہے حالاںکہ یہ بہت چالاک ہے مگر کبھی اس نے عزت کو خراب نہیں کیا اسے ہیرو سے سخت
نفرت ہے اور اسے منحوس کہتی ہے حالانکہ اپنے گھر پر جیٹھانی اور جیٹھ کی وجہ سے
چُپ رہتی ہے مگر گاؤں کی عورتوں سے برملا اظہار کرتی ہے کہ یہ منحوس ہے اور اسے
اپنے پاس بھی آنے نہیں دیتی اس کی وجہ آگے پتہ چلے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بختیار :
یہ
تینوں بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے عمر 38 سال ہے یہ بھی اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی
کھیتی کا کام کرتا ہے اور ان ہی کو بڑا مانتا ہے اپنی بِیوِی سے بہت پیار کرتا ہے
اسے سیکس کی بہت آگ ہے نئے نئے طریقے سے سیکس کرتا ہے مگر باہر کی عورتوں سے گاؤں
میں اس کا چکر ہے کسی عورت سے ۔ ۔ ۔
سیکس
کی اتنی نالج ہونے کے بعد بھی یہ ابھی تک باپ نہیں بنا ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
یہ
بختیار کی بِیوِی ہے گھر میں سب سے زیادہ پڑھی لکھی ہے عمر 33 سال ہے ۔ ۔ ۔ دودھ
سا سفید چمکتا چہرہ مخملی بدن پڑھی لکھی ہے شہر میں بی اے کر کے آئی تھی۔ ۔
۔
گھر
والوں نے بختیار سے شادی کردی حالاںکہ اس کا کبھی کسی سے کوئی چکر نہیں رہا مگر ہے
سیرت کی بہت اچھی اپنی دونوں جیٹھانیوں کو بڑا مانتی ہے سب سے چھوٹی ہے اس لئے سب
کی لاڈلی بھی ہے چلبلی ہے سب سے مذاق بھی کرتی رہتی ہے اپنے ہیرو کو یہ زیادہ پیار
تو نہیں کرتی مگر نفرت بھی نہیں اُلٹا یہ دیبا کو ٹوک دیتی ہے کہ بے چارہ معصوم ہے
اس سے نفرت مت کرو کم سے کم ۔ ۔ ۔
بختیار
اس سے بہت سیکس کرتا تھا نئے نئے طریقوں سے جس کی وجہ سے یہ بیڈ پر والڈ سیکس کی
عادی بن گئی مگر بچے نہ ہونے سے دھیرے دھیرے بختیار اس سے سیکس کم کرتا گیا اور
باہر زیادہ منہ مارنے لگا ۔ ۔ ۔
سیکس
کی کمی اس کے جسم کو چبتی ہے مگر سب سے زیادہ اسے ماں نہ بن پانے کا غم ہے حالاںکہ
پڑھی لکھی ہونے کی وجہ سے یہ گاؤں کی عورتوں کی طرح اسے قدرت کی مرضی نہیں مانتی
بلکہ یہ جانتی ہے کہ آج کل سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ عورت کسی بھی عمر میں ماں
بن سکتی ہے ہر کمی کو دور کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
زارینہ :
عمر
44 سال ہے
۔ ۔ ۔
سرور
سے چھوٹی ہے مگر باقیوں سے بڑی ہے سب اس کی عزت کرتے ہیں نیچر سے کافی اپنایت والی
ہیں سب اس کے آگے اپنی زُبان بند ہی رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
رنگ
ایک دم گورا اور معصوم چہرہ حالاںکہ یہ معصوم نہیں کیونکہ ان کے شوہر موصوف بینک
میں جاب کرتے ہیں انہیں سیکس میں زیادہ دلچسپی نہیں اس لئے زارینہ نے اپنے اندر
سیکس کو دبا دیا ہے ۔ ۔ ۔
اپنے
بھائی بہنوں سے بہت پیار کرتی ہے اسے اکثر فکر رہتی ہے کہ ۔
۔ ۔
اس
کی بھابیاں ابھی تک گھر کو کوئی چراغ نہیں دے پائی مگر یہ کبھی کسی کو قصور وار
نہیں سمجھتی ۔ ۔ ۔ ۔
یہ
بھی اپنے ہیرو کو بہت پیار کرتی ہے
اس
کے تِین بچے ہیں دو بیٹیاں ہے ناصرہ ناہیدہ اور ایک بیٹا زبیر ۔
۔ ۔ ۔
کامران :
عمر
50 سال یہ زارینہ کے شوہر ہیں بینک میں
جاب کرتے ہیں عام زندگی جیتے ہیں سیکس کو کبھی انجوئے نہیں کیا جسٹ ڈیوٹی سمجھ کر
کیا ہمیشہ اور اب وہ بھی مہینے میں ایک بار رہ گیا ہے وہ بھی جب زارینہ زیادہ ضد
کرے ۔ ۔ ۔ ۔
ناصرہ :
عمر
24 سال پڑھائی میں اول کالج ختم کر کے ابھی جاب کر رہی ہے اس نے ایم بی اے کیا ہے
خوبصورتی میں کسی ہیروئن سے کم نہیں مگر اپنے خاندان کی عزت کو کبھی داغ نہیں
لگایا کبھی کسی سے فرینڈشپ نہیں کی حالاںکہ دِل سے یہ بھی انجوئے کرنا چاہتی تھی
مگر عزت کو گنوانا نہیں چاہتی تھی بہت ہی زبردست جسم کی مالک ہے جو بھی دیکھے
دیوانہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔
اپنی
ماں سے بہت پیار کرتی ہے ۔ ۔
چھوٹی
بہن اور بھائی پر کنٹرول رکھتی ہے ۔ ۔ ۔
اسے
اپنے ہیرو سے بہت ہمدردی ہے اس لئے اس سے جب بھی ملتی ہے بہت سی باتیں کرتی ہے اور
اس کے ساتھ وقت گزارتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ناہیدہ :
عمر
22 سال ایم اے کر رہی ہے نیچر سے مست ہے بہت ہنسی مذاق کرتی ہے مگر کبھی ایسا کچھ
نہیں کرتی جس سے اس کی بہن ناراض ہو یہ بھی ہیرو سے بہت ہمدردی رکھتی ہے۔ ۔
۔ ۔
زبیر
:
عمر
20 سال ہے ۔ ۔ ۔ بی اے کر رہا ہے یہ فیملی میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتا اسے بس اپنے
دوستوں سے مطلب ہے حالاںکہ اس کی کوئی بری سنگت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔
صابرہ :
عمر
42 سال ہے یہ سرور اور زارینہ اور دلدار سے چھوٹی ہے یہ اندر سے بہت چالاک ہے مگر
شو نہیں کرتی اس کے شوہر جاب کرتے ہیں پرائیویٹ جاب ہونے کی وجہ اس کو زیادہ وقت
نہیں دے پاتے اس لئے یہ پیاسی رہتی ہے مگر کبھی بھی کسی دوسرے مرد کے بارے میں
نہیں سوچا اس لئے خود کو انگلی کر کے ٹھنڈا کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
یہ
بھی اپنے بھائی بہنوں اور اپنے خاندان سے پیار کرتی ہے ہیرو کے لیے اس کے دِل میں
بہت جگہ ہے
۔ ۔ ۔
عمران :
عمر
48 سال صابرہ کے شوہر ۔ ۔ ۔
پرائیویٹ
جاب کرتے ہیں زیادہ وقت اپنی جاب کو ہی دیتے ہیں کیونکہ ان کے کاندھوں پر ہی بوجھ
ہے فیملی کا ۔ ۔ ۔
راحیلہ :
عمر
22 سال ہے ایم ایس سی کر رہی ہے ۔ ۔ بہت خوبصورت اپنی ماں کی طرح ٹھنڈے مزاج کی اور پڑھائی پر ہی فوکس کرتی ہے
اسے کچھ اور نہیں سوجھتا پڑھائی کے علاوہ حالاںکہ یہ فیملی کو بہت پیار کرتی ہے
مگر باتیں کم کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ثنا :
عمر
20 سال بی اے کر رہی ہے اپنی ماں بہن کی طرح یہ بھی خوبصورت ہے نیچر سے مست ہے دوستوں
کے ساتھ ہنسی مذاق کرتی ہے اور فیملی میں بھی سب کا دِل لگا کر رکھتی ہے اس کی سب
سے زیادہ بنتی ہے اپنی خالہ کی بیٹی ناہیدہ سے دونوں خوب مستی کرتے ہیں اور ہیرو
کو بھی چھیڑتے ہے جب بھی موقع ملے ۔ ۔ ۔ ۔
نگہت :
عمر
36 سال ہے خوبصورتی کے معاملے میں چاند کے جیسی کسی کو بھی دیوانہ بنا دے نیچر سے
بہت ہی سلجھی ہوئی اور سلیقہ مند ہے ۔ ۔ ۔
یہ
ہیرو سے نفرت کرتی ہے جس کی ایک خاص وجہ ہے ۔ ۔ ۔
ہیرو
کو منحوس مان کر یہ کبھی اس کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتی اسی لیے میکے نہیں جاتی
تاکہ وہ سامنے نہ آ جائے ۔ ۔ ۔
اس
کا بس چلے تو اسے گھر سے نکل دے حالاںکہ بڑی بہنوں اور بھائیوں کی وجہ سے کچھ کہہ
نہیں سکتی
۔ ۔ ۔
کبھی
یہ بہت چلبلی ہوا کرتی تھی مگر آج یہ مکمل تبدیل ہو چکی ہے اس کی وجہ ہیرو سے جڑی
ہے ۔ ۔ ۔
اس
کی ایک ہی بیٹی ہے جسے یہ دلوں جان سے چاہتی ہے بس اپنی بیٹی کے آگے یہ سب بھول
جاتی ہے
۔ ۔ ۔ ۔
اس
کے شوہر بیرون ملک نوکری کرتے ہیں سال میں ایک مہینے کے لیے آتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔
نگہت
اپنے آپ کو اپنے اندر کہیں کھو بیٹھی ہے شوہر باہر رہتا ہے مگر پھر بھی اسے کوئی
فرق نہیں پڑتا نہیں کسی مرد کی کبھی ضرورت محسوس کرتی ہے ۔ ۔ ۔
شاہد :
عمر
42 سال بیرون ملک پیسہ کمانے گئے تھے مگر وہاں ایسے الجھے کہ واپس جانا بھول سے
گئے جب بھی جاتے ہیں ایک مہینے کے اندر واپس آ جاتے ہیں جس کی وجہ وہاں کی رنگین
دنیا بھی ہے ۔ ۔ ۔
مہرین :
یہ
ہے ہماری ہیروئن عمر 18
سال خوبصورت اتنی کہ دیکھنے والا خود کو ہی بھول جائے چہرے پر دنیا بھر کی معصومیت
۔ ۔ ۔ ۔
اپنی
ماں پر گئی ہے نیچر سے بہت ہی معصوم ہے مگر اپنی ماں نگہت کی وجہ یہ بھی ہیرو سے
نفرت کرتی ہے جسم بہت ہی قاتلانہ ہے مگر معصومیت ایسی ہے کہ چہرے سے نظریں نہیں
ہٹتی تو جسم کوئی کیا دیکھے ۔ ۔ ۔
شیرو :
یہ
ہے اپنا ہیرو عمر 18
سال بچپن سے اپنے نانا کے گھر ہی پلا بڑا اس نے اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا نہ ہی
اپنے نانا نانی کو اپنی بڑی مامی نائلہ سے بہت پیار کرتا ہے ۔ ۔ ۔
شیرو
کے لیے نائلہ ہی اس کی ماں ہے جتنا پیار نائلہ نے اسے دیا ہے کبھی کبھی یہ سوچتا
ہے کہ اس کی اپنی ماں بھی شاید اسے اتنا پیار نہ دے پاتی ۔ ۔ ۔ ۔
تینوں
ماموں اسے پیار کرتے ہیں بڑے ماموں سرور تو اس کے لیے باپ کی جگہ ہی ہیں مگر دلدار
ماموں اپنی بِیوِی کی وجہ سے اسے زیادہ پاس نہیں آنے دیتے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو
ٹھنڈے مزاج کا مالک اور ہینڈسم ہے ۔ ۔ ۔
نائلہ
اکثر ہی کہتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
تمہاری
آنکھیں اپنی ماں پر گئی ہیں اور اسی کی طرح گورا رنگ ہے ۔ ۔ ۔
شیرو
فیملی کے کئی ممبرز کے برتاؤ کی وجہ سے حیران تو ہے مگر کبھی جان نہیں پایا کہ اس
کی وجہ کیا ہے حالاںکہ اس کے من میں کسی کے لیے کوئی میل نہیں ۔
۔ ۔
کبھی
کبھی دیبا مامی کے جلے کٹے الفاظوں سے اس کا دِل ضرور ٹوٹ جاتا ہے مگر پھر نائلہ
کا پیار اور محبّت اسے سب بھول جانے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ ۔
۔
گاؤں
میں اس کے زیادہ دوست نہیں ہیں جس کی وجہ اس کا مزاج کافی اچھا ہے مگر گاؤں کی کئی
لڑکیاں اس سے دوستی کرنے کو ترستی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
سب
کو عزت دیتا ہے اس لئے ہر کوئی کہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
بیٹا
ہو تو شیرو جیسا مگر دوسری اور کئی عورتیں دیبا سے سن سن کر اسے منحوس ہی مانتی
ہیں اور اپنے بچوں کو اس سے ملنے سے مانا کرتی ہیں نتیجہ کالج میں آج تک کوئی اسے
دوست بنانا نہیں چاہتا ۔ ۔ ۔ ۔
اِس
سال کالج سے انٹر پاس کر کے اب آگے کی پڑھائی کے لیے شہر جانا چاہتا ہے مگر یہ
جانتا ہے کہ کوئی اسے پڑھنے شہر نہیں جان دے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیوںکہ
کرنی تو کھیتی باڑی ہی ہے یہی سوچ کر تو ماموں نہیں پڑھے تو وہ شیرو کو کیوں پڑھنے
دیں گے ویسے بھی نائلہ شیرو کو خود سے دور نہیں ہونے دیتی ایک دن بھی ۔
۔ ۔
اکیلا
ہونے کی وجہ سے شیرو نے اپنا وقت کھیل کود کے بجائے کھیتوں اور گاؤں کے اکھاڑوں
میں گزارا ہے گھر کے اپنے مال مویشی ہونے اور کھانا پینا اچھا ہونے سے آج شیرو 18
سال کا ہو کر بھی 23 سال کا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
جسم
کی بناوٹ کسی پہلوان کی طرح مگر مزاج سے ایک دم ٹھنڈا ۔ ۔ ۔ ۔
اس
کی بس ایک ہی آرزو ہے کہ اس کے ماتھے سے منحوس ہونے کا جو داغ ہے وہ مٹ جائے ۔
۔ ۔
راجو :
گاؤں
میں شیرو کا ایک گہرا دوست عمر 19 سال ۔
۔ ۔ ۔
خود
کو بہت تیس مار خان سمجھتا ہے مگر ہے بدھو ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو
کے ساتھ وقت گزرتا ہے اور گاؤں کی ہر خبر اس کے پاس ہوتی ہے ۔
۔ ۔
لڑکیوں
کو تارتا رہتا ہے شیرو سے دوستی کروانے کے نام پر لڑکیوں سے خود دل لگی کرتا ہے ۔
۔ ۔ ۔
مگر
ہے ڈرپوک
۔ ۔ ۔ ۔
مہوش :
جب
سے شیرو کو دیکھا ہے تب سے اسی پر مرتی ہے مگر شیرو اسے منہ نہیں لگاتا شیرو کے
لیے اس نے راجو سے دوستی کر رکھی ہے اِس لیے کبھی کبھی شیرو اس سے بات کر لیتا ہے
مگر بس ضرورت کے ہی سلیقے کے ساتھ ۔ ۔ ۔
مہوش
رنگ سے تو زیادہ گوری نہیں مگر جسم سے زبردست ہے ۔ ۔ ۔
یہ
شیرو پر مرتی ہے مگر وہ تو دیکھتا بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
کہانی
میں اور بہت سے کردار آئیں گے جن کا وقت کے ساتھ ساتھ تعارف ہوتا جاۓ
گا ۔ ۔ ۔
فی
الحال کہانی کہ ابھی تک یہی کردار ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو
صبح کی کثرت کر کے اور اکھاڑے میں پسینہ بہانے کے بعد گھر واپس آ رہا تھا راستے
میں اسے راجو مل گیا پورے گاؤں میں راجو ہی شیرو کا خاص دوست تھا یا یوں کہیں
اکلوتا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
راجو :
جانے
من بہت بہت مبارک میرے یار خدا کرے تجھے میری بھی عمر لگ جائے ۔
۔ ۔
شیرو :
شکریہ
میرے یار ۔
۔ ۔
کمینے
تجھے معلوم تھا کہ آج میری پیدائش کا دن ہے ؟
راجو :
کیسی
بات کرتا ہے کمینے مجھے نہیں پتہ ہوگا تو کس کو پتہ ہوگا وہ چھوڑ بتا آج پارٹی
کہاں اور کیسے دے گا۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
یار
تو جو بولے گا جیسے بولے گا ویسے پارٹی کریں گے مگر آج نہیں کل تجھے تو پتہ ہے آج
گھر پر نانا نانی کی برسی ہوتی ہے تو ان کا سوگ مناتے ہیں سب ایسے میں میری سالگرہ
منانا اچھا نہیں لگتا ۔ ۔ ۔ ۔
راجو :
ٹھیک
ہے ٹھیک ہے وہ میں جانتا ہوں مگر کل کوئی بہانہ نہیں چلے گا ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
ہاں
ہاں کل پارٹی پکا ویسے بھی ابھی تو چھٹیاں ہیں بول کہاں کرنی ہے پارٹی ۔
۔ ۔ ۔
راجو :
گاؤں
میں تو ڈھنگ کی کوئی جگہ ہے نہیں میں سوچ رہا تھا کل فلم دیکھنے شہر چلے اُدھر ہی
کھا پی کر موج کر کے واپس آ جائیں گے شام تک ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
یار
کمینے مرواے گا کیا تجھے پتہ ہے اما مجھے کہیں جانے نہیں دیتی اور تو شہر جانے کی
بات کرتا ہے ۔ ۔ ۔
راجو :
دیکھ
بھائی اب تو پلٹی مت مار سال میں ایک دن تو آتا ہے اُس پر بھی تجھے بہانے سوجھتے ہیں
میں کچھ نہیں سنوں گا کل شہر چل رہے ہیں تو بس چل رہے ہیں ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
یار
تو سمجھتا نہیں ۔ ۔ ،
اما
سے کیا کہوں گا کیوں جانا ہے شہر ۔ ۔ ۔
راجو :
وہ
تو سوچ مجھے کچھ نہیں پتہ ۔ ۔ ۔
شیرو :
چل
کوئی راستہ نکلتا ہوں مگر اگر ماں نہیں مانی تو پھر میں کچھ نہیں کر سکتا پہلے ہی
بول رہا ہوں ۔ ۔ ۔
راجو :
مجھے
کچھ نہیں سننا اگر مجھے دِل سے دوست مانتا ہے تو۔ ۔ ۔ تو کل شہر چلے گا ورنہ میں سمجھوں گا میری کوئی قیمت نہیں تیری نظر میں۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
ایک
ٹھپر دوں گا منہ پر کچھ بھی بکواس کرتا ہے چل میں کرتا ہوں کچھ ۔
۔ ۔
راجو :
ہا
ہا ہا ہا ۔ ۔ ۔ قسم سے یار تو جب ایسے غصہ کرتا ہے بڑا مزہ آتا ہے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
دوں
کیا کان کے نیچے فل مزا آئے گا ۔ ۔ ۔
راجو :
اوے
نہیں پہلوان مجھے ابھی اپنے لیے لڑکی پٹانی ہے تو ۔ ۔ ۔ تو کنوارہ مرے گا مگر مجھے
تو شادی کرنی ہے میرا اتنا خیال رکھا کر ۔ ۔ ۔
شیرو :
چل
چل ڈرامہ بند کر اب دیر ہو رہی ہے گھر بھی جانا ہے اما رستہ دیکھ رہی ہوگی ۔
۔ ۔
راجو :
ٹھیک
ہے چل ۔ ۔ ۔
پھر
دونوں گھر کی طرف چل پڑتے ہیں دونوں کے گھر پاس میں ہی ہیں ۔
۔ ۔ ۔
تھوڑی
دیر میں شیرو گھر پہنچ جاتا ہے گھر میں سب تیار بیٹھے تھے اور عامل صاحب کا انتظار
کر رہے تھے تینوں بھائیوں نے سفید کپڑے پہنے تھے آج کے دن گھر میں عامل صاحب سے
کچھ پڑھواتے ہیں اپنے ماں باپ کے لیے ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو
چُپ چاپ گھر میں گھستا ہے اور جلدی سے صحن کی سائڈ میں نکل کر سیڑھیاں چڑھ کر اپنے
روم میں جاتا ہے تیار ہونے ۔ ۔ ۔ ۔
اس
وقت اکھاڑے کی مٹی اور پسینے کی بدبو اس کے جسم سے آ رہی تھی ۔
۔ ۔ ۔
جلدی
سے کمرے میں جا کر کپڑے اُتَار کر باتھ روم میں گھس جاتا ہے نہانے كے لیے ۔
۔ ۔
نہانے
کے بعد ٹاول باندھ کر روم میں آتا ہے تو سامنے بیڈ پر سفید قمیض شلوار دیکھ کر
سمجھ جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ
اما نے آج کے لیے رکھے ہے اور جلدی سے کپڑے پہن کر کمرے سے باہر نکل آتا ہے سیدھا
اما کے کمرے میں جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
نائلہ
:
آ
گیا میرا لال
(
کہہ کر سیدھا شیرو کو گلے لگا لیتی ہے اور اپنی ممتا کی
برسات اس پر کرتے ہوئے اسکے ماتھے کو چُومتی ہے )
نائلہ :
جگ
جگ جیو میرے لال ہمیشہ خوش رہو تجھے میری بھی عمر لگ جائے سالگرہ مبارک ہو ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
نہیں
اما آپ کی عمر نہیں چاہیے مجھے میں تو ساری عمر آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں ۔
۔ ۔ ۔
نائلہ :
خوش
رہو بیٹا
۔ ۔ ۔ ۔
آج
اتنی دیر کہاں لگا آیا میں کب سے تیرا انتظار کر رہی تھی تجھے تو پتہ ہی ہے آج گھر
پر عامل صاحب بھی آئیں ہے اور بتا آج تجھے کیا چاہیے سالگرہ پر ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
ارے
اما مجھے سب یاد ہے وہ بس راستے میں راجو مل گیا تھا بس باتوں میں تھوڑا لیٹ ہوگیا ۔
۔ ۔ ۔
اور
مجھے کچھ نہیں چاہیے سالگرہ پر سب تو ہے میرے پاس پھر کیا مانگوں ۔
۔ ۔ ۔
نائلہ :
بیٹا
تو آج 18
سال کا ہو گیا ہے کچھ تو تیرے دِل میں آتا ہوگا کوئی تو خواہش ہوگی تیری بتا کیا
چاہیے تجھے ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
نہیں
اما مجھے کچھ نہیں چاہیے بس آپ کا پیار چاہیے ہمیشہ ہمیشہ ۔
۔ ۔ ۔ ۔
نائلہ
اتنا سن کر پھر سے گلے لگا لیتی ہے شیرو کو اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دِل
میں سوچتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
قدرت
نے شاید اسی لیے اسے ماں نہیں بنایا کیوںکہ شیرو میرے لیے ہی تو بھیجا ہے اوپر
والے نے
۔ ۔ ۔ ۔
نائلہ :
چل
جلدی کر عامل صاحب آنے والے ہیں اور جا کر پہلے اپنے بابا سے باقی سب سے مل لے سب
سے دعائیں لے لے ۔ ۔ ۔
شیرو :
جی
اما میں ابھی جا رہا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
پھر
شیرو اپنے بابا یعنی سرور صاحب کے پاس جاتا ہے ۔ ۔ ۔
شیرو :
بابا
سلام ۔ ۔ ۔ ،
دعائیں
دیجیئے مجھے کے آپ کا نام روشن کروں ۔ ۔ ۔
سرور :
آ
گیا میرا شیر جگ جگ جیو خوب ترقی کرو ۔ ۔ ۔ ،
تجھے
دیکھتا ہوں تو سینہ چوڑا ہو جاتا ہے میرا شان سے ۔ ۔ ۔
پورے
گاؤں میں کیا آس پاس کے کسی بھی گاؤں میں تمھارے جیسا ہونہار اخلاقی لڑکا کوئی
نہیں ۔ ۔ ۔
شیرو :
بابا
یہ سب آپ کی اور اما کی دعائیں ہے میں جو بھی ہوں سب آپ کی ہی محنت اور نیک
تمنائیں ہے
۔ ۔ ۔ ۔
سرور :
جیتے
رہو بیٹا
۔ ۔ ۔
بتا
آج کیا چاہیے میرے شیر کو سالگرہ پر ۔ ۔ ۔
شیرو :
ارے
نہیں بابا سب تو ہے میرے پاس پھر کیا مانگوں ۔ ۔ ،
مجھے
کچھ نہیں چاہیے بس آپ میرے سَر پر اپنا ہاتھ رکھو اور کچھ نہیں چاہیے۔ ۔
۔
سرور :
مجھے
پتہ ہے تو یہی کہتا رہے گا مگر میں نے جو سوچا ہے وہ میں ضرور دوں گا ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
بابا
آپ یونہی سوچ رہے ہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ ۔ ۔ ۔
سرور :
وہ
چھوڑ جا جلدی پہلے سب سے مل لے عامل صاحب بس آ رہے ہیں پھر پڑھنا پڑھانا شروع ہو
جاۓ
گا اور بیٹھنا ہے تجھے ہمارے ساتھ ۔ ۔ ۔
شیرو :
جی
بابا میں ابھی جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
پھر
شیرو اپنے منجھلے ماموں کے پاس جاتا ہے جو آج کی برسی کی تیاری کر رہے تھے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
آداب
ماموں جی
۔ ۔ ۔ ۔
دلدار :
ارے
بیٹا جیتے رہو سدا خوش رہو بتا کیا چاہیے تجھے سالگرہ پر ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
ارے
ماموں جان بس آپ کی نیک تمنائیں ہی کافی ہے اور کچھ نہیں چاہیے ۔
۔ ۔
دلدار :
ایسے
کیسے نہیں چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔
اتنا
کہہ کر اپنی جیب سے کچھ روپے نکل کر شیرو کی جیب میں ڈال دیتا ہے شیرو منع کرتا ہے
مگر دلدار زبردستی پیسے دے دیتا ہے ۔ ۔ ۔
پھر
شیرو اپنے چھوٹے ماموں بختیار کے پاس جاتا ہے جو کہ ابھی اپنے کمرے میں ہی تھا ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
آداب
ماموں جی
۔ ۔ ۔ ۔
بختیار :
آ
گیا میرا شیر سالگرہ مبارک ہو بول آج کیا تحفہ چاہیے تجھے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
ارے
ماموں جی کیا پہلے آپ نے کوئی کمی رکھی ہے جو مانگوں کچھ ۔ ۔ ۔ ۔
بختیار :
ارے
اب تو جوان ہوگیا ہے آج 18
سال کا ہوگیا ہے بتا کیا چاہیے کچھ بھی مانگ لے ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
ارے
نہیں ماموں جی کتنا بھی بڑا ہو جاؤں رہوں گا تو آپ کا بچہ ہی ۔
۔ ۔
تبھی
بختیار کی بِیوِی یعنی کہ ماہرہ آ جاتی ہے اور ہنستے ہوئے کہتی ہے :
چھوٹی
مامی :
آج
تو گاؤں کی سب لڑکیاں مر ہی جائیں گی ہمارے ہیرو کو دیکھ کر ۔ ۔
۔
خیر
نہیں کسی کی آج ۔ ۔ ۔ ،
میں
تو کہتی ہوں آج آپ شیرو کو گھر سے باہر ہی نہ جانے دینا کیا پتہ کس کی لڑکی اسے
دیکھ کر بے ہوش ہو گئی تو آپ کو ہی بولیں گے سب گاؤں والے کے بانجھے کو سنبھل کر
رکھو ۔ ۔ ۔ ۔
چھوٹی
مامی :
ہیپی
برتھ ڈے شیرو منی منی ہیپی ریٹرنس آف تھے ڈے ۔ ۔ ۔
اور
تو اپنے ماموں کی جیب ڈھیلی کروا دِل کھول کر ۔ ۔ ۔
تجھ
سے خرچ نہیں ہوں گے تو میں کر لوں گی ۔ ۔ ۔ ۔ ہا ہا ہا ہا ہا
شیرو :
تھینکس
مامی جی مگر آپ ایسے ہی میری ٹانگ کھیچتی رہتی ہو لڑکیوں کی بات کر کے مجھے نہیں
دیکھنا کسی کو ۔ ۔ ۔
اور
پیسے میرے پاس پہلے ہی ہیں آپ سب دیتے رہتے ہیں مگر میں خرچ کروں بھی تو کہاں ایسے
ہی پڑے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
چھوٹی
مامی :
(
حیرانی سے
)
کیا
۔ ۔ تو پیسے خرچ نہیں کرتا ۔ ۔ ۔
ارے
بدھو ہم تجھے دیتے ہیں خرچ کرنے کو اور تو ایسے رکھے رہتا ہے چل بچو اب میں بتاتی
ہوں تجھے کہ خرچ کیسے کرتے ہیں اگلے ہفتے۔ ۔ ۔ ۔
تجھے
شہر لے جا کر شاپنگ کرواتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔
بختیار :
لے
جانا لے جانا اور جتنا پیسہ چاہیے ہو میری جیب سے لے جانا مگر ابھی باتیں چھوڑو
عامل صاحب آ رہے ہوں گے چلو جلدی۔ ۔ ۔ ۔
پھر
تینوں کمرے سے نکل کر صحن میں آنے لگتے ہیں تو شیرو دیبا مامی سے ملنے کا بول کر
ان کے کمرے کی طرف نکل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کمرے
کا دروازہ کھلا تھا شیرو جیسے ہی کمرے میں گھسنے لگتا ہے اچانک وہ دیبا سے ٹکرا
جاتا ہے جس کی وجہ سے دیبا گر جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ،
دیبا
کے ہاتھ میں برتن پکڑے تھے جو دیبا کے اوپر ہی گر جاتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔
اور
اس کے کپڑے گندے ہو جاتے ہے ۔ ۔ ۔ ،
دیبا
اِس سب سے اچانک غصے میں آ جاتی ہے اور کہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
دیبا :
اندھا
ہے کیا دیکھ کر نہیں چل سکتا میرے کپڑے خراب کر دیئے کتنی بار کہا ہے صبح صبح اپنی
منحوس شکل مجھے مت دکھایا کر ۔ ۔ ۔ ۔ ،
جب
بھی سامنے آتا ہے کچھ نہ کچھ نقصان ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
پتہ
نہیں کب پیچھا چھوٹے گا منحوس سے ۔ ۔ ۔
شیرو
یہ سن کر دُکھی ہو جاتا ہے وہ تو نیک تمنائیں لینے آیا تھا اور یہ کیا ہوگیا اس کی
اپنی غلطی ہے کیوں اتنی جلدی میں آیا کیا ہو جاتا دیکھ کر آرام سے چلنا چاہیے تھا ۔
۔ ۔
شیرو :
مامی
جی غلطی ہوگئی معاف کر دیجیئے میں تو آپ سے دعائیں لینے آیا تھا آج پیدائش کا دن
ہے میرا
۔ ۔ ۔ ۔
دیبا :
(
غصے سے
)
غلطی
ہوگئی ۔ ۔ ۔ ارے غلطی تو ہم سے ہوئی ہے کہ تجھے اِس گھر میں لے آئے زندگی جہنم بنا
دی تو نے میری ۔ ۔ ۔ ۔
اور
کون سا دن کیسی دعائیں اپنی پیدائش کے دن پر ہی اپنے نانا نانی کو اور اپنے ماں
باپ کو کھا گیا ۔ ۔ ۔
اور
مجھ سے دعائیں مانگ رہا ہے منحوس کہیں کا ۔ ۔ ۔ ۔
یہ
بات سن کر جیسے شیرو کا کلیجہ پھٹ گیا جیسے اس کے کانوں میں کسی نے جلتا ہوا تیل
ڈال دیا ہو اس کی آنكھوں سے آنسوں بہنے لگتے ہیں منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا اس کی
ٹانگیں جیسے اس کا اپنا ہی وزن اٹھانے میں ناکام ہو رہی تھی ۔
۔ ۔ ۔
اس
کا دِل کیا کہ ابھی اسے زمین نگل لے یہ سب باتیں شیرو کے علاوہ کسی اور نے بھی سن
لی تھی
۔ ۔ ۔ ۔
جو
شیرو کے پیچھے ہی آ رہی تھی وہ تھی شیرو کی چھوٹی مامی ماہرہ جو دیبا کو لینے ہی آ
رہی تھی
۔ ۔ ۔ ۔
دراصل
اسے پتہ تھا کہ صبح صبح دیبا کو شیرو کا چہرہ دیکھنا پسند نہیں ۔
۔ ۔
آج
شیرو کی سالگرہ کا دن ہے کہیں دیبا کچھ اُلٹا سیدھا نہ کہہ دے اور وہی ہوا جو وہ
نہیں چاہتی تھی کہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ
بھاگ کر دیبا کو خاموش کرواتی ہے ۔ ۔ ۔
ماہرہ:
باجی
خاموش ہو جائیں پلیز گھر میں آج برسی ہے عامل صاحب آ گئے ہیں کسی نے سن لیا تو
خماخہ گھر کا ماحول بگڑ جائے گا آپ پلیز خاموش ہو جائیں ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو
تو چل میرے ساتھ اور باجی آپ جلدی آئیں باہر ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ
جانتی تھی کہ دیبا کی باتیں سن کر شیرو کے دِل پر کیا گزر رہی ہوگی بے چارہ بنا
کسی قصور کے دیبا سے ایسی جلی کٹی سنتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مگر
ابھی فی الحال اسے کسی بھی طرح سنبھالنا ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو
کو لے کر اپنے روم میں جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
شیرو
چُپ ہو جا اب تو چھوٹا بچہ نہیں پُورا گھبرو جوان ہو گیا ہے ۔
۔ ۔
کیا
اچھا لگتا ہے تیرے جیسے ہٹے کٹے پہلوان کی آنکھوں میں آنسو چُپ ہو جا ۔
۔ ۔
شیرو
تو بس آنكھوں سے آنسو بہائے جا رہا تھا منہ سے ایک الفاظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔ ۔
۔
اس
کے کانوں میں دیبا کے الفاظ گونج رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
دیکھ
آج تیری سالگرہ کا دن ہے آج کے دن کوئی روتا ہے کیا ۔ ۔ ۔ ۔
جلدی
سے چُپ ہو جا اپنا حلیہ ٹھیک کر باجی نے دیکھ لیا تو پتہ نہیں کیا ہوگا پلیز چُپ
ہو جا ۔ ۔ ۔ ۔
مگر
شیرو تو جیسے ابھی بھی انہی الفاظوں کے جال میں پھنسا ہوا تھا ۔
۔ ۔ ۔
اسے
چھوٹی مامی کی کوئی بات سنائی ہی نہیں دے رہی تھی ۔ ۔ ۔
پھر
ماہرہ شیرو کو پانی کا گلاس پیلاتی ہے ۔ ۔ ۔
چھوٹی
مامی :
شیرو
پلیز کنٹرول یور سیلف ۔ ۔ ۔
اگر
باجی نے دیکھ لیا تو ان کے دِل پر کیا گزرے گی ۔ ۔ ۔
میری
نہیں تو باجی کی پرواہ کر لے تھوڑی سی ۔ ۔ ۔ ۔
کیا
گزرے گی ان کے دِل پر تجھے یوں روتا دیکھ کر تجھے باجی کی قسم چُپ ہو جا ۔
۔ ۔
اتنا
سنتے ہی جیسے شیرو نیند سے جاگتا ہے اور اپنے آنسوں صاف کرتے ہوے کہتا ہے۔ ۔
۔ ۔
شیرو :
نہیں
مامی جی میں بالکل نہیں روؤں گا ماں کو میں دُکھی نہیں دیکھ سکتا وہ تو میرا سب
کچھ ہیں
۔ ۔ ۔ ۔
چھوٹی
مامی :
(
تھوڑا ہنس کر
)
اچھا
مطلب میں کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
واہ
بھائی واہ ہم تو یونہی سمجھ رہے تھے کہ ہم بھی ان کے اپنے ہیں اور وہ ہمیں اجنبی
کر گئے
۔ ۔ ۔ ۔
اتنا
سنتے ہی شیرو کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے وہ جانتا تھا کہ ۔
۔ ۔ ۔
مامی
ایسے ہی ہنسی مذاق کرتی ہے سب سے ۔ ۔ ۔
اِس
لیے شیرو مسکرا کر کہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
ایسے
مت کہو مامی جی آپ تو میری سب سے خاص ہیں بالکل میری دوست کی طرح ہو ۔
۔ ۔
اما
کے بعد آپ ہی تو ہیں جو میرا اتنا خیال رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
چھوٹی
مامی :
بس
بس مکھن مت لگا جلدی حلیہ ٹھیک کر عامل بابا آ گئے ہیں جلدی چل ورنہ تیرے ساتھ
مجھے بھی ڈانٹ پڑے گی چل جلدی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پھر
حلیہ ٹھیک کر کے شیرو اور ماہرہ عامل صاحب کے پاس آ جاتے ہیں جہاں سب پہلے ہی
بیٹھے تھے دیبا کو چھوڑ کر ۔ ۔ ۔
نائلہ :
ارے
چھوٹی دیبا کہاں رہ گئی اسے بلا تو جلدی شروعات ہونے والی ہے ۔
۔ ۔ ۔
اتنے
میں دیبا بھی آ جاتی ہے عامل بابا عمل شروع کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔
۔ ۔
اس
کے ساتھ ہی شیرو سر درد کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے سونے کے لیے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو
اپنے کمرے میں سو رہا تھا تینوں بھائی اپنے اپنے کام پر نکل گئے ۔
۔ ۔ ۔
اس
کے بعد تینوں عورتیں مل کر دوپہر کا كھانا بنانے لگتی ہیں ۔
۔ ۔
نائلہ
کے من میں شیرو کی طبیعت کی وجہ سے کافی پریشانی تھی اس لیے وہ دیکھنے جاتی ہے اس
کے کمرے میں مگر شیرو سو رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔
نائلہ
دور سے ہی اسے سوتا دیکھ کر لوٹ آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
وہیں
ماہرہ کے من میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ ۔ ۔ ۔
آخر
کیا وجہ ہے جو دیبا اتنی نفرت کرتی ہے شیرو سے ۔ ۔ ۔ ۔
من
ہی من اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ پتہ لگا کر رہے گی ۔ ۔ ۔ ۔
پہلے
بھی کئی بار اس نے پوچھا تھا مگر کبھی سہی جواب نہیں ملا کوئی تو بات ضرور ہے جو
دیبا اتنا کوستی ہے شیرو کو ۔ ۔ ۔
ورنہ
شیرو اتنا پیارا ہے کہ کوئی اس سے نفرت کر ہی نہیں سکتا اتنے معصوم لڑکے کو آخر
دیبا کیوں منحوس بول بول کر اتنی نفرت پیدا کرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اچانک
اس کے ذہن میں آتا ہے کہ شیرو کو آج بہت برا لگا تھا بےچارہ کسی سے اپنے من کی بات
کہہ بھی تو نہیں سکتا کتنا درد تھا آج اس کی آنكھوں میں ۔ ۔ ۔ ۔
کہیں
کسی دن کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے اُسی کی وجہ سے گھر میں تھوڑی بہت رونق ہے اگر اس
نے کچھ غلط کر لیا تو ہم سب کا کیا ہوگا ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
(
خود سے
)
نہیں
نہیں میں اسے ایسا نہیں کرنے دوں گی ۔ ۔ ۔
میں
اسے سمجھاؤں گی اس کا کوئی دوست نہیں میں اس کی دوست بنوں گی ۔
۔ ۔
اس
کے من کو پڑھنا ہوگا اور اسے سمجھانا ہوگا۔ ۔ ۔
اتنا
سوچ کر ماہرہ اِرادَہ کر لیتی ہے کہ اب سے وہ شیرو کے ساتھ دوست بن کر رہے گی ۔
۔ ۔
تاکہ
وہ اپنے من سے ساری باتیں باہر نکال سکے ۔ ۔ ۔
دوپہر
کا كھانا بنا کر فری ہو کر ماہرہ پہلے دیبا کے پاس جاتی ہے تاکہ سچ جان سکے مگر
اِس بار بھی دیبا کوئی سہی جواب نہیں دیتی ۔ ۔ ۔ ۔
پھر
وہ اُٹھ کر شیرو کو دیکھنے جاتی ہے ابھی تک شیرو دوپہر کا كھانا کھانے بھی نہیں
نکلا تھا کمرے سے ۔ ۔ ۔ ۔
جب
ماہرہ شیرو کے کمرے میں جاتی ہے دیکھتی ہے شیرو آنکھیں بند کئے سو رہا ہے وہ واپس
پلٹتے کو ہوتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
اس
کا دھیان شیرو کی آنکھوں پر جاتا ہے اس کی پلکیں تھوڑی گیلی تھی۔ ۔
۔
مطلب
کہ وہ رو رہا تھا یعنی کہ وہ سویا نہیں ہے سونے کا ناٹک کر رہا ہے ۔
۔ ۔
ایک
دم سے ماہرہ دروازہ بند کر کے شیرو کے پاس بیڈ پر بیٹھ جاتی ہے اور اسے آواز دیتی
ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
واہ
جی واہ جناب لمبی تان کے سوئے پڑے ہیں برتھ ڈے کی پارٹی دینے کے بجائے بہانہ بنا
کر نیند پوری کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ ،
چل
چل بہت ہو گیا ڈرامہ مجھے پتہ ہے تو جاگ رہا ہے ۔ ۔ ۔
اتنا
کہہ کر وہ شیرو کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
مگر
شیرو کوئی جواب نہیں دیتا اسے لگتا ہے اگر وہ جواب نہیں دیے گا تو خود ہی چھوٹی
مامی لوٹ جائے گی مگر ماہرہ تو جان گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
چل
اٹھ بھی جا میرے شیر اور مجھے پارٹی دے میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گی ۔
۔ ۔
یہ
ڈرامہ باجی کے آگے کرنا مجھے پتہ ہے تو جاگ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
یہ
سن کر شیرو سوچتا ہے کہ مامی کو کیسے پتہ چلا مگر پھر سوچتا ہے کہ ایسے ہی بول رہی
ہوگی ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
اٹھتا
ہے یا باجی کو بلا کر لاؤں اور وہ خود دیکھ لے کہ ان کا لاڈلا سالگرہ کے دن پر رو
رہا ہے
۔ ۔ ۔ ۔
اتنا
سن کر شیرو ایکدم اٹھ جاتا ہے ۔ ۔ ۔
شیرو :
نہیں
نہیں مامی جی اما کو مت بلانا ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
پھر
رو کیوں رہا ہے تجھے سمجھایا تھا نہ میں نے پھر بھی تو بچوں کے جیسے روئے جا رہا
ہے ۔ ۔ ۔ ۔
اگر
باجی کی اتنی ہی فکر ہے تو خود کو سنبھلتا کیوں نہیں اگر انہیں پتہ چلا تو کیا
گزرے گی ان پر۔ ۔ ۔ ۔
شیرو :
تو
آپ ہی بتاؤ مامی جی میں کیا کروں آخر میرا قصور کیا ہے جس کی مجھے اتنی سزا دی جا
رہی ہے
۔ ۔ ۔ ۔
کیوں
دیبا مامی مجھے منحوس کہتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کیوں
مجھے ایسا بولتی ہے کیوں وہ میرا چہرہ دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ۔
۔ ۔
میں
نے تو ہمیشہ انہیں ماں کی طرح ہی عزت دی ہے پھر کس لیے میرے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا
ہے ۔ ۔ ۔
میرا
دِل کرتا ہے میں مر جاؤں یا کہیں دور چلا جاؤں جہاں کوئی مجھے پہچان بھی نہ سکے ۔
۔ ۔ ۔
اتنا
کہہ کر شیرو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتا ہے اور ماہرہ آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا کر
چُپ کرواتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
کبھی
سوچا ہے تیرے جانے کے بعد باجی کا کیا ہوگا ۔ ۔
جس
کا دن شروع نہیں ہوتا تیرے بغیر جس کو نیند نہیں آتی جب تک تو نہ سو جائے جو ہر
وقت تیرے بارے میں ہی سوچتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ ،
کیا
ہوگا جنہیں تو بابا کہتا ہے جو آج تجھے دیکھ کر سینہ چوڑا کئے پھرتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔
کیا
ہوگا تیرے دلدار ماموں تیری چھوٹے ماموں کا اِس گھر کی خوشیوں کی ذرا بھی پرواہ
نہیں تجھے
۔ ۔ ۔ ۔
تو
اتنا سیلفش کب سے ہوگیا کبھی سوچا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھ
پر کیا گزرے گی کہ میں سب جان کر بھی چُپ رہی اور تجھے سمجھا نہیں پائی ۔
۔ ۔
ارے
غصہ ناراضگی تو ہر رشتے میں ہوتا ہے مگر ہمیں تو اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
۔ ۔ ۔
اس
طرح دور چلے جانے سے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
وہ
انسان ہی کیا جو دوسروں کی غلطی کو معاف نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ ۔
اور
تو ۔ ۔ ۔ تو اتنا سمجھدار ہے پھر بھی ایسی باتیں کر رہا ہے ۔
۔ ۔ ۔
شیرو :
(
روتے ہوئے
)
میں
بھی تو انسان ہوں مامی جی پتھر تو نہیں جب سے ہوش سنبھالا ہے دیبا مامی نے کبھی
ہنس کر مجھ سے ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔ ۔ ۔ ۔
ہر
وقت بس نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے کب تک میں برداشت کروں آخر کب وہ مجھے ہنس
کر گلے لگاے گی ۔ ۔ ۔ ۔
کب
مجھے اپنا بیٹا کہے گی آخر میرا گناہ کیا ہے کم سے کم اتنا تو بتا دے ۔
۔ ۔ ۔
پھر
چاہے جان بھی لے لے مجھے غم نہ ہوگا ۔ ۔ ۔
ماہرہ :
یہی
تو میں بھی جاننا چاہتی ہوں کہ آخر وجہ کیا ہے ۔ ۔ ۔
ویسے
تو دیبا باجی دِل کی اتنی اچھی ہیں پھر کیوں تمھارے ساتھ ہی اتنا برا سلوک کرتی
ہیں ۔ ۔ ۔
اور
جب بھی وجہ پوچھوں بتاتی بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔
کون
بتا سکتا ہے آخر وجہ کیا ہے بڑی باجی کو بھی کچھ نہیں پتہ آخر ایسا کیا راز ہے ۔
۔ ۔ ۔
خیر ۔
۔ ۔ ۔ ۔
وہ
سب چھوڑ اور تو آج صبح کہہ رہا تھا کہ ۔ ۔ ۔
تیرے
دوست نہیں اور تو مجھے دوست سمجھتا ہے تو چل آج سے ہم دوست بن جاتے ہیں ۔
۔ ۔ ،
بول
کرے گا دوستی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
romantic urdu bold novels
new urdu bold novels
urdu bold novels list
most romantic and bold urdu novels list
husband wife bold urdu novels
bold romantic urdu novels kitab nagri
hot and bold urdu novels pdf
most romantic and bold urdu novels
most romantic and bold urdu novels list pdf